Article

جبری گمشدگی، تشدد کی بدترین شکل: پروین ناز

“جب ریاست نابرابری اور ناانصافی کرتی ہے توشہری اس کے خلاف آواز اٹھانا شروع کردیتے ہیں جس پر ریاست تشدد کا راستہ اختیار کرتا ہے۔اُس تشدد سے لوگ مزاحمت کرتے ہیں اور ریاست لوگوں کی آواز دبانے کے لیے جبری گمشدگیوں کی حد تک جاتا
ہے جو کہ تشدد کی انتہا ہے۔”

دنیابھر میں اب تک 85سے زیادہ مما لک کے (Uncountable (افراد کوبلاوجہ یا با وجہ مختلف تنازعات کے دوران جبری طور پر غائب کر دیا گیا ہے، اس لیے اسے گلوبل مسئلہ قرار دیا گیا ہے ۔ اِ ن جبری گمشدگیوں کے پیچھے وجوہات کو تلاش کرنے کے لیے
اب تک کہیں سارے ادارے دنیا میں کام کر رہے ہیں لیکن کوئی خاطر خواہ نتائج برآمدنہ ہو سکے ہیں۔جس میں سے پاکستان کا نام بھی سِر فہرست ہے، جہاں انسانی حقوق کےمختلف ادارے جبری گمشدگیوں کے حوالے سے سالوں سے کام کر رہے ہیں۔ یہاں نہ صرف جبری طور پر گمشدگیوں کا ایک تسلسل ہے بلکہ ان گمشدگان کے مسخ شدہ لاشوں کے ملنے کا بھی ایک سلسلہ چلتا اور ٹہرتا رہتا ہے۔ پاکستان کے اندردراصل لاپتہ ہونے یا گم کر دینے کا ایک تاریخی نفاذ پایا جاتا ہے۔ ماہرین، متاثرین ، سول سوسائٹیز اور انسانی حقوق کے دیگر تنظیموں نے اس کا ذمہ دار واضح طور پر ریاست ، سیکورٹی اداروں اور تحفظاتی اداروں کو ہی ٹہرایا ہے۔ جبکہ ساتھ ہی ساتھ ہمیں یہ بھی دیکھنے میں ملتا ہے کہ جتنا زیادہ گمشدگیوں کا عمل تیز ہوتا جاتا ہے، پاکستان میں موجود اس وقت کے مناسبت سے حکومتی سطح پر غائب یا گم کر دینے کے عمل کو جرم قرار دے کر اس کو عملی طور طے کرنے کا وعدہ لیا جاتا ہے۔ لیکن ان پر کوئی ٹھوس عمل نہیں ہوتا اورپھر جبراً اٹھانے کا عمل استحکام کے ساتھ جاری ہے۔

“سیاسی پارٹیوں ، تنظیموں یا کہ سول سوسائٹیز کے کوئی خاص موقف ہمیں نظر نہیں آئے ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ جو اقدام اٹھانے ہیں، ہمارے خاندان کے لوگوں نے خود اٹھائے ہیں ، وہ ساتھ آئے ہیں جن کے پیارے غائب کر دیئے گئے ہیں۔ جن کا مفاد ہوتاہے وہ آ کر کچھ وقت کے لیے ہمارا ساتھ دے جاتے ہیں پھر ان کا کہیں کچھ پتہ نہیں ہوتا، اور گورنمنٹ تو کہیں کچھ نہیں کرتی۔ ”
اس سلسلے کی ایک سرکاری پیش رفت مارچ2011ٰ ؁ میں بننے واال کمیشن ہے جس میں پہلی بار جبری طور پر گمشدگان کے لواحقین کو یہ حق دیا گیا کہ وہ اپنے یپاروں کے گمشدہ ہونے کی صورت میں گورنمنٹ آف پاکستان کے کمیشن کے سامنے اپنا کیس ڈائریکٹ لے کر جائیں۔ لیکن اس کمیشن میں سول سوسائٹی اور ہیومن رائٹس کمیشن کے ممبران کی شمولیت نہیں کروائی گئی۔ چونکہ اس مسئلے کو گلوبل قرار دیتے ہوئے20 دسمبر 2006 کے یونائیٹڈ نیشن کے ایک کنوینشن میں تقریبا تمام ممالک نے جبری گمشدگی کو violation human of extremism قرار دیتے ہوئے اپنے اپنے signatureکئے مگر پاکستان وہ واحد ملک ہےجہان جبری گمشدگی کا تناسب زیادہ ہوتے ہوئے بھی اس نے اس کنوینشن میں دستخط نہیں کئے۔ ہیومن رائٹس آ ف کمیشن کے مطابق:
“اس کنوینشن پر پاکستان کے دستخط نہ ہونے کی وجہ سے بھی یہاں انسانی حقوق پر کام کرنے والے ادارے ریاست پر قانونی طور پر دباؤ نہیں ڈال سکتے ۔ کیوں کے یہ حق ہمارے پاس اس صورت میں زیادہ ہوتا جب وہ خود اس بات کو مانتے کہ ہاں ہم انسان کی تذلیل کر رہے ہیں لیکن یہاں ایسا کچھ نہیں ہے۔”
Commission of Inquiry of Enforced انکوائری آف کمیشن (COIOED (Disappearancesکے چیرمین جسٹس )ریٹائرڈ( جاوید اقبال، سیکریٹری فرید احمد خان اور دیگر ممبران کے تحت کمیشن لاپتہ افراد کا پتہ لگانے میں نہ صرف ذاتی دلچسپی رکھتا ہے بلکہ وہ باقاعدہ اُن کے لواحقین سے رابطے میں رہتے ہیں۔ کمیشن آف انکوائری کی جولائی 2020 کے حالیہ رپورٹ کے مطابق اب تک پاکستان میں گمشدگان کی مجموعی تعداد 729,6 تک پہنچ گئی ہے جس میں سے 616,4 معاملات حل شدہ ہیں ۔ اب اس بات میں کتنا توازن پایا جاتا ہے یہ ایک الگ بحث ہے۔

جبکہ ہیومن رائٹس آف کمیشن پاکستان کی رپورٹ کے مطابق )جو راجی بلوچ وومن فورم نے اپنے ایک آن لائن سیشن میں معلوم کیا (جبری گمشدگان کی تعداد بلوچستان میں4000 ،سندھ میں 150 – 200 ، جبکہ سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کے ہی دفتر میں شیعہ کمیونٹی کے 25 افراد کے فارم جمع کئے گئے ہیں ۔
“یہ وہ لوگ ہیں جن کو راستے کا پتہ ہے اور جبری گمشدی کی صورت میں آ کر اپنےگم ہو جانے کے لیے ایک فارم پُر کر کے جمع کر دیتے ہیں اس کے علاوہ پیاروں کے گُم جانے کے بعد کتنے لوگوں کو غائب کر دیا جا تا ہو گا کہ جس کی آج تک کہیں کو ئی رپورٹ
نہیں لکھوائی جاتی ہے۔ ـ”

تجزیاتی بنیادوں پر مختلف ماہرین کے مطابق جبری گمشدگان میں سب سے زیادہ تعداد قوم پرستوں کی رہی ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے ہمیشہ اپنے لوگوں اور اپنے ہی قوم کے لیے آواز اٹھایا ہے اور ریاست نے اسے قبول نہیں کیا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ
Defenders rights human ،مذہبی گروہوں اور مذہب سے انکار کرنے والے لوگوں کو بھی کافی زیادہ نشانہ بنایا گیا ہے۔ جس کی وجہ دوسروں کے حقوق کو تحفظ دینا اور مذہبی انتہا پسندی بتائی جاتی ہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ بلوچ مزاحمت کار ہمیشہ
سے ہی اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے آئے ہیں ، اس ریاست میں وہ بطو ِر غالم1948سے اپنی جدو جہد جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ دنیا میں طاقت کی بنیاد پر ہمیشہ سے ہی کمزور کو غالم بنا کر رکھا گیا، غالمی نے تشدد اور تشدد نے انقلاب کو جنم دیا۔
“تشدد جارحیت کا ایک عمل ہے ، اپنے لیے یا اپنے سسٹم کو کنٹرول کرنے کے لیے اُس گروہ یا برادری کے خلاف’ جس سے رکاوٹ یا خطرہ ہو’، جان بوجھ کر اُن لوگوں کوطاقت کے ساتھ ڈرانے یا دھمکانے کے لیے ، ذہنی یا جسمانی آزار دینے کو ہی تشددکہتے ہیں۔”

“ایک انسان اپنے معمول کے مطابق کام کر رہا ہوتا ہے، پڑھا ئی میں مصرو ِف عمل ہوتاہے اور اچانک سے اگر اسے غائب کر دیا جائے یہ تشدد نہیں تواورکیا ہے؟”
جبری طور پر لاپتہ ہونے کا عمل پاکستان بالخصوص بلوچستان میں ایک عرصے سے دہشت پھیلانے کی حکمت عملی کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ یہاں لوگوں کو سڑکوں، بازاروں، تعلیمی اداروں، ادبی محفلوں یہاں تک کے گھروں سے بھی اٹھانے کا ایک
رواج بن چکا ہے۔ اس عمل سے پیدا ہونے والے عدم تحفظ کا احساس نہ صرف اس گم شدہ یا گم کردہ فرد کو بلکہ اس کے پورے خاندان)خاص کر خواتین اور بچوں(، دوست و احباب ، بلکہ قریبی برادریوں اور معاشرے پر بھی پڑتا ہے۔

“جبری گمشدی کی سب سے بڑی وجہ بلوچستان میں صرف اپنے حقوق کے لیے بات کرنا ہی نظر آتا ہے۔ کیوں کہ یہاں لوگ اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں ۔ اور اس غصے کی وجہ سے اب اگر کسی بارہ سالہ بچہ کو بھی اٹھا لیا جائے یا غائب کر دیا جائے تو ہم کیا سمجھیں کہ یہ تو پھر بلوچ نام کو ختم کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ کیوں کہ وہ بارہ سالہ بچہ تو ابھی خود minor میں ہے، وہ کیاکسی کا بُرا کر سکتا ہے۔”
“ایک بیوی جس کی نئی نئی شادی ہوئی ہے ، اپنے شوہر کے غائب ہونے کے بعد اس نے ایک نئی زندگی تو جنم دی لیکن وہ زندگی وہ خوشی اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی ۔ کیونکہ وہ جس کے ساتھ مل کر اپنے اس خوشی کو منانا چاہتی تھی اس کے
بارے میں ہی نہیں پتہ کہ وہ زندہ ہے کہ نہیں۔”

یہ ایک ایسی کڑی ہے کہ جس میں متاثرہ شخص کے خاندان کو خود نہیں پتہ ہوتا کہ اب جانے کے بعد گمشدہ فرد نے واپس کب اور کس صورت میں آنا ہے۔ پاکستان بالخصوص بلوچستان میں نہ صرف غائب کر دیئے گئے بلکہ مسخ شدہ لاشیں پھینکنے، اور اجتماعی
ِناقابل برداشت عمل طور پر قبروں میں گمشدگان کو ڈالنے کا ایک رواج بھی چلی جو غائب تھے۔ لواحقین کے مطابق بہت ساری لاشیں ایسی بھی ملیں کہ جن پر تشدد کی اس قدر انتہا کی گئی تھی کہ اس سے پتہ نہیں چل پایا کہ آیا وہ لاشیں ہیں کن لوگوں کی، اور نہ
ہی کسی ادارے نے یہ قبول کیا کہ کس گمشدہ فرد یا افراد کی لاشیں پھینکیں گئی ہیں جو ان متاثرہ خاندانوں کے لیے اور بھی درد ناک بات ہے۔

“جبری گمشدگی میں ہم نے اپنے پیاروں کو ایسے بھی پایا کہ انہیں دو سے دس سال تک غائب کر دینے کے بعد ایسی حالت میں پھینک دیا گیا جو ہمارے لیے ناقابل بیان ہے،کیسے بیان کریں وہ حالت کہ آپ دس سال ُجدا کرتے ہیں پھر پورے بدن پر ڈرل کر کے
، آنکھیں اور دل جسم سے نکل کر اُسکی لاش کہیں پھینک جاتے ہیں۔ دس سال سےانتظار کرنے والے جو اتنے عرصے سے ذہنی اذیت کا شکار تھے اب تو اُن کی زندگی خود بخود تباہ ہو جائے گی۔”

“ایک ایسا بھی سلسلہ تھا کہ بہت ساری اجتماعی قبریں نکل آئیں جن کے شناخت آج تک نہ ہو پایاہے۔ وہ دن اور آج کا دن ہمارے لیے ایک کٹھن مرحلہ ہے کہ آیا ہم اپنے لوگوںکو زندہ سمجھیں یا مردہ؟ افواہیں ، باتیں، الجھنیں ، کوئی حل نہیں، یہ سب اگر ذہنی
مسائل کو جنم نہ دیں تو اور کیا کریں؟”
معاشی اور معاشرتی پسماندگی کی صور ِت حال اس قدر بگڑ جاتی ہے کہ گھر میں لوگ ایک دوسرے سے بات کرنے سے قاصر رہ جاتے ہیں، کوئی نہیں جانتا کہ اب گزر بسر نے کیسے ہونا ہے اور اس کو کرنے کی ذمہ داری کون لے گا؟ اکثر اوقات چونکہ غائب
کر دینے واال شخص ہی اپنے خاندان کی خود کفالت کا سبب ہوتا ہے اس لیے اس خاندان کے کاروبار یا معاش کو چلنے کا کوئی ذمہ دار نہیں ہوتا۔ بلوچ کمیونٹی میں اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ عورتیں اپنے مردوں کے ساتھ کپڑوں کے کڑھائی کے عمل سے ملنے
والے پیسوں سے کہیں نہ کہیں کچھ حد تک contribute کر رہی ہوتی ہیں۔ مگر مردوں کے گھروں سے غائب کر دینے کا عمل معاش کا پورا بوجھ عورتوں کے اوپر ڈال دیتا ہے ، انہیں ڈھونڈنے کے عمل کے لیے عورتوں کو اپنا زیادہ وقت باہر دینا پڑتا ہے جس کی وجہ سے یہ ملنے والہ پیسہ ان کے اخراجات کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔

“بلوچوں میں مرد گھر کا سرمایہ ہوتا ہے، کما کر لانے والا وہی ہوتا ہے۔ ایک مرد کے غائب ہو جانے سے پورے گھر کا نظام رک جاتا ہے۔ معاشی حالت بدحال ہو جاتی ہے۔ گھر کے بچوں کا career تباہ ہو جاتا ہے، وہ اچھی تعلیم نہیں لے پاتے، اچھی صحت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ سماجی اور معاشی ہر لحاظ سے وہ خاندان تباہ حال ہو جاتا ہے۔”

“بلوچ معاشرے میں لوگ اگر ہمیں معاشی سپورٹ کریں گے بھی تو کتنا ؟ ظاہر ہے کہ ان کے اپنے مسائل ہیں۔ لیکن پھر بھی تھوڑا بہت سپورٹ ہے جس کی وجہ سے چل رہا ہے مگر صرف کھانا پینا بھی ہو جائے تو بہت ہے۔”
“گھر کے ایک فرد کے غائب ہو جانے سے پورا خاندان بالخصوص عورتیں بہت زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ ایک ماں کے لیے اس کا بیٹا اسکی پوری دنیا ہوتی ہے۔ ایک بیٹے کے جانے سے ماں کی دنیا اجڑ جاتی ہے۔
ِاہل خانہ ، دوست احباب ذہنی اذیت کا مستقل سامنامتاثرہ افراد کے گھروں میں کر رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ جبری گمشدگی کے عمل میں نہ صرف گمشدہ شخص کو جبری طور پر اغواء کر کے اس کی آزادی سے محروم کیا جاتا ہے بلکہ اس کے اپنوںکو یہ بتانے سے بھی انکار کیا جاتا ہے کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہیں۔خاندان کے لوگ یہ نہیں جانتے کہ متاثرہ فرد زندہ ہے یا نہیں؟ جس کی وجہ سے ان کی ذہنی اذیت کھبی کھبی انتہا تک پہنچ جاتی ہے۔اس امید ، انتظار اور مایوسی کی کیفیت میں وہ اپنے آپ کو حوصلہ دینے کی ناکام کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔اگر خواتین خود گمشدگی کا نشانہ بنتی ہیں تو انہیں شدید جنسی ہراسانی کے ساتھ ساتھ مختلف قسم کے تشدد کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔اور یقینا یہاں بلواسطہ اور بالواسطہ جبری گمشدگی کا مرد اور عورت دونوں ہی شکار ہوتے ہیں جس سے ہم اس عمل کے انتہا کو جاننے کی ایک ادنی سی کوشش کر سکتے ہیں۔

“بلوچستان میں زیادہ تر لوگوں کے چہروں پر اگر آپ غور کریں تو آپ دیکھیں گے کہایک اداسی چھائی ہوئی ہے، اس اداسی کے پیچھے وجہ یہی نفسیاتی مسئلہ ہے کہ وہ سوچ میں ہیں، خوف میں ہیں، اپنے اپنوں کے بارے میں۔ فرض کریں کہ کوئی عورت جس
کے بھائی کو گھر سے اٹھا کر لے گئے ہیں تو آپ ٹیچر پڑھ کو کیا لگتا ہے کہ وہ اسکول کے بچوں کو کوالٹی ایجوکیشن دینے میں کتنا

Contributionدے پائے گیـ؟ ہر گز نہیں ۔”
“ہماری بھابھی آج تک اچھے کپڑے نہیں پہنتی کہ میرے شوہر جس دن تک نہیں آئے گامیں اچھے کپڑے نہیں پہن سکتی۔ میرا بھیتیجا چھوٹے سے عمر میں نفسیاتی مریض بن چکا ہے ، میری بھابی صرف پینتالیس سال کی ہے مگر وہ ساٹھ سے اوپر کی لگتی ہے۔
گھر کے سارے لوگ یہی سوچتے ہیں کہ جانے وہ آئیں گے یا نہیں۔ایک وقت ایسا بھی آیاتھا کہ گھرمیں ہم سب سوتے ہوئے باتیں کرتے تھے۔”

حکومتی سطح پر ان گھرانوں کے لیے کوئی سپورٹ نہیں دی جاتی بلکہ اکثر دیکھنے میں ملتا ہے کہ لاشوں کی نشاندہی نہ ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ گورنمنٹ کے اپنے عہدے دار جو جبری گمشدگیوں کا شکار رہے ہیں ،ان کے بھی خاندان والوں کو ڈیتھ سرٹیفیکٹ نہیں دیئے گئے جس کی وجہ سے اس گھر کے افراد سرکاری پینشن لینے سے محروم رہ گئے۔بلوچ کمیونٹیز میں چونکہ ایک سپورٹنگ سسٹم موجود ہے جو گھروں میں نان نفقہ کی حد تک مدد کرنے کے عمل تک محدود ہو سکتا ہے لہذا کہیں نہ کہیں اس حوالے سے وہ گھرانے جن کی اپنی زمینیں ہیں یا جن کے پاس اپنے گھروں کو چلانے کے علاوہ بھی دینے کے لیے کچھ ہے تو وہ اِن لواحقین کو چھوٹی موٹی مدد کردیتے ہیں۔

“سماج میں گمشدہ افراد کے خاندان کا ہونا نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ وہ معاشرے کے کسی بھی چیز میں شمولیت نہیں کر سکتے ہیں۔ بچے عید نہیں مناتے، شادیوں میں نہیں جاتے، محفلوں میں نہیں جاتے، اچھے کپڑے نہیں پہنتے، لڑکیوں کو گھروں میں رہنا پڑتا ہے، پڑھائی سے دور ہو جاتے ہیں ۔اور یہ ایک انتہا ئی عمل ہے۔”

“ایک بیوی بڑی مشکلوں سے اپنا گھر چلا رہی ہوتی ہے، وہ اپنا گھر بھی چلا رہی ہوتی اور دنیا کی باتیں بھی سنتی ہے۔، بچے بھی پالتی ہے او سے بہت کچھ سہنا پڑتا ہے۔مجھ سے بہتر یہ کوئی نہیں جانتا کہ یہ سب میری ماں نے سہا اور میں اتنے سالوں سے یہ برداشت کر رہی ہوں۔ لواحقین باخوبی جانتے ہیں کہ اپنے متاثرہ شخص کے لیے جدوجہد کرنا اتنا آسان نہیں ہے ، وہ واقف ہیں کہ یہاں جدوجہد کرنے کا مطلب دھمکی ، ڈرانا، اٹھانا اور مزید جبرکو برداشت کرنا ہے۔ لیکن یہ کیسے ممکن ہو کے وہ اپنے گھر سے اپنے پیاروں کے غائب کر دینے کے بعد سکون سے بیٹھ سکیں۔ یہ عمل نہ صرف خاندان کے مردوں بلکہ عورتوں کو بھی جدوجہد کے سفر کی طرف راغب کر دیتا ہے۔ ایک ایسا سفر جہاں انہیں سماجی بُرائیوں کا بھی سامنا ہوتا ہے، جہاں انہیں سیاسی جبرکو بھی برداشت کرنا پڑتا ہے، جہاں کہیں طریقوں سے ان کی ہراسانی کی جاتی ہے۔ لیکن وہ اپنے اس جدوجہدکے عمل کوکسی بھی حال نہیں چھوڑ سکتے ، کیونکہ یہ جان کر بھی کہ حقیقت تک رسائی آسان نہیں ناممکن ہے وہ اُسے ڈھونڈنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔

“میری عمر صرف دس سال تھی جب میرے والد کو اٹھا کر لے کے گئے ، تب سے اب تک میں نہ صرف جدو جہد کے عمل میں ہوں بلکہ انتظار میں بھی ہوں اور اپنے ساتھ ساتھ گھر والوں کو بھی تڑپتے دیکھ رہی ہوں جو یقینا مجھ سے برداشت نہیں ہوتا لیکن کرنا پڑتا ہے۔ مجھے بچپن سے عدالتوں اور سڑکوں کے چکر لگانے پڑ رہے ہیں۔ ہمارے رشتے داروں کو دھمکیاں دی گئیں ، گھر پہ بار بار چھاپے مارے گئے ۔ ان چیزوں نے ذہنی اذیت کو اور بھی زیادہ بڑھایا ۔ سوالات اور زیادہ پیدا ہوئے کہ گھر کا سربراہ تو پہلے سے ہی اٹھایا گیا ہے پھر اب تک کیوں یہ صورت حال ہے؟ ہم لڑکیوںکے ساتھ کیوں ایسا کیا جا رہا ہے؟ کھبی کھبی میں سوچتی ہوں کہ کیا ہماری ماں واقعی شادی شدہ عورت ہے؟ ”
“یہ زندگی کی سطح سے نیچے کی لائن ہے کہ روزانہ آپ کو اتھارٹیز کے پاس جانا پڑتا ہے،پریس کلب کے سامنے بیٹھنا پڑتا ہے ، یہ جاننےکے لیے کہ میرے لوگ کہاں ہیں جنہیں آپ غائب کر کے لے کر گئے ہیں، لیکن کوئی جواب نہیں ہے۔”

کچھ عرصے پہلے تک تو بالکل بھی نیشنل یا صوبائی سطح پر پارلیمنٹ میں disappeared enforcedکے حوالے سے بات نہیں کی جاتی تھی، لیکن اب ہمیں دیکھنے میں ملتا ہے کہ گونمنٹ اس سلسلے میں پارلیمنٹ میں بھی بات کر رہی ہوتی ہے۔ خاص کر اختر مینگل نےاپنے چھ نکات میں سے ایک نقطہ اسی حوالے سے رکھا تھا۔وائس آف مسنگ پرسن بلوچستان کے مطابق اس گورنمنٹ میں سردار اختر جان مینگل کو 5228 الپتہ افراد کا ایک لسٹ فراہم کیا گیا تھا جو کہ انہوں نے اپنی پہلی تقریر کے دوران ہی اسمبلی میں جمع کروائی تھی۔ اس کے بعد جب انہوں نے حکومت سے علیحدگی اختیار کی تو مزید 500 افراد کی لسٹ دی گئی ، وہ لسٹ قومی اسمبلی
تک جمع کروایا گیا۔ فروری 2018 میں Voice of Baloch Missing Person
Balochistanکے صوبائی حکومت کے ساتھ مذاکرات ہوئے۔ ان تمام میں سے صرف 280افراد بازیاب ہوئے ہیں۔
“ریاست اپنا رویہ نرم رکھنے کے بجائے لواحقین کے ساتھ ایسا رکھتا ہے کہ جیسے گمشدگان کا پورا خاندان کسی جرم میں ملوث ہو۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہمارے گھر پر قبضہ نہ کیا جاتا ، مجھے دھمکیاں نہ دی جاتیں کہ اپنے ابو کے لیے یہ جدوجہد کرنا بند کرو۔”
“ہر سیاسی پارٹی نے یہاں اپنے ایجنڈے بنا رکھے ہیں ، ان کے اپنے of power authoritiesہیں لیکن عام طور پر وہ لوگ اس مسئلے کو لے کر کچھ نہیں کر سکتے اور پستہ ہمیشہ عام بلوچ ہی ہے۔”

“سیاسی پارٹیوں کا کام ہی اپنے لوگوں کی بات پارلیمنٹ میں رکھنا اور ان کے مسائل کو حل کرنا ہے لیکن یہاں بلوچستان میں ان کا اپنا motive ہے۔”
کہنے کو تو یونائیٹڈ نیشن ، ایمنسٹی جیسے ادارے پاکستان پر کافی زیادہ پریشر ڈال چکے ہیں اور انہوں نے بھی اپنے سائٹس پر پاکستان کے گمشدہ افراد کے لیے انٹرنیشنل سطح پر نہ صرف فارم جمع کرنے کی اجازت دی ہے بلکہ ریاست پاکستان سے جبری طور پر گمشدہ افراد اور ان کے لواحقین کے لیے کچھ مطالبات بھی کئے ہیں جن میں سے شاہد ہی کسی مطالبے پر کام کرنے کی بآسانی اجازت ہو۔کچھ خاص مطالبات جن پر فوری طور پر حکومت پاکستان، حکومت بلوچستان اور اس کے علاوہ تمام انسانی حقوق کے تنظیموں ، مسنگ پرسنز پر کام کرنے والی تنظیمیں ، اور وہ تما م اقوام جن کے لوگوں کو جبری طور پر گمشدہ یا غائب کر دیا گیا ہے، انہیں ساتھ مل کر
اپنے حقوق کی جنگ لڑنی ہو گی۔ کیونکہ اب یہ صرف بلوچ، سندھی ، پختون ، مہاجر کا نہیں عام انسان کا مسئلہ ہے ۔یا شیعہ کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ تمام اہل یاکستان میں ،کمیشن آف انکوائری، ہیومن رائٹس آف کمیشن اور مسنگ پرسنز کے اپنے تنظیموں کے جبری گمشدگیوں کے کیسس اوررپورٹس میں کافی حد تک فرق پایا جاتا ہے۔ اس لیے ان سب لوگوں کو آپس میں مل کر ایک دوسرے کے ساتھ مضبوط اسٹریٹیجی کے تحت کام کرنے کی ضرورت ہے۔

“ہم بے زار آ چکے ہیں اب، ہم خود کہتے ہیں کہ ہمارے لوگوں کو لا کر جیلوں میں ڈال دیں ، اگر وہ مجرم ہیں انہیں سزا دیں یا انہیں مار دیں تاکہ یہ انتظار ختم ہو جائے۔ کسی سے ۳۰ منٹ کی انتظار برداشت نہیں ہوتی اور ہم اپنے بچوں کو جواب دے دے کر تنگ آگئے ہیں کہ ابھی آئیں گے آپ کے ابا۔ ہم عورتیں اپنے بچوں سے مجبور ہیں کہ اگر ان کے ابا بھی نہیں ہیں تو ہمیں زندہ رہنا ہے ان کی پرورش کرنے کے لیے، ورنہ نہ تو ہم زندوں میں ہیں اور نہ ہی مردوں میں۔”

Share

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *