Blog

بے وجود بستی میں: ملک جان کے ڈی

جب وجودیت کی اختتام ہورہا ہو تو وہاں کوئی چیز معانی نہیں رکھتی۔ نہ وہاں احساسات ، اور نہ کہ محبتوں کی دیوی جلتی ہے ۔ بس ایک چراغ ہے جو اپنی روشنی سے دور کھنڈرات نما اندھیری جھونپڑیوں  کو مدہم مدہم سی  شمع کررہی ہے۔ جب معاشرہ بے حس ہوتی ہے تو یہ سارے محرومی جَنم لیتے ہیں ، معاشرے کے اندر اگر محرومیوں نے نشوونما پایا تو پھر اس معاشرے کے اصل عکس کچھ ہی دنوں میں تبدیل ہونے لگ جاتا ہے،کیونکہ ایک مضبوط معاشرے  کےلئے احساسات اور بھائی چارگی  اتنے اہمیت کے حامل ہیں جتنا زندہ رہنے کےلئے خوراک ،ہوا اور  پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس وقت ہم کسی بھی رُخ سے ایک مہذب قوم نہیں ہیں۔ ہمارا معاشرہ منفی تبدیلی کے اس مرحلے میں ہے جس میں ہم تین میں ہیں نہ تیرہ میں۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں مثلاً مفید سرگرمیاں مفقود ہوگئیں جیسے صحتمندانہ کھیلوں کا انعقاد، لائبریریوں کا وجود، ادبی اور علمی محافل، دینی مجالس، آپس میں مل بیٹھ کر اچھے موضوعات پر تبادلہ خیال وغیرہ۔

 چند برس قبل تک محلے کے بزرگ نوجوانوں کی تربیت پر گہری نگاہ رکھتے تھے، ان کے دلوں میں گھر کے افراد کے ساتھ ساتھ محلے کے بزرگوں کا ڈر بھی رہتا تھا، کوئی محفل ایسی نہیں ہوتی تھی جس میں بزرگ اور نوجوان ایک ساتھ بیٹھ کر تعمیری گفتگو نہ کرتے ہوں۔اس کے علاوہ اساتذہ کا کردار بھی تربیت میں مددگار ثابت ہوتا تھا۔

ایک معاشرے میں منشیات فروشوں کو ہیرو بنایا جائے تو اس معاشرے یا اس سرزمین میں انسان بسنے کی جگہ بس پتلے اپنی بے وجودیت کو معانی خیز بنانے کی لاکھ کوششیں کرتے ہوں گے۔ اگر ایک منشیات فروش کو ہیرو بنایا جائے تو اس دھرتی میں وجودیت کا ”و ” بھی نہیں رہتا، سارے کہ سارے اُن مافیوں کے زمرے میں سانس لیتے ہیں ، جب وہ چاہیں اس سانس کو بھی روک لیتے ہیں ۔

بقولِ سید عمران صاحب کا ” آج ہماری اخلاقیات کی ابتری کا یہ حال ہے کہ بلامقصد اونچی آواز میں غیر مہذبانہ گفتگو کرتے ہیں یہاں تک کہ سڑک پر موٹر سائیکل اور کار سوار بھی اسی طرح گفتگو کرتے ہیں جو سنگین حادثات کا باعث بنتی ہے۔ یہ شور شرابا انسانی اعصاب کو متاثر کرکے چڑچڑے پن اور عدم برداشت کا سبب بنتا ہے۔ہر سال اس شور شرابے اور عدم برداشت کا گراف بڑھ رہا ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اس بے ہنگم شور کو ’’ماحولیاتی آلودگی“قرار دے کر اس کے خلاف باقاعدہ مہم چلاتے ہیں۔

اسی لیے ان ممالک کے ہسپتالوں، درس گاہوں اور رہائشی علاقوں کے قریب بلاوجہ ہارن بجانے پر پابندی ہے، جبکہ ہمارے یہاں جن جگہوں پر ہارن بجانے کی پابندی ہے سب سے زیادہ ہارن ان ہی علاقوں میں بجتے ہیں، اسی طرح جہاں تھوکنا منع ہے وہیں زیادہ تھوکتے ہیں،جہاں کوڑا پھینکنے پر پابندی ہو وہاں کوڑے کاڈھیر لگا ہوتا ہے، کچرے کے ڈبے اندر سے خالی ہوتے ہیں اور اُن کے باہر کوڑے کا ڈھیر لگا ہوتا ہے۔یہ ہے ہماری معاشرتی زندگی کی تربیت کا فقدان کہ ہم ہر وہ کام کرتے ہیں جس سے منع کیا جائے۔

فرض تو یہ بنتا ہے کہ دھرتی کے ہر فرد کو مزاحمت   کرنی ہوگی، آپ کو کئی بھی ظلم یا برابریت دیکھائی دیں تو وہاں ہم آواز ہوکر اتحاد  کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ دنیا بھر میں دیانت داری کو خاص اہمیت حاصل ہے جبکہ ہم زندگی کے ہر شعبے میں بد دیانتی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ کاروبار کی بات کریں تو ملاوٹ ، دھوکہ، فریب اور جعل سازی ہماری پہچان بن چکی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں اہم قومی مواقع پر اشیاء کی قیمتیں کم کر دی جاتی ہیں اور ہمارے یہاں رمضان سے قبل ذخیرہ اندوزی شروع ہو جاتی ہے تاکہ رمضان میں ناجائز منافع خوری کی جاسکے۔طبی میدان کی بات کریں تو معالج مسیحا نہیں پیشہ ور قصاب ہیں جو اذیت میں مبتلا شخص کا خون تک نچوڑ لیتے ہیں ۔

ہم اپنی غلطیوں کی ذمہ داری دوسروں کے سر ڈالتے ہیں۔ معاشرتی اور اخلاقی بدحالی کی ذمہ داری بزرگ نئی نسل پرڈال دیتے ہیں،اُن کے بقول نئی نسل اخلاقیات اور تہذیب سے عاری ہے۔ حالاں کہ اس بگاڑ کے اصل ذمہ دار یہی بڑے ہیں۔ اگر والدین اپنی اولاد کو اخلاقیات کی تربیت دیں اور انہیں برے لوگوں کی صحبت سے بچا کر رکھیں تو ان کے بگڑنے کے امکانات نہایت کم ہوجائیں گے۔اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان نسل کو تباہی سے بچانے کے لیے نوجوانوں کی نفسیات کو مدنظر رکھا جائے، طالب علموں کو نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ مفید غیر نصابی سرگرمیوں میں اتنا مشغول رکھیں کہ وہ منفی سرگرمیوں یا وقت کے ضیاع سے بچیں اور ان کے اخلاق و کردار کی بہتر انداز میں تشکیل ہو.

Share