Blog

ستر سالہ بوڑھے کی آہ اور مدینے کی ریاست: اسحاق معیار

مچھ کے المناک واقعہ کے بعد
کوئٹہ کی شدید سردی میں ایک ستر سالہ بوڑھا باپ پچھلے چھ دنوں سے اپنے اٹھارہ سالہ بیٹے کی ذبح شدہ لاش کو سڑک پر رکھ کر دھرنے میں بھیٹا ہے۔بوڑھا باپ اپنے وقت کے حکمرانوں سے سوال کر رہا ہے کہ مدینے کی ریاست کی تشکیل کرنے والوں میرے جوان سال بیٹے کی لاش کے لیے میں نہ کوئی معاوضہ چاہتا ہوں ناں ہی کوئی مال و متاع مانگ رہا ہوں
بس ریاست مدینے کے خلیفاؤں سے کوئٹہ کی آمد چاہتا ہے, اور انھیں یہ دیکھانا چاہتا ہو کہ جب ایک بوڑھے باپ کے لخت جگر کو زبح کردیا جائے تو اس باپ پر کیا گزرتی ہے,اس پہ کیا رقت طاری ہوتی ہے ۔ وہ ریاست مدینے کے وزیر اعظم کو اپنے اوپر ہونے والے قیامت صغریٰ کا منظر دیکھانا چاہتا ہے۔
وہ وزیر اعظم کو بلوچستان آمد پر ان تمام بوڑھے ماں باپ کے لخت جگروں کے مقبروں کو دیکھانا چاہتا ہے,اسے یہ بتانا چاہتا ہے کہ بلوچستان میں رہنے والے کس درد و کرب کی زندگی گزار رہے ہیں, کس طرح کی اجیرن کی زندگی بسر کر رہے ہیں_یہ عمر رسیدہ شخص وزیر اعظم کو اپنے گلستان میں بہتے ہوۓ لہو کی نہریں دیکھانا چاہتا ہے کہ کس طرح انکی چمن کو انکے لہو سے سینچا جارہا ہے ۔
ایک بوڈھے باپ کی فریاد بس ایک ہی ہے کہ مجھ جیسے بد نصیب باپ کی طرح مزید اور کوئی دوسرا باپ اس طرح اپنے لخت جگروں کو کندھا نہ دیں۔
وہ اسی آس پہ بیھٹا ہوا ہے کہ اسکی دل دہلانے والی چیخ و پکار کو ریاست مدینے کے حکمراں سن پاتے ہیں؟؟؟

لیکن وقت حکمران اس قدر غفلت کی نیند سو رہے ہیں,جو اپنے نرم گوشوں کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں,اپنے ایوانوں سے باہر نکلنے کے لیے کوئی تیار نہیں ہیں۔

ریاست مدینہ کی تشکیل کا دعوا کرنے والے حکمراں حضرت عمر فاروق جیسے عظیم مرتبہ والے کے کردار سے بھی نابلد ہیں۔ حضرت عمر فاروق ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ” اگر میری سلطنت میں ایک کتا بھی بھوک سے مریں تو اسکا ذمہ دار میں عمر ہوں” لیکن صد افسوس ریاست مدینے کے حکمرانی کے دعویدار ملک میں غریب مزدوروں کو ذبح کرنے والوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کی بات تو دور یہ ان لواحقین کی داد رسی کو تیار نہیں ہیں ۔ اس واقعے پر پورے دنیا میں غم و غصہ پایا جاتا ہے جبکہ ریاست مدینے کے وزیر اعظم چھ دن سے ٹس سے مس بھی نہیں ہو رہا ہے۔
یہ کس طرز کی حکمرانی ہے۔ گفتار مدینے کی ریاست کا کرتے ہیں اور کردار فرعون سے بھی دو قدم آگے۔

Share

1 COMMENTS

  1. Hey there just wanted to give you a quick heads up. The words in your article seem to be running off the screen in Internet
    explorer. I’m not sure if this is a format
    issue or something to do with browser compatibility but
    I thought I’d post to let you know. The layout look great though!
    Hope you get the problem resolved soon. Many thanks

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *