Blog

بلوچستان میں ہوکیارہاہے؟: ابوبکر بلوچ 

ظلم جبرریاستی چیرادستیاں

یہ وہ اصطلاحات ہیں جن سے شاید ہی کوئی مانوس ہویا نہیں لیکن بلوچستان کا ہرباشندہ نہ صرف اس کا مشاہدہ بلکہ تجربہ تک کرچکاہے۔

بلوچستان کی صورتحال پر اگر غور کیا جائے تو سترسال گزرنے کے باجود آج بھی یہ صوبہ سماجی،سیاسی اور معاشی انصاف کا منتظرہے۔

پاکستان میں جب بھی کسی حکومت کی تبدیلی کی نوید سنی جاتی ہے تو پہلا واربلوچستان میں کیا جاتاہے،صوبے کےدارالحکومت کوئٹہ میں سیاسی گھوڑوں کی منڈی لگتی ہے جہاں خریدوفروخت کےبعد سینیٹ،صوبہ یا وفاق میں نیا حکمراں براجماں ہوتاہے ۔۔

جبکہ معمولی احتجاج کو بھی نمٹانے کے لیے فوجی آپریشن جیسی قبیح عمل کا سہارالیاجاتارہاہے۔

معاشی طور  پر صوبے میں ایک طرف بڑھتی بیروزگاری کے ڈیرے ہیں وہیں پسنی اور گوادر میں ریاستی سرپرستی  قبضوں کے دوران مقامی ماہیگیروں کو بے دخل کردیاگیاہے لیکن میڈیا کا المیہ یہ ہے کہ ہراخبار اور ٹی وی اس عمل کو ترقی سے تعبیر کررہاہے۔

لیکن دل نہ بھراتو بلوچستان میں ہروہ نوجوان دشمن گرداناگیاجو علم کی شمع روشن کرنے کا خواب دیکھتاہے۔

جس کی واضح اور حالیہ مثال حیات بلوچ کا قتل ہے۔

حیات بلوچ تربت سےکراچی میں طالب علم ہے والدین نے اپناپیٹ کاٹ کر بیٹے کوتعلیم دلائی لیکن انہیں شاید یہ نہیں معلوم تھا کہ حیات جوانی میں ہی موت کی آغوش میں چلاجائےگا۔۔

حیات کے قتل پرابتدائی طور پر نہ صرف میڈیا بلکہ سیاسی قیادت بھی خاموش رہی ۔۔تاہم بھلاہوسوشل میڈیا کاکہ جس کی بدولت اندوھناک سانحہ کی خبرنے ہلچل مچادی ۔۔ سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلنے کےبعد بالآخراخبارات اور اکا دکابرائے نام ہی سہی ٹی وی چینلزبھی جاگ اٹھےاور خبرنشرہوناشروع ہوگئی، لیکن یہ اتنے بڑے سانحے کی خبر ان خبروں کے مقابلے میں انتہائی کمترتھی جس میں میرا جی کی انگریزی،صائمہ اور سیدنورکی شادی اسی طرح کی دیگر چٹ پٹی خبروں کا معاملہ ہے۔۔

ہمارے سیاستدانوں کا بھی حال کچھ بہترنہیں۔۔ ویسے دباؤ،موقع پرستی اور لالچ کےہاتھوں دبنے والوں سے کسی بھی قسم کی امید یقیناً عبث ہے۔۔

اس میں جمہوریت کا لبادہ اوڑھنے والی جماعتیں ہوں یا مذہبی جبے پہننے والے ہوں۔۔ اس غلامانہ صف میں محمود وایاز کی طرح ایک ہی نظر آئیں گے۔۔ بہرکیف دیگرسیاسی رہنماؤں کی طرح وفاقی وزیر شیریں مزاری کو بھی سانحہ پر مذمتی ٹوئٹ داغناپڑا ۔۔۔ اس سلسلے میں آئی جی ایف سی نے بھی مقتول کے گھرجاکرتعزیت کی اور حسب روایت انصاف دلانے کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن شاید یہ سب بھول گئے ہیں کہ حیات بلوچ نہ پہلاکیس ہے نہ ہی یہ بلوچ سرزمین پر آخری خون ثابت ہوگا۔۔

ماضی کی بات نہیں کرتے لیکن پچھلےدس سے پندرہ سالوں میں بلوچستان میں جوکچھ ہوا اس پر کسی سے اچھائی کی امیددیوانے کے خواب سے زیادہ نہیں ۔۔

اکبربگٹی کاقتل ہویا ڈاکٹرشازیہ ریپ کیس یاسرکاری سرپرستی میں ڈاکامارنے والوں کے ہاتھوں قتل ہونے والی برمش کاواقعہ ہو ۔۔۔۔

غلام محمد،شیرمحمد اور لالہ منیرکااغوا اور لاشیں ملنے کامعاملہ ہویا توتک میں اجتماعی قبریں دریافت ہونے کاقضیہ ، ہمیں کہیں بھی انصاف نام کی چڑیا نظرنہیں آیا۔۔

لیکن ایک بات تو طے ہے کہ حیات بلوچ کاقتل نہ صرف بلوچستان حکومت بلکہ پوری ریاست کےلیے ٹیسٹ کیس ہے کیوں کہ جدید سیاسی تعریف میں کالونیوں،مفتوحہ اور مقبوضہ علاقوں میں بھی اس طرح نہیں کیا جاسکتا ۔۔۔ اب ریاست کو اس بات کا بھی تعین کرناہوگاکہ وہ بلوچ کو کس نظر سے دیکھتی ہے۔

محبت گولیوں سے بو رہے ہو

وطن کا چہرہ خون سے دھو رہے ہو

گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے

یقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو

Share

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *