Blog

اب ہم میں انسانیت کیوں نہیں؟ : غلام رسول مری

عید کی دوسری رات تھی میں اب سونے کے ارادے میں تھا کہ فیس بک پر  کسی کی ماں اپنے لاپتہ بیٹے کے لیے جوتے اور کپڑے ہاتھ میں لے کر کھڑی رو رہی تھی جس کے رونے نے مجھے سونے نہیں دیا اور دل نے کہا کہ میں کچھ لکھ لوں، پر افسوس میرا قلم صرف سوال پہ سوال لکھتا رہا جن کے جوابات میرے پاس بھی نہیں۔ آخر ہم مسلمانوں میں انسانیت کیوں نہیں؟

انسانیت پرست بننے کے بجائے انسان بننے کی کوشش کریں۔

انسان ہونا ہی کافی ہے انسانیت کے لئے مگر ہم تو انسان ہونے کے ساتھ ساتھ مسلمان بھی ہیں اور حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی امتی بھی ہیں۔ ہمیں تو انسانیت کا درس دیا گیا اچھے اخلاق کا درس دیا گیا ہمیں چھوٹوں پر شفقت کرنے کا بتایا گیا ہمیں مظلوموں پر رحم کرنے کا سکھایا گیا ہمیں اچھے اخلاص کے بارے علم دی گئی بڑوں کا احترام اور عزت کرنا سکھایا گیا ہمیں تو ہر طرح انسانیت کے بارے سبق دی گئی کیونکہ ہم تو مسلمان ہیں پر افسوس آ ج کے دور میں ہمارے اندر انسانیت کا نام و نشاں تک نہیں۔

ہم کس طرح کے انسان ہیں؟ ہم کس طرح کے مسلمان ہیں؟ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا اور نہ ہی کبھی کسی کو دھوکہ دے سکتا ہے۔ مگر آ ج کے دور میں کون ہے جو جھوٹ نہیں بولتا اور کون ہے جو دھوکہ نہیں دیتا؟

آ خر ہم کس طرح کے مسلمان ہیں؟ آ خر ہمیں ایسا کیا ہوا کہ ہم نے اپنے نبی کے احکامات کو چھوڑ دیا ۔ بھائی بھائی سے جھوٹ بول رہا ہے دوست دوست کو دھوکہ دے رہا ہے۔ماں بیٹی سے دھوکہ کھا رہی ہے تو باپ بیٹے کو دھوکہ دے رہا ہے۔ ایک انسان کو دوسرے انسان کا دکھ دکھ نہیں لگتا کسی انسان کے پریشانی پہ ہم پریشان نہیں ہوتے کسی کی خوشی ہم برداشت نہیں  کر سکتے ۔

روڈوں پہ لوگ رو رو کے تڑپ رہے ہیں کوئی سننے والا نہیں ۔ آخر یہ امتی اتنا ظالم کیوں بنا ہے ؟ کسی کے دل پہ ترس کیوں نہیں آ تا؟ ہمارے حکمران کیوں خاموش ہیں ؟ یہ عدالتیں کس لئے بنائے گئے ہیں؟

 آ خر یہ انصاف کہاں ملے گا؟ انسان کو انسانیت کہاں ملے گی؟ اگر سب کچھ کا فیصلہ محشر کے دن ہوگا تو یہ دنیا کس لئے ہے؟ ایک غریب چور کو پکڑ کر سر عام تشدد کرکے قتل کیا جاتا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ کون سے دین میں چور کو قتل کرنا جائز ہے؟ آ پ لوگوں کو اب تک چور اور مجبور انسان میں فرق کا پتا نہیں۔

چھوٹے چھوٹے بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی روز بہ روز بڑھتا جا رہا ہے۔ آ خر کیوں؟ کیا یہ لوگ انسان نہیں؟ کیا انکو اپنے نفس پر اتنا قابو نہیں ؟ ہماری عدالتیں تو مجاہد کو قاتل قرار دیتے ہیں۔ اور قاتل کو بے قصور مانا جاتا ہے۔ نا انصافی کیوں بڑھ رہی ہے؟ ہمارا ایمان کیوں کمزور ہو گیاہے ؟ ہمارا انسانیت کیوں ختم ہو گئی ہے ؟

شراب خانے سرعام چل رہے کوئی پوچھنے والا نہیں, طوائف خانے سرعام چل رہے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں, منشیات فروشوں کی بہت عزت کی جاتی ہے۔پیار کے نام پر لوگ نا جائز تعلقات رکھ رہے ہیں ۔ کسی کو کوئی پرواہ ہی نہیں ۔ آ خر یہ لوگ مریں گے نہیں کیا؟ انکو آخرت کا ڈر کیوں نہیں؟

 یہ کیوں بھول گئے اپنے رب کو ؟ ہم۔ کس طرح کے مسلمان ہیں ؟ اب میں کیسے فخر کروں کہ میں ایک مسلمان ہوں ؟ ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسا کوئی درس نہیں فرمایا ہمارے صحابہ کرام رضوان اللہُ علیہم اجمعین سے کوئی ایسی بات ثابت نہیں ہوئی . ہمارے تابعین میں ایسا غلطی کسی سے سر زد نہیں ہوئی۔ آ خر ہم ایسا کیوں ہیں؟ ہماری انسانیت کہاں گئ؟

اتنا گناہ کے باوجود یہ آ سمان کیوں نہیں ٹوٹ جاتا ؟ یہ زمین کیوں نہیں پٹ جاتی؟ مولانا حضرات کو ہم اچھے سمجھتے ہیں مگر کئی زیادتیاں بچوں کے ساتھ مدرسوں میں ہو رہی ہیں۔ یہ کس طرح کے مولانا ہیں؟ انکو کس طرح کا دین سکھایا گیا؟ ہم اپنے دین کے لئے غیر مسلمانوں سے کیسے لڑیں گے ؟ ہمارے دین کے ٹھیکدار تو بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے میں مصروف ہیں۔ ظالم کے خلاف آواز نا اٹھانا اور ظالم کو معاف کرنا مظلوم کے ساتھ ظلم کے برابر ہے ۔ اب اپنے اللّٰہ کو کیسے راضی کریں؟ ہم نے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سنتوں کو چھوڑ دیا ہم نے اللّٰہ کے احکامات کو ٹکرا دیا ہم نے دین کو چھوڑ دیا کونسا گناہ ہے جو ہم نہیں کرتے ؟ آ خر اتنا گناہ کے باوجود ہم اللّٰہ کو کیسے راضی کریں ؟ اے میرے پروردگار ہمیں معاف کردے ہم پر رحم کردے۔ اے مسلمانو لوٹ آؤ اپنے رب کی طرف۔ ہمیں مرنا ہے خدا کی قسم سب کو مرنا ہے کس منہ سے ہم اللّٰہ کے سامنے کھڑے ہو نگے ؟ کیا جواب دیں گے ؟ انسانوں لوٹ آؤ انسانیت کی طرف ورنہ بہت دیر ہوگا ۔ چھوڑ دو ظلم کرنا چھوڑ دو برائی کرنا چھوڑ دو گناہ کرنا ۔ کیونکہ اللّٰہ غفور و رحیم ہے ہمارا رب معاف کرنے والا بادشاہ ہے توبہ کرلو معافی مانگ لو رب سے ایسا نہ ہو کے بہت دیر ہو جائے اور اللّٰہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔ G R Baloch

Share

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *