Report

نئے سال کے اولین ہفتے میں ہی بلوچستان سے پہلی کتاب “آواران سے یاری” کے نام سے شائع ہو چکی ہے

نئے سال کے اولین ہفتے میں ہی بلوچستان سے پہلی کتاب “آواران سے یاری” کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔ یہ کتاب آواران کی معاصر صورت حال، تاریخی تذکروں اور آواران کی تاریخ کے پہلے تعلیمی و ادبی میلے کے احوال پر مشتمل ہے۔

کتاب میں عابدمیر کا رپورتاژ شامل ہے۔ جس میں آواران کے سیاسی، ثقافتی اور ادبی احوال کا تذکرہ ہے۔ دوسرے حصے میں شبیر رخشانی نے بلوچستان ایجوکیشن سسٹم نامی ادارے کی تشکیل، آواران علمی و ادبی میلے کا احوال اور علاقے میں سرگرمیوں کی تفصیل بتائی ہے۔ کتاب کا تفصیلی دیباچہ نجیب سائر نے لکھا ہے۔ جب کہ آخر میں ضمیمے کے بطور خلیل رونجھو کی آواران تعلیمی و ادبی میلے سے متعلق رپورٹ شامل کی گئی ہے۔

علمی و ادبی حلقوں نے کتاب کا خیر مقدم کرتے ہوئے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ کتاب آواران کے علمی، سیاسی و ثقافتی پس منظر کو سمجھنے میں معاون ہو گی۔ خصوصاً وہ لوگ جو بلوچستان کے اس پسماندہ، دوردراز اور نظراندازکردہ علاقے کو جاننا اور سمجھنا چاہیں، وہ اس مختصر رپورتاژ سے خاطرخواہ فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔

تصاویر کے ساتھ 80 صفحات پر مشتمل کتاب کی قیمت دو سو روپے ہے۔ اسے مہردر کوئٹہ اور علم و ادب کراچی نے مشترکہ طور پر شائع کیا ہے۔ کتاب جلد کوئٹہ اور کراچی کے معروف بک اسٹورز پہ دستیاب ہو گی۔ بلوچستان بکس آن لائن کی جانب سے اس کی آن لائن سیل بھی لگائی گئی ہے۔ کتاب آن لائن منگوانے کے لیے مندرجہ ذیل نمبروں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے

Share

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *