Article

ایک زمین کی موت: حنیف دلمراد

انسان فطرت کا ایک چھوٹا سا حقیر حصہ ہے، ماضی اس بات کی گواہ ہے کہ جب جب انسان نے فطرت کو چیلنج کیا تو فطرت نے اسے کہیں کا نہ چھوڑا۔ انسان لاکھوں سال کا سفر طے کر کے آج جس ٹیکنالوجیکل دور میں داخل ہے اس سفر میں اس نے فطرت کو مطابق رکھ کر آگے بڑھنے کی کوشش کی ہے۔

فطرت سے فائدہ اٹھایا لیکن اس جدید اور سرمایہ دارانہ دور میں سرمایہ کی حوس نے انسان کو لالچ کی گہری کھائی میں دھکیل دیا ہے۔ اب درخت، ہوا، پانی، ندی، نالے تمام کو سرمایہ دار کی حرمس سے خطرہ لاحق ہوتا جا رہا ہے۔ اور یہی خطرہ ملیر کے سر سبز خطے کو بھی ہے۔ جہاں دریا ملیر اور سکن ندی کے علاوہ بہت سارے ندی نالے اور آبی گزر گاہیں ہیں۔

گزشتہ دنوں 25 اگست 2020 کے سیلاب نے سکف ندی کے ساتھ قائم غیر قانونی آبادیوں اور صنعتوں کو یہ باور کرایا کہ فطرت خاموش رہتی تو ہے لیکن ختم نہیں ہوتی۔ ندی زمین کا دل ہے جو پانی جذب کر کے اپنے ایک خامس علاقے ریڈییس تک پانی پہنچاتا ہے۔ واٹر ٹیبل تک پانی پہنچ کر زمین کے اندر چشمے رگوں کا کام کرتے ہیں۔ اور جب دل کی رگیں چکنائی کے باعث بند ہو جائیں تو موت لازم ہو جاتی ہے۔

اور یہی کچھ لانڈھی اور دہی شرافی ملیز کی زمین کے ساتھ ہو رہا ہے۔ شیدی خان گوٹھ کے جنوب کی طرف چند فرلانگ پر بہنے والی سکن ندی پر اگر ایک چھوٹی سی نگاہ ڈالیں تو بخوبی اندازہ ہوجائے گا کہ فطرت کو کس طرح ملیر میں متاثر کیا جا رہا ہے۔ ایم سنز ایم 8 اور یم 5، شبیر ٹائل یونٹ2، ارٹسٹک فیبرک یونٹ2، آرٹسٹک اسپننگ، سورتی ڈینم، سورتی اسپننگ، ارٹسٹک فیبرک ۱، اظہار انڈسٹری کے علاوہ دیگر کئی ایسی انڈسٹریز ہیں۔ جو نہ صرف ماحولیات کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ ماحولیات کے ملکی اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اقدام نہیں کر رہی ہیں۔

سکن ندی کے بائیں جانب آرٹسٹک فیبرک یونٹ 2 نے ٹربائن لگائی ہے۔ جس کے باعث ہوا خراب ہو رہی ہے۔ اور آرٹسٹک ملینئر یونٹ 5 اور 8 گندا پانی سکن ندی میں چھوڑ کر مٹی اور واٹر ٹیبل کو متاثر کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ آل ون (اٹلس انجینئرنگ، اورینٹ میکونیکس، ڈائولنس یونٹ 2، این ٹیکس رجی ٹیکسٹائل، زمان ٹیکسٹائل، لکی ٹیکسٹائل بھی نیشنل ہائی وے اور کوئی گوٹھ کے ارد گرد قائم ہیں۔

ان تمام کا ویٹیج سکن ندی میں گرایا جا رہا ہے۔ یہ تمام SEPA سندھ انواکرینٹ پروٹیکشن ایجنسی کے انواکرمنٹ ایکٹ 1979 کو کس حد تک پورا کر رہے ہیں یہ SEPA کو ہی معلوم ہے۔ کیونکہ اس کی درجہ بندی میں اے بی سی کے مطابق ہر اے کیٹیگری کی فیکٹری پر لازم ہے کہ وہ ہر ماہ کسی لیبارٹری کی ٹیسٹنگ رپورٹ SEPA میں جمع کروائے۔ SEPA کے ہوا اور پانی سے متعلق الگ الگ درجہ بندیاں ہیں۔ اب ماحولیات کی 12 ٹیسٹنگ کے جو مستند لیبارٹریز ہیں ان میں ایس جی ایس انوائرمینٹل لیبارٹری، گلوبل انوائرمنٹل لیب GEL، انویٹیکل سسٹینیبل انواکرمنٹل سروسز SES ایچ ایس ای سروسز اینڈ کمپنی، کوالٹی ٹیسٹنگ سروسز، انوائرمنٹل ریسرچ سینٹر بحریہ یونیورسٹی، سپارکو، پیراک ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ فائونڈیشن، ایورگرین انوائرمنٹل لیبارٹری، ایمز ٹیک پرائیویٹ لمیٹڈ، انوائرمنٹل ٹیکنالوجیز لیب حیدر آباد اور دیگر بھی ہیں، یہ تمام مستند ٹیسٹنگ ادارے ہیں۔

ان کے سرٹیفکیٹ بھی ختم ہوتے ہیں۔ یعنی جب ان کو سند دیا جاتا ہے تو اس کی تاریخ تنسیخ بھی دی جاتی ہے انہیں SEPA ہی سند دیتا ہے۔ اسی طرح EIA اور IEE کے یہ دو ادارے کسی بھی انڈسٹری کی شروعاتی ابتدائی حوالے سے یہ بتاتے ہیں کہ انڈسٹری لگائی جائے یا اسے روک دیا جائے۔ یعنی تمام پیچیدگیوں اور باریکیوں کے بعد ہی کوئی فیکٹری کو یہ اجازت ملتی ہے کہ وہ کام شروع کرے یا نہیں۔ اور جب کام شروع کرے تو ہر ماہ ماحولیات سے متعلق رپورٹ دینے ہونگے، اب اتنی باریکیوں سے گزرنے کے بعد بھی ملک میں ماحولیات کو انڈسٹری ویسٹیج کے باعث چیلنجز در پیش ہوں تو یہ لمحہ فکریہ ہوگا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔

اب ہم آتے ہیں گزشتہ دنوں 25 اگست 2020 کو ملیر اور سکن ندی میں سیلاب کی طرف جہاں سیلابی ریلہ نے بہت بڑا نقصان دیا۔ اس کی وجوہات کو تلاش کرتے ہیں تو ایک وجہ سکن کے گرد نواح میں انڈسٹری بھی ہیں۔ اصل میں آلودگی چار چیزوں میں ہوتی ہے۔ ہوا، پانی، مٹی اور شور۔ ان میں سے SEPA ہوا، پانی اور ویسٹیج مینجمنٹ کو دیکھتی ہے۔ ہم ان میں سے صرف پانی Water کو لیتے ہیں۔ جس میں صنعتی آلودہ پانی یعنی انڈسٹریل ویسٹیج دائر ہیں۔

یہ دونوں سیلابی ریلوں کا ایک حد تک سبب بن رہے ہیں۔ صنعتی گدلہ پانی جب ندی نالوں میں گرتا ہے تو اس پانی میں تیل Oil اور گریس جس میں سردست چکنائی ہوتی ہے وہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ اسپیننگ صنعت سے نکلنے والا آلودہ پانی میں کپاس بھی بہتا ہے۔ کپاس ندی کے جس حصے میں پانی کھڑا ہوتا ہے اس کی تہہ میں جا کر بیٹھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اور بہت سارے ایسے عناصر Particals ہوتے ہیں جو ندی کی تہہ میں بیٹھ کر اس زمین کی جذب کرنے کی صلاحیت کو ختم کرتے ہیں۔ اس طرح سالوں سال یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اب شیدی خان گوٹھ کی جنوب سے چند فرلانگ پر سکن ندی کے ساتھ جو مندرجہ بالا فیکٹریاں شروع ہوتی ہیں۔ اور 15 کلو میٹر کے بعد جنوب مغرب کی جانب ملیر ندی نزد قائد آباد کے مقام پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ اس کے بعد قیوم آباد تک پورے ملیر ندی کے ڈیلٹا میں یہی ڈومیسٹک اور انڈسٹریل پانی ہوتا ہے۔ جو زمین پر اتنی موٹی تہہ بنا چکا ہوتا ہے۔ کہ اس زمین سے اب پانی جذب ہو کر واٹر ٹیبل تک جاتا ہی نہیں ہے۔ یعنی جو گدلہ پانی اس کے اوپر تیر رہا ہوتا ہے۔

اسے جب بارشوں کے دوران پانی دھکہ دیتا ہے۔ تو وہ سمندر میں جا کر تو گرتا ہے لیکن وہ موٹی تہہ جو پلستر کر چکا ہے وہ صاف پانی کو ندی کی زمین میں جذب نہیں ہونے دیتا۔ جس سے طغیانی کا خدشہ بڑھتا ہے۔ مٹی Soil گندہ ہونے کے باعث حیاتیات و جنگلات قریب المرگ ہو جاتے ہیں۔ فقیر محمد ولیج کے بالمقابل سکن کے بائیں جانب سورتی اسپننگ اور سورتی ڈینم نے چند فرلانگ پر سکن ندی کے بیڈ میں زمین خود کر ویسٹیج گڑنے کا بندوبست تو کیا ہے لیکن اس کے باعث زمین کی تہہ میں واٹر ٹیبل متاثر ہوا ہے۔ زیر زمین پانی پر اثرات پڑ رہے ہیں۔ دائیں جانب کنوؤں کے پانی زردی مائل اور جھاگ پیدا کر رہے ہیں۔ آرٹسٹک فیبرک یونٹ 2 کے ٹربائن کی آلودگی کے باعث اکتوبر اور مارچ کے مہینوں میں جب ہوا کا دبائو کم ہو کر رک جاتا ہے ان کی آلودگی ایک مستطیل نما علاقے کو اپنے لپیٹ میں لیکر لوگوں میں سینے، دمے اور دیگر بیماریاں پیدا کرتی ہے۔ ٹربائل سے نکلنے والی آلودگی جب درختوں کے پتوں پر پڑتی ہے تو درختوں میں ہوا، روشنی کی جذب کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔

سکن ندی کے گرد نواح میں جب یہ انڈسٹری نہیں تھیں تو اس علاقے میں کاشتکاری عروج پر تھی۔ اب تو یہاں سبزی فروٹ کی پیداوار اپنی جگہ درختوں پر شہد کی مکھیوں نے شہد بنانا تک بند کر دیا۔ اصل میں یہ ماحولیات کی تباہی کا ہندیہ ہے۔ SEPA کو چاہیے کہ وہ لانڈھی میں خصوصاً سکن ندی کے ساتھ تمام انڈسٹریز کی تحقیق کرے۔ ان کے ماہانہ رپورٹ کو دیکھے۔ تا کہ حیاتیات و نباتات کو محفوظ بنا کر انسانی زندگیوں کو بھی کسی بہت بڑے حادثے سے بچایا جائے۔ اور جو انڈسٹری سکن ندی کے اندر تک جا چکے ہیں۔ انہیں فوری طور پر نوٹس جاری کر کے اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ ندی کی بیڈ خالی کریں۔ حالیہ بارشوں کے باعث 25 اگست 2020 کو جب سیلابی ریلے کا پانی سورتی میں داخل ہوا تو یہ خود سوالیہ نشان ہے کہ سورتی کہاں قائم ہے۔ اس کے علاوہ تمام انڈسٹری کی ٹریٹمنٹ پلانٹ دیکھے جائیں کہ انڈسٹریل ویسٹیج کس طرح سکن ندی میں گرائے جا رہے ہیں۔

کیونکہ ماحولیات سب کے لئے اہم ہے۔ جس طرح زندگی سانس لیتی ہے اسی طرح زمین بھی سانس لیتی ہے۔ زمین کی بھی رگیں ہیں۔ ان رگوں کو االودہ ہونے سے بچایا جائے یہی آلودہ پانی جب واٹر ٹیبل میں پہنچ کر صاف پانی کے ساتھ شامل ہوتا ہے۔ تو وہ کنوؤں اور بورنگ کی مدد سے واپس نکال کر انسانوں کے استعمال کے علاوہ نباتات کو دیا جاتا ہے۔ جس سے ہر طرح کی زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ لہٰذا SEPA 1997 کے ایکٹ کے مطابق تمام کو پابندی کرے۔ ملیر کے قدیم لوگوں کو کسی بھوپال ڈیزاسٹر اور چرنوبل ڈیزاسٹر سے بچا کر سکن ندی کے بیڈ کو اس کی فطری حدود اور حسن کو بحال کرائے۔

Share

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *