Blog

عورت اور ہمارا معاشرہ: علی جان مقصود

عورت کو ہمارے معاشرے میں “اعلیٰ مقام” دیا گیا ہے۔ وہ بھی صرف اس لیے کہ انہیں اس دھوکے میں رکھ کر انھیں ہر طرح سے استعمال کیا جائے اور وہ یہ سب کچھ اس لیے برداشت کرے کیونکہ وہ اعلیٰ درجے پر فائز ہیں۔ ان سے اپنے سارے کام نکلوا کر انھیں نوبل اور قابل احترام کہتے ہیں۔ پر کیا واقعی ہم جو کہتے ہیں ویسا عملاً بھی کرتے اور سمجھتے ہیں؟

کچھ دن قبل بلوچستان کے شہر تربت میں ایک دل بہلا دینے والا واقعہ رونما ہوا جب معروف صحافی و آرٹسٹ شاہینہ شاھین کو دن دہاڑے اس کے گھر میں قتل کر دیا گیا۔ درج کردہ ایف آئی آر میں اس کے قتل کا الزام اس کی شوہر محراب خان گچکی پر لگایا گیا ہے۔ پر افسوس یہ ہے کہ ابھی تک وہ پولیس کی گرفت سے دور ہے۔ ڈر تو یہ ہے کہ اگر وقتاً اسے گرفتار نہیں کیا گیا تو شاید [اللّہ نہ کرے] اس کی آزادی دوسرے غیر سنجیدہ مردوں [چند] کو اس جیسا حرکت کرنے پر غور وفکر کرنے کا موقع دے۔

عورت کا کردار بہت اہم ہوتا ہے خواہ وہ گھر کو جنت بنانے کا ہو یا کسی قوم کی خوشحالی کا ہو۔ پر شرط یہ ہے کہ انہیں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ وہ بیشتر امن پسند ہوتے ہیں۔ انھیں تعلیم دینے کا مطلب پورے خاندان و قوم کو تعلیم دینے کے مترادف ہے۔ پر ہم میں سے اکثر خاندان خواتین کو تعلیم سے دور رکھتے ہیں محض اس لئے کہ وہ شادی کرکے ہمارے نہیں رہیں گے اور اکثر انہیں بوجھ کی مانند سمجھتے ہیں۔ پر وہ بوجھ نہیں بلکہ مرد حضرات کی طرح ہی ہیں۔

دُکھ یہ بھی ہوتا ہے جب ہمارے با ادب تعلیم یافتہ طبقہ سب سے زیادہ خواتین کی تعلیم کو منفی اثرات سے بھر دیتے ہیں اور انہیں زیادہ ڈی گریڈ کرتے ہیں۔ اس معاملے میں ناخواندہ لوگ کافی حد تک بہتر ہیں پر عموماً شہر میں۔ البتہ گاؤں والے آج کی تاریخ میں خواتین کی تعلیم پر زور دے رہے ہیں جو کہ ایک خوش آئند قدم ہے۔ اور کافی حد تک یہ اس لیے ممکن ہو سکا ہے کیونکہ آج کل کے نوجوان خواہ وہ مرد ہو یا عورت اپنے حقوق سے باخبر ہیں۔

زندگی کا کوئی بھی معاملہ ہو خواتین کو بہت سنگین مسٔلے درپیش ہوتے ہیں۔ بعض عورتیں زندگی سے تنگ آکر خود کشی کر لیتی ہیں جبکہ کچھ کو معاشرے کے لوگ یا یکطرفہ رسمیں قتل کر دیتی ہیں۔ ان کو یا تو سب کچھ چُھپ چھاپ برداشت کرنا پڑتی ہیں یا مزاحمت کرنی پڑتی ہے جو کہ بلوچ معاشرے کی خواتین ملک سے اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے اکثر کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ عورتوں کو حقیقی معنوں میں جینے کا حق معیا کی جاۓ اور یہ تب تک نہیں ہو سکتا جب تک وہ خود اٹھ کھڑے نہیں ہوتے۔

Share