Blog

مہذب معاشرے اور ہماری معاشرہ : مطربہ شیخ

امریکا کی مثال دینا تو نہیں چاہیئے لیکن ضمنا ذہن میں آ گئی، ماہ مئ میں امریکہ میں ہونے والے ہنگامے جو سیاہ فارم شہری جارج فلائیڈ کی پولیس کے ہاتھوں موت کے بعد شروع ہوئے تھے، اس ماورائے عدالت قتل کے نتیجے میں پورا امریکہ سڑکوں پر احتجاج کے لئے موجود تھا، انسٹاگرام اور سوشل میڈیا پر بے تحاشا لکھا جا رہا تھا، اجتجاجی ویڈیوز اپ لوڈ ہو رہی تھیں۔ ہر شعبہ زندگی سےتعلق رکھنے والے فرد نے اجتجاج ریکارڈ کروایا، سڑکوں پر توڑ پھوڑ بھی ہوئ، مارکیٹس لوٹی گیئں لیکن پولیس نے دوبارہ کسی کو مارنے یا تشدد کرنے کی راہ نہیں اپنائ، تحمل کے ساتھ اپنی غلطی تسلیم کی اور لوگوں کے برے رویئے برداشت کرتے رہے، کسی کو دوبارہ مارا پیٹا نہیں۔

اس اجتجاج پر کسی نے بھی سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کو غدار نہیں کہا، نہ ہی ملک دشمنی کا ایوارڈ دیا گیا، بلکہ ایک دوسرے کو سپورٹ کرتے رہے، میں نے انسٹاگرام پر دیکھا کہ لپ اسٹک اور نیل پالش سے بھی مرنے والے کا نام لکھا گیا، یہ بھی اجتجاج کا ایک پر امن طریقہ تھا جو میک اپ آرٹسٹ نے اپنایا۔

ہمارے ملک میں انیس سو پینسٹھ سے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سیکورٹی فورسز نے عوام کے جان و مال پر کوئ احتیاط نہیں کی۔ کراچی سے خیبر کسی بھی ایسے واقعے کو غلط فہمی کا رنگ دے کر معافی مانگ لیتی ہے۔
معافی مانگ لینے سے والدین کے پیارے واپس نہیں آتے نہ ہی بچوں کو انکے والدین واپس ملتے ہیں، ہر دور حکومت میں ایسا واقعہ ہوا، لیکن مظلوم کے ساتھ انصاف نہ ہوا۔

ملک میں سوشل میڈیا کی آمد کے بعد ان واقعات پر اجتجاج کرنے والے افراد کو غدار، ملک دشمن اور نہ جانے کیا کیا کہا جاتا ہے، حالانکہ ہمارے جیسے ملک میں یہ صورتحال کو لیٹرل ڈیمج کہلاتی ہے ،یعنی آج کوئ اور ہے لیکن کل آپ ہو سکتے ہیں، پہلے آرٹیکل سے ہی یہ لکھا ہے اور ایک بار پھر لکھ رہی ہوں، اور بار بار لکھتی رہوں گی جب تک ہم سب اجتماعی طور پر لاقانیت کے خلاف کھڑے نہیں ہونگے۔ ملک میں اپنے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی لاقانونیت پر اجتجاج کیجئے، مظلوم کی داد رسی اور انصاف کے حصول میں مدد کے لئے کام۔کیجئے، عدلیہ پر عدل و انصاف قائم کرنے کے لئے زور دیجئے، ایک دوسرے کو غدار اور ملک دشمن کہنا بند کیجئے، ہمارے پاس تو دوسرے ملک۔کی شہریت ہے لیکن ہم پھر بھی اپنے ملک میں رہتے ہیں کیونکہ مجھے اپنے ملک میں رہنا پسند ہے۔ اور انصاف کے ساتھ رہنا پسند ہے۔

Share

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *