Movie

بلوچی فلم “ملار” پر تبصرہ: عبدالحلیم

بلوچی زبان کے نوجوان فلم میکر و ہدایت کار کمالان بیبگر کی نئی فلم “ملار” یوٹیوب چینل پر نشر کردی گئی ہے۔ ملار بلوچی زبان میں ایسی کیفیت کو کہتے ہیں جس میں آدمی اپنے خیالوں میں گم ہوجاتا ہے۔

فلم کا مرکزی کردار ایک دیوانہ عاشق رفیق نامی شخص ہے۔ دوسرے مرکزی کردار میں بلوچی فلم کے معروف اداکار عومر جلوہ افروز ہیں جس میں وہ ڈاکٹر کا کردار ادا کررہے ہیں۔

فلم میں رفیق کو اپنے گھر کے ایک کمرے میں تنہا زندگی بسر کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ رفیق کو زمانہ طالب علمی کے دوران یونیورسٹی میں ایک لڑکی سے عشق ہوجاتا ہے۔ عشق کا یہ تعلق اس قدر گہرا ہوتا ہے کہ رفیق اپنی کتابوں میں دلچسپی لینے کے بجائے ہمیشہ اپنے محبوب کے خیالات میں گم سم رہتا ہے۔

عشق کا یہ جنون رفیق میں غیر معمولی تبدیلی لیکر آتا ہے جس سے رفیق کے یونیورسٹی کے دوست ہر گزرتے دن پریشانی کا شکار بن جاتے ہیں۔

پھر ایک دن ایسا بھی آجانا ہے کہ رفیق کا عشق سماج کے رسم و رواج کے سامنے بے بس ہوکر کسی دوسرے سے شادی کر لیتی ہے۔ رفیق اپنے محبوب کے بچھڑنے کا یہ غم برداشت نہیں کرپاتا۔ اس کو یونیورسٹی کے در و دیوار اداس لگنے لگتے ہیں اور وہ بالاآخر اپنی پڑھائی کو خیر آباد کہہ کر گھر کی واپسی کی راہ لیتا ہے۔

گھر لوٹنے کے بعد وہ بے بسی کی مجسم تصویر بن کر رہ جاتا ہے۔ دیوانوں کے جیسی باتیں کرتا ہے جس کی وجہ سے رفیق کے گھر والے یہی سمجھتے ہیں کہ رفیق ذہنی مریض بن گیا ہے۔ لیکن رفیق اپنے گھر والوں پر اس بات کا شائبہ تک نہیں پڑنے دیتا کہ یہ دیوانگی عشق کے چھوٹ جانے کا نتیجہ ہے۔ وہ اپنا سارا غم اپنے سینے میں چھپائے رکھتا ہے۔

رفیق کے گھر والے رفیق کی حالت سے گھبرا کر ایک ڈاکٹر کی خدمات لیتے ہیں۔ جب ڈاکٹر رفیق سے ملاقات کرتا ہے تو رفیق اپنی ساری داستان غم ڈاکٹر کے سامنے بیان کر دیتا ہے جس سے پتہ چل جاتا ہے کہ رفیق پر جو دیوانگی طاری ہوئی ہے اس کی وجہ محبوب کی جدائی ہے۔

فلم کے کلائمکس میں رفیق خود کشی کرکے اپنی زندگی کا خاتمہ کردیتا ہے۔

ملار فلم عشق و عاشقی کے موضوع پر فلمایا گیا ہے جس میں شاید فلم بینوں کے لئے کچھ نیا نہیں ہو۔ مگر فلم کی کہانی کو دیکھتے ہوئے یہی کہا جاسکتا ہے کہ فلم کے ھدایت کار و کہانی نویس نے معاشرے کی مجموعی مایوسی کی کیفیت کو اجاگر کرنے کی کوشش اور نوجوان نسل کو ہر مشکل حالات سے نمٹنے، اور تعلیمی کیرئیر پر توجہ دینے کی تلقین کی ہے جس کے لئے شاید رفیق کے کردار کو فلم بینوں کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ فلم کی تیاری میں ہدایت کار نے بڑی محنت کی ہے جس کا اندازہ فلم کے ڈائیلاگز سننے کے بعد لگایا جاسکتا ہے۔ فلم کے تکنیکی شعبہ پر بھی اچھی خاصی توجہ دی گئی ہے۔ بالخصوص فلم کے لئے جن کرداروں کا انتخاب کیا گیا ہے، انہوں نے بھی اپنے کردار سے انصاف کیا ہے۔

انہی وجوہات کی بناء پر اس فلم کو ایک اچھی اور معیاری فلم کہا جاسکتا ہے۔

Share