Blog

ہرن کی فریاد : نصیرلعل

میں اپنی پُرمسرت زندگی میں کتنا خوش تھا۔جہاں میں ہر آنے والے  موسم کا لطف اٹھاتا تھا۔ نہ غم کا سایہ نہ مصیبتوں کی بوجھ، بس اپنی دنیا میں  مگن تھا۔ پہاڑوں میں ٹکراتے ہوئے ہوا مجھے چوکر جیسے کوئی ہرنی مجھے چو رہی ہو۔ بارش کی بوندیں میرے جسم پر پڑتی تو جیسے میرے اندر ایک تازہ دم بھرتے۔

جب موسمِ بہار آتی میں سبزہ زار کا مزہ چُراتا تھا۔ موسمِ گرما کی آمد میں ندی کی جرنوں میں خوب لطف انداز ہوا کرتا تھا۔سردی میں سورج کی کرنوں سے دھوپ کا مزا لیتا تھا۔ اور موسمِ خزاں میں درختوں سےگرتے ہوئے  پتوں کی آواز میرے کانوں میں سُریلے دھن کی مانند بجتی تھی۔

ایک دن میں پہاڑی کے دامن میں اپنا پیاس بجھا رہاتھا تو مجھے خوف ناک آہٹ  محسوس ہوئی۔ ای اثنا میں کسی بھاری آواز نے پہاروں کو سر پر اٹھا لیا۔ تو کیا دیکھتا  ہوں کہ میرے قریب ایک ہرنی خون سے لت پت تڑپ رہی ہے۔  اس کی آنکھوں میں میں نے  درد اور تکلیف دیکھ کر میری روح کانپ اٹھا۔

جیسے میں نے پیچھے دیکھا تو ایک شکاری کندھے پر بندوق لٹکا کر تڑپی ہوئی ہرنی کی جانب بڑھ رہا تھا۔  شکاری کی  سرخ آنکھیں دیکھ کر میں ڈر کے مارے بھاگ نکلا۔ بھاگتے بھاگتے   آخر کار میرے ٹانگوں نے میرے ساتھ آنے سے انکار کردیا۔ میں تھکا مندا ایک سائے میں دم لیا۔

اب مجھے ہوا کی آہٹ خوفناک محسوس ہوتا۔ دن میں ہوا کی آواز اور رات کو جھینگروں کی آواز مجھے بے چین کرتے تھے۔ ایک ہفتے کے سفر کے بعد میں نے ایک پُرسکون ماحول میں قدم رکھا۔ اب یہاں حسبِ معمول حالات تھے۔

لیکن وہ خوف بھرہ دن کھبی  یاد آتا تو میں تڑپ اٹھتا۔

سوچتاتھا کہ اس بیچاری ہرنی نے اس کا کیا بگاڑا تھا، کہ اس ظالم شکاری نے  بےرحمی سے لوہے کی بنی ہوئی گولی اس کے جگر آرپار کردیا۔ ہم نہ جانے کس گُم نام جنگلوں میں رہتے ہیں، پھر بھی یہ ظالم انسان ہمیں ڈھونڈ کر شکار کرتے ہیں۔

بس اپنے ایک لمحے کی مزے کیلئے ہمارے پیار بھرے سنسار اجاڑتے ہیں۔ کیا انھیں  یہ خیال نہیں آتا کہ ان کی طرح ہمارے بھی بچے ہیں۔ ہمیں بھی اس دنیا میں جینے کا برابر حق ہے۔  انسان کا یہ روپ دیکھ کر مجھے اللّہ کی اشرف المخلوقات سے نفرت ہوتی ہے۔

کھبی یہ سوچتاہوں کہ اگر انسان نہ ہوتا تو دنیا جینے کیلئے اور حسین ہوتی۔ آج نیچرکو سب سے زیادہ خطرہ ہے تو وہ ہے حضرت انسان سے۔  ہر چیز میں اس کا عملِ دخل ہے۔ انسان کے اس ماحول میں گُٹھن محسوس کرتاہوں۔

لیکن ہم محصوم جاندار جہاں بھی جائیں اس ظالم مخلوقات کی ڈر محسوس ہوتاہے۔ اب میں ہواؤں میں رقص نہیں کرتا،  نہ میں موسموں کا مزا چُراتا ہو۔ اب مجھے بارش کی بوندوں میں خوف و حراس محسوس ہوتی ہے۔ اب موسمِ خزاں میں جب پتے گرتے ہیں تو میں ڈر کے مارے بھاگ جاتا ہوں۔

اب اللّہ سے یہی دعا ہے کہ مجھے ہر طرح کی موت قبول ہے لیکن مجھے ظالم شکاری کی گولی کی موت ہر گز قبول نہیں ہے۔

Share

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *