Report

انسدادمنشیات کمیٹی بلیدہ زامران کے رہنماؤں کا پرہجوم پریس کانفرنس: یلان زامرانی

جمعے کے صبح دس بجے تربت پریس کلب میں انسداد منشیات کمیٹی بلیدہ زامران کے چیرمین حاجی برکت بلیدی نے بلیدہ زامران کے دیگر معتبرین و رہنماؤں کے ساتھ ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلیدہ زامران کی عوام نے اسی سال مئی کے مہینے سے عملی طور پر منشیات کی وباء کیخلاف اقدام اٹھا کر منشیات سے نوجوان نسل کی تباہی کے خلاف جگہ جگہ اور بستی بستی مہم چلائی اور منشیات فروشوں سے ملاقاتیں کرکے اکثر و بیشتر اڈے چلانے والوں سے دست بستہ عرضیاں کی کہ جس کی بناء پر اکثر منشیات فروشوں نے اس دھندے سے تائب ہوکر معزز شہری ہونے کی یقین دہانی کرائی۔

انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے پر ہمیں توقع نہ تھی کہ بلیدہ زامران میں منشیات کے افراد کی تعداد ہزاروں میں ہو سکتی ہیں. لیکن ڈیٹا جمع کرنے کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ ہزاروں نوجوان اور بوڑھے اس مرض سے متاثر ہیں. جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں منشیات کے اڑے ہیں۔

ہماری کوششوں سے منشیات کے اڈے بند ہوگئے مگر اکا دکا لوگ اب بھی یہ دھندہ چھپکے چھپکے سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر ہمارا مشن نا صرف بلیدہ زامران تک محدود تھا بلکہ اس مشن کو مکران سمیت بلوچستان بھر تک پھیلانا مقصود تھا اور ہم نے سوشل میڈیا و الیکٹرانک میڈیا میں بھی اس مہم کو فروغ دیا جس پر ہم میڈیا سے وابستہ صحافی حضرات کے بھی مشکور ہیں کہ شروع سے لیکر آخر تک وہ ہرقدم پر ہمارا ساتھ دیتے رہے اور ساتھ ہیں۔

انہوں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت و ضلعی انتظامیہ کے رویے سے یہ واضح ہے کہ وہ خود اس دھندے کی سرپرستی کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس مہم کے دوران ضلع کیچ کی انتظامیہ سے ہماری 12ملاقاتیں ہوئیں لیکن انتظامیہ فقط زبانی کلامی تعاون سے آگے نہ بڑھ سکی جس پر ہمیں سخت افسوس ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت اقدامات اٹھائے ہیں کھنڈرات میں تبدیل ہسپتال کو ہم نے ہی فنکشنل کرکے متاثرہ مریضوں کا علاج کیا اور تقریباً سات سو سے زیادہ مریض ہم نے علاج کیے ہیں، جبکہ کئی مریض ہم نے کراچی و کوئٹہ اور تربت میں بھی شفٹ کیے جو صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ متعدد مریض اب بھی زیر علاج ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نا حکومت نے باثر منشیات فروشوں پر ہاتھ ڈالا ہے نا ادویات کی مد میں ہم سے تعاون کیا ہے.الٹا جو منشیات فروش ہمارے رضاکاروں نے اسلحہ اور منشیات کے ساتھ پکڑ کرکے فورسز کے حوالے کیے تھے انتظامیہ نے ایک ہفتے کے بعد انہیں چھوڈ دیا۔

انہوں نے کہا کہ علاقے میں نہ تحصیلدار بیٹھتے ہیں اور نا ہی اسسٹنٹ کمشنر موجود ہوتے ہیں. حکام بالا تک متعدد بار آواز پہنچائی ہے لیکن فی الحال وہ خاموش ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر تحصیلدار اور اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر انتظامیہ کو پوسٹ نہیں کیا گیا اور حکومت نے تعاون نہیں کیا تو ہم احتجاج کا حق رکھتے ہیں اور پہلے مرحلے میں بلیدہ زامران اور پھر تربت اور کوئٹہ اور اسلام آباد تک مارچ و دھرنا دے سکتے ہیں. کیونکہ ہم علاقے کو مزید لاوارث نہیں چھوڈ سکتے۔

Share

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *