Blog

میں تھرڈ ڈویژنر ہوں مجھے مار ڈالیے: رفیق چاکر 

سکول کے زمانے سے اکثر اساتزہ کرام اور بڑوں سے یہی سُنتے تھے کہ نقل نسلوں کی تباہی کا سبب بن کر اُن کو کامیابی سے روکتا ہے اور نقل سے ہی انسان کی صلاحتیں ختم ہوکر رہ جاتی ہیں.نقل کا سہارہ لینے والے کبھی کامیاب نہیں ہونگے اور اُن کو مستقبل میں مایوسی اور ناکانی کے سوا کچھ ملنے والا نہیں، نقل ایک زہر ہے جو انسانی دماغ پر حملہ آور ہوتا ہے.یہی باتیں ہم گزشتہ کئی سالوں سے سنتے چلے آرہے ہیں اور اس طرح کی باتوں نے مجھ جیسے سینکڑوں نوجوانوں کی ذہنوں پر اس قدر اثر کیا ہوا ہے کہ سکول کے زمانے میں پرائمری سے مڈل اور مڈل سے ہائی اور یونیورسٹی میں ماسٹرز تک نقل کو زحمت سمجھ کر امتحانات کے دوران سب کچھ اپنی مدد آپ اور بغیر نقل کے کرنے کی کوشش کرتے چلے آ رہے ہیں۔

نقل کو قوموں کی تباہی کے فلسفہ پر عمل کرکے میٹرک سے ایف اے اور ایف اے سے لیکر بی اے تک مسلسل بغیر نقل کے امتحانات پاس کرکے تھرڈ ڈویژن مجھ جیسے سینکڑوں نوجوان کا مقدر بنتا گیا اور ہم یہی سوچتے تھے کہ نقل زحمت ہے اور نقل قوموں کی تباہی کا سبب بنتا ہے. وہی کچھ امتحانات کے دوران کتابیں پھاڈ کر ٹکڑے ٹکڑے کرکے جیب میں ڈالتے تھے اور امتحانات کے دوران لفظ بہ لفظ کتابوں سے نقل کرکے پرچے پر درج کرتے تھے اور ہم اُنہیں ناکام اور تباہی سے دوچار نوجوان تصور کرتے تھے کہ وہ نقل کا سہارہ لینے والے تھے اور ہم جتنا اپنی دماغ سے کرسکتے تھے وہی کرکے سر فخر سے بلند کرتے تھے کہ ہم نسلیں بچائیں گے اور نقل کو جڑوں سے نکال کر اس کا خاتمہ کریں گے۔

جو کتابیں ٹکڑے کرکے جیب میں ڈالتے تھے اور سب کچھ اسی میں سے نقل کرکے پیپر کو سیاہ کر دیتے تھے آج وہی بڑے عہدوں پر فائز ہیں اور ہم جو ترقی اور نقل کے خاتمے سمیت نقل کو قوموں کی تباہی کا سبب قرار دیتے تھے آج تھرڈ ڈویژن کے مرض کا شکار ہوکر یونیورسٹیز سمیت دیگر اہم عہدوں کیلئے نااہل ہیں اور ہمیں تھرڈ ڈویژن کا طعنہ دے کر فارغ کیا جاتا ہے.نقل کو اپنانے والے اور اس کے سہارے سے زندہ رہنے والے آج اہم سرکاری عہدوں پر براجمان ہوکر ہمیں یہ احسان دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس ملک میں نقل قوموں کی ترقی اور کامیابی کا سبب ہے اور اس کے بغیر کامیابی ناممکن ہے.جو ہم بھگت رہے ہیں اس سے بچانے کیلئے میں اپنے بچوں سمیت دیگرکو یہ مشورہ دے کر شرمندگی محسوس نہیں کروں گا کہ بیٹا پڑھنا ضرور لیکن امتحانات میں سب کچھ کتابوں سے دیکھ کر وہی لکھنا اور نقل ہی زحمت کے بجائے رحمت اور نجات دہندہ ہے.نقل کو اپنا تے ہوئے ہم ترقی کرکے اہم عہدوں پر فائز بھی ہوتے ہیں اور کسی بھی بڑے اور اہم عہدے کیلئے کبھی بھی مایوسی نہیں ہوگی۔

آجکل اپنے بچوں کو بورڈ کے امتحانات میں اپنی ذہن سے زیادہ نقل کرکے امتحانات میں بہترین نمبر لینے کیلئے مجھے مجبوراً یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ بورڈ کے امتحانات میں نقل زحمت کے بجائے رحمت اور نسلوں کی تباہی کے بجائے نسلوں کی ترقی اور کامیابی کا سبب ہے اور نقل کو فروغ دے کر ہم امتحانات میں بہترین نمبر حاصل کرکے فرسٹ اور سیکنڈ ڈویژن حاصل کرکے بڑے تعلیمی اداروں میں داخلہ لینے کے ساتھ اہم انتظامی عہدوں پر فائز ہو سکتے ہیں۔

Share