Blog

کیا برمش کو انصاف ملا ؟ : ملک جان کے ڈی

ضمیر کا قیدی کبھی بے ضمیر نہیں ہوتا ، کیونکہ جو لوگ سوچتے ہیں وہی لوگ زندگی کے طریقوں کو پہچانتے ہیں ۔ ایک فلاسفر نے بہت خوب کہا ہے کہ جس میں سوچنے کا صلاحیت نہیں ہوتی تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ایک شخص تین وقت کی روٹی کھا کے بس سوجائے اور کچھ نہیں ، ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ۔ میرا ذاتی رائے یہ ہے کہ جو لوگ سوچتے نہیں وہ ہر کام کرنے میں ڈرتے نہیں ، اور ان لوگوں کی ضمیر کبھی جاگتی نہیں ۔

اب آتے ہیں اصل مسئلہ کی طرف ، میں یاد دہانی کرنا چاہتا ہوں کہ کیا برمش کو انصاف ملا؟

 یا اس کی آواز کئی اعلیٰ لوگوں نے دبا دی ہے ؟ کہاں گئے کلثوم کی قاتل ؟ کہاں گئے  وہ ریلیاں  ، اور گرجتے ہوئی آواز اور نعرے  کہ برمش کو انصاف دو، برمش کو انصاف دو ۔  ؟ کیا یہ فرضی تھیں ؟  اس آوازوں کو دبانے میں کس کی ہاتھ ہوسکتی ہے ؟

وہ بھی ایک لمحہ تھا جو ایک چھوٹی سی بچی برمش نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی پیاری ، مہروانِ مات ملکناز کو قتل کرتے دیکھی ہے۔

کہاں گئے وہ بلوچ جو پرنگیوں نے نام سُن کر اپنے پینٹ گیلے کرتے تھے؟  کہاں گئے وہ مونچھ دار بلوچ جو اس کی مونچھوں سے انگریزوں کو خوف ہوتا تھا؟

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بلوچ اتنے بھی گِر سکتے ہیں ؟ کہ اپنی ماں   بہنوں کو قتل کردیں ، اپنی حوس کےلے اپنی ماں بہنوں کی گردنوں کو بکریوں کی طرح زبح کر دیں ، مجھے افسوس اس بات پہ ہورہی ہے کہ مسلمان اگر بکریوں کو زبح کرتے ہیں تو بہت احتیاط اور عزت سے زبح کرتے ہیں لیکن ایک آپ ہیں جو بے رحمی سے اپنی ماں بہنوں کو قتل کرتے ہوں۔

سانحہ ڈَنُک ہو یا سانحہ دازن ، معصوم ملکناز ہو یا لکثوم ، دونوں نے اپنی زہرک سے شہید ہوئے ہیں ۔ اگر یہ دونوں نے وہ دوسرے بدضمیر لوگوں کی طرح بے غیرتی قبول کرتیں تو یہ واقع پیش  نہیں آتی ۔ لیکن میں آج فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ ملکناز اور کلثوم نے بہادری سے ان بے رحم ، دہشت گردوں کے سامنے نہیں جھکے ۔ آج میری سر فخر سے اٹھ تو سکتا ہے کہ انہوں نے تو اپنی لاچاری سے وہ بیغیرتوں کی راز تو پاش کئے ہیں ۔

پہلے بلوچ اپنے بلوچوں کی ایک پشت ہوتی تھی لیکن اب بلوچ ، بلوچ سے خوف کھاتا ہیں ،  تاریخ گواہ ہیں کہ بلوچوں کو دوسرے لوگوں نے کبھی شکست نہیں دیا بلکہ بلوچوں کی دوشمن اکثر بلوچ  ہوتے تھے ، پتہ نہیں کہ ایسا کیونکر کرتے تھے اپنی شوق سے یا دوسرے قوموں نے اپروچ کئ تھیں؟

اب ایسے واردات ہر روز ہوتے ہیں لیکن کچھ کےآواز نکلتی ہیں کچھ کی آواز جبین میں دب جاتی ہیں ۔ جس کی آواز نکلتی ہیں  ، وہ منظر عام تک نہیں پہنچ پاتی تو وہ پہلے سے سرشار ہوتی ہیں ،آواز کو دبانے کے لئے کئی طریقے آزمائی جاتی ہیں ۔ دونوں شہیدوں کو سرخ سلام ،

Share

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *