Article

مزاحمت اور مفاہمت: ڈاکٹر مبارک علی

جب بھی کسی معاشرے میں طاقت کا توازن بگڑتا ہے تو طبقاتی فرق کے ساتھ ناانصافی،جبر ،ظلم اور استحصال پیدا ہوتا ہے۔ ان حالات میں معاشرے میں دو قسم کے رجحانات پیدا ہوتے ہیں۔ مزاحمت اور مفاہمت۔ جو افراد کہ مزاحمت کا راستہ اختیار کرتے ہیں ان میں شدید جذبہ اس بات کا ہوتا ہے کہ معاشرے کے نظام کو ازسرنو تشکیل دیں جو طاقت کے توازن کو برقرار رکھ کر ناانصافی اور استحصال کا خاتمہ کرسکے ۔ مزاحمت کرنے والے افراد تنہا بھی ہوتے ہیں،جماعتوں اور گروپس کی شکل میں بھی ہوتے ہیں۔ان کے کردار کی خاص بات یہ ہوتی ہے کہ یہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر عمومی طور پر لوگوں کی فلاح وبہبود اور معاشرے کی بہتری کے بارے میں سوچتے ہیں۔ دوسری خاص بات مزاحمتی عناصر کی یہ ہوتی ہے کہ ان کے سامنے کوئی مقصد،نصب العین،پروگرام ہوتا ہے کہ جو کسی نظریہ اور فکر پر مبنی ہوتا ہے۔ اس لئے یہ ایک مشنری جذبہ کے تحت اپنے مقصد کی تکمیل چاہتے ہیں۔ مقصد کی تکمیل کے خاطر یہ اپنی جان تک قربان کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ مزاحمت ان میں ایک ایسی توانائی پیدا کردیتی ہے کہ جس کے تحت یہ قید و بند کی صعوبتیں اور مصائب و تکالیف کو برداشت کرلیتے ہیں۔

ان کے برعکس وہ افراد ہوتے ہیں کہ جو مزاحمت کے بجائے مفاہمت کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ ان کے دلائل یہ ہوتے ہیں کہ معاشرے میں تبدیلی کی قوتیں اس قدر کمزور ہیں،اور مراعات یافتہ اہل اقتدار اس قدر طاقتور ہیں کہ ان سے مزاحمت خودکشی کے مترادف ہے۔لہذا ان حالات میں ذاتی بقاء اور حالات کے تقاضوں کے تحت مناسب یہی ہے کہ حالات سے سمجھوتا کرلیا جائے اور خود کو معاشرے کے نظام سے منسلک کرکے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کیے جائیں۔ یہ ذہین میں رکھنا ضروری ہے کہ مفاہمت کرنے والے افراد ہوتے ہیں،یہ مفاہمت کی کسی تحریک سے جڑے ہوئے نہیں ہوتے ہیں،کیونکہ مفاہمت تحریک کی شکل میں نہیں ابھرتی ہے۔ یہ افراد کے ارادوں اور مقاصد کی تکمیل کرتی ہے۔
مزاحمت اور مفاہمت حالات کے تحت اپنی شکلیں بدلتے رہتے ہیں۔مثلا مزاحمت کی ایک شکل یہ ہوتی ہے کہ غیر ملکی طاقت جو کہ اس ملک پر قابض ہے ،اس کے خلاف تحریک چلائے ۔جیسے ہندوستان میں مختلف قسم کی مزاحمتی تحریکیں انگریزوں کے خلاف اٹھیں۔ یورپ میں جرمنوں کے تسلط کے خلاف مزاحمتی تحریکوں نے آزادی کے جذبہ کو برقرار رکھا۔ لیکن جہاں غیر ملکی اقتدار کے خلاف مزاحمت ہوتی ہے، وہیں پر ان کو سہارا دینے والے افراد ان سے مفاہمت کرکے اپنے ذاتی مفادات پورے کرتے ہیں جیسے فرانس میں نازیوں کی حمایت میں وشی (vichy) نے حکومت بنائی اور مزاحمتی تحریکوں کو کچلنے میں اس کا ساتھ دیا۔
ہندوستان میں جن افراد یا جماعتوں نے انگریزوں کی حمایت کی ان کے دلیل یہ تھی کہ چونکہ مقامی حکمراں سیاسی طور پر ناکام ہوگئے ہیں۔ملک پسماندہ ہوکر جہالت کے اندھیرے میں چلا گیا ہے،اس لیے سوائے اس کے اور کوئی علاج نہیں کہ ترقی یافتہ غیر ملکیوں کا ساتھ دے کر ملک کو جدید اور ترقی یافتہ بنایا جائے۔ نوآبادیاتی دور کے خاتمے کے بعد کم و بیش آج ہی دلیل گلوبلائزیشن کی حمایت کرنے والے دے رہے ہیں،اور اس کی مزاحمت کرنے والوں کو پسماندگی کا طعنہ دے رہے ہیں۔

مزاحمت کے مثبت اور منفی دونوں پہلو ہوتے ہیں۔ جب بھی جدید اور قدیم روایات میں تصادم اور کشمکش ہوتی ہے۔ تو یہ دو مزاحمتی عناصر ایک دوسرے سے باہم دست وگریباں ہوجاتے ہیں۔ لیکن اس مضمون میں جب ہم مزاحمتی تحریک کا ذکر کرتے ہیں تو اس سے ہماری مراد وہ تحریک اور عمل ہے کہ جو تبدیلی کا خواہشمند ہے اور جو قدامت اور سالخوردہ روایات اور اداروں کی جگہ جدیدیت چاہتا ہے۔

معاشرے میں جب بھی مزاحمت اور مفاہمت کے بارے میں بحث و مباحثہ ہوتا ہے تو باشعور افراد کے لیے انتخاب ہوتا ہے کہ وہ کونسا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ مفاہمت میں دنیاوی فوائد ہوتے ہیں۔ شہرت،دولت،خوشحالی اور بے فکری۔جب کہ مزاحمت اختیار کرنے والوں کے لیے قید و بند،سزائیں ،اذیتیں ،مفلسی ،غربت اور تنہائی ہوتی ہے۔ معاشرے میں انہیں عزت اور مرتبہ اسی وقت ملتا ہے کہ جب مزاحمتی تحریک کامیاب ہوجاتی ہے ورنہ یہ لعن طعن اور تنقید کا نشانہ بنتے ہیں۔۔

مزاحمتی تحریکیں سیاسی حالات کے تحت بدلتی رہتی ہیں۔ اگر یہ تحریک بادشاہت،آمریت اور مطلق العنان حکومت کے خلاف ہوتی ہے تو اسی صورت میں یہ اپنی سرگرمیوں کو خفیہ رکھتی ہیں اور تبدیلی کے عمل کو تیز کرنے اور جابر حکومت کو خوف زدہ اور کمزور کرنے کے لیے تشدد کا راستہ اختیار کرتی ہیں۔ تاریخ میں ایسی مزاحمتی تحریکوں کے بارے میں بہت مواد موجود ہے۔ موجودہ زمانہ میں زار روس کے عہد میں پرتشدد مزاحمتی تحریکیں اٹھیں جنہوں نے بادشاہوں اور اس کے وزراء کو قتل کرکے حکومت میں خوف و ہراس پیدا کیا۔ ایران میں شاہ کے زمانے میں ان تحریکوں نے مزاحمت کے جذبات کو ژندہ رکھا چونکہ ان کی مزاحمت طاقتور اداروں سے ہوتی ہے،اس لیے یہ ان کی طاقت کو توڑ کر انقلاب کی بات کرتے ہیں۔ یعنی قدیم نظام کو مکمل طور پر الٹ کر اس کی جگہ نیا نظام لایا جائے۔

جمہوری ملکوں میں مزاحمتی تحریکیں دستوری طریقوں سے استعمال کرتی ہیں،جن میں مظاہرے،اسٹرائیکیں،اپیلیں،دستخطی مہمات، بھوک ہڑتال اور گھیراؤ شامل ہوتے ہیں۔ ان تحریکوں کے مقاصد میں انقلاب نہیں بلکہ نظام کی ارتقائی اور اصلاحی تبدیلی ہوتی ہے۔ یہ جمہوری اداروں،یعنی اخبارات اور پمفلٹوں و رسالوں کے ذریعے اپنے خیالات لوگوں تک پہنچاتے ہیں اور لوگوں کے ذہن کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ عوامی دباؤ کے زریعے سے تبدیلی کے عمل کو لایا جائے۔

مزاحمتی تحریکوں کی کامیابی اور مقاصد کی وضاحت کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ ان کی ذہنی و فکری بنیاد مضبوط ہو۔ یہ کام شاعر،ادیب،دانشور،مفکر،صحافی,فلم ساز ،مصوراور موسیقار کرتے ہیں۔ یہ لوگوں میں اپنی تخلیقات کے ذریعے ناانصافی کے خلاف شعور پیدا کرتے ہیں۔ جو تحریکیں فکری لحاظ سے بھرپور ہوتی ہیں،ان سیاست میں مقصدیت،جذبہ اور توانائی ہوتی ہے۔ اس کی ایک مثال جنوبی افریقہ کی اے ۔این۔سی (افریقن نیشنل کونسل) تھی کہ جس نے نسل پرستی کے خلاف ہر محاذ پر موثر مزاحمتی تحریک چلائی۔
لیکن جہاں مزاحمتی تحریکیں محض سیاسی اقتدار کے حصول پر قائم ہو ،وہ تحریکیں بالآخر کامیاب ہونے کے باوجود ناکام رہتی ہیں،کیونکہ ان کا مقصد صرف سیاسی اقتدار حاصل کرنا ہوتا ہے،نظام کی تبدیلی نہیں،اس لیے معاشرہ اور اس کے مسائل اپنی جگہ رہتے ہیں۔ اور محض سیاسی تبدیلی ان کی تقدیر نہیں بدلتی ہے۔

اس پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان میں مزاحمتی تحریکیں تھیں یا نہیں؟ اگر پاکستان کی تاریخ کو مزاحمتی تحریکوں کے حوالے سے دیکھا جائے تو سیاسی طور پر اتنا ضرور نظر آتا ہے کہ ایوب خان کے دور میں طالب علموں نے حکومت کے خلاف مظاہرے کیے،بھٹو دور میں طالب علموں کا کردار گھٹ جاتا ہے اور تھوڑی بہت مزاحمت ٹریڈ یونینز کی ملتی ہے یا پھر بلوچستان میں مسلح مزاحمت اٹھتی ہے۔ضیاء کے عہد میں عورتوں کی جانب سے مزاحمت کی جاتی ہے،یا سیاسی کارکنوں نے انفرادی،یا چھوٹے چھوٹے جتھوں میں حکومت کی مخالفت کی۔۔اور اہم مزاحمت ایم ۔ آر۔ڈی کی تھی جسے جبر و تشدد کے ساتھ کچل دیا گیا ہے۔

اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستانی معاشرے میں مزاحمت سے زیادہ مفاہمت کا رویہ سیاستدانوں،دانشوروں اور صحافیوں میں پایا جاتا ہے۔ جب بھی ملک میں سیاسی بحران آتے ہیں،تو سیاسی رہنما ملک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں،دانشوروں کی اکثریت حالات سے سمجھوتا کر لیتی ہے اور حکومت کی تعریف و توصیف اور خوشامد میں اپنی ذہنی صلاحیتوں اور تخلیقات کو صرف کرکے حکومت کی جانب سے خطابات و انعامات وصول کرلیتی ہے۔
پچھلے دنوں مفاہمت کرنے والوں کے رویہ پر کچھ مقبول عام کتابیں لکھی گئی ہیں،جن میں ،،سیاستدانوں کی قلابازیاں،، اور ،،کالم نگاروں کی قلابازیاں،، قابل ذکر ہیں۔ مگر قلابازیوں کا دائرہ انہیں تک محدود نہیں ہے ان میں شاعر،ادیب،آرٹسٹ،بیوروکریٹس اور صنعت کار سب ہی آتے ہیں۔ معاشرے میں عام رویہ یہ ہے کہ مزاحمت کے نتیجہ میں سوائے تکلیف اور نقصان کے کچھ نہیں۔اس کے برعکس مفاہمت کے زریعے اپنا خاندان کا بھلا ہوتا ہے۔ جب مفاہمت کی فلاسفی مقبولیت کا درجہ اختیار کرلے تو معاشرے میں مزاحمت کرنے والے، یا اس کا ارادہ رکھنے والے معاشرے سے کٹ جاتے ہیں۔

اب سوال یہ ہوتا ہے کہ آخر پاکستان میں مزاحمت کی تحریکیں کیوں نہیں ابھریں؟ اور آخر کیوں لوگوں نے حکومت کو چاہیے وہ آمرانہ ہو، فوجی ہو، یا جمہوری اسے کیوں قبول کرلیا؟ اگر اس سوال کا جواب ڈھونڈا جائے تو مشکلات کے باوجود اس کا تجزیہ کیا جاسکتا ہے۔
مثلاً ایک وجہ تو پاکستان کے معاشرے کا تاریخی ذہن ہے ۔ جو ہماری تاریخ اور اس کے نقطہ ہائے نظر سے پیدا ہوا ہے وہ یہ ہے کہ اتھارٹی کے خلاف بغاوت نہ کی جائے جو ایک جرم ۔ فرمابرداری اور اطاعت گزاری،کردار کی اہم خوبیاں ہیں۔ معاشرے کے پورے ڈھانچہ میں فرد کا جو بھی مقام اور حیثیت ہے ۔ اس میں چیلنج کرنا، حکومت کی خلاف ورزی کرنا، سماجی اور ثقافتی طور پر برا سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے اتھارٹی جس کے پاس ہو، اس کی اطاعت ضروری ٹھہرتی ہے۔

دوسری اہم وجہ ہمارے معاشرے میں زمینداروں اور جاگیرداروں کے طبقہ کی دولت اور طاقت ہے۔ تاریخی طور پر اس طبقہ کا مفاد ہمیشہ اس میں ہوتا ہے کہ صاحب اقتدار کے ساتھ تعاون کیا جائے ۔ چنانچہ سلاطین کا عہد ہو، یا مغلوں اور انگریزوں کا یہ ہر حکومت کے ساتھ شریک رہے ۔ چونکہ اسی طبقہ کی قیادت سیاسی جماعتوں میں ہے اسی لیے کوئی سیاسی جماعت مزاحمت کو اختیار نہیں کرتی ہے ۔ آج ہر سیاسی جماعت بار بار یہ اعلان کررہی ہے کہ وہ فوجی حکومت کی مخالفت نہیں کرے گی ۔ یہی جماعتیں ماضی میں فوجی حکومتوں کے ساتھ تعاون کرکے، اقتدار میں شریک ہوتی رہی ہیں۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں متوسط طبقے کو جو تاریخی طور پر تبدیلی کا ایجنٹ ہوتا ہے وہ بہت کمزور ہے ۔ ان میں سے بھی وہ افراد کے جن میں صلاحیت اور ذہانت تھی وہ این۔ جی۔ اوز میں جاکر گم ہوگئے۔ بلکہ موجودہ فوجی حکومت کو سہارا دینے والے این۔جی۔اوز کے بڑے بڑے دانشور ہیں، جنہوں نے کسی مزاحمت کے بجائے ، مفاہمت کا راستہ اختیار کرکے،فوجی حکومت کو مضبوط بنانے میں مدد دی ہے۔ متوسط طبقہ اس وجہ سے اور کمزور ہوگیا کہ اس کے پروفیشنل افراد نے ملک میں رہنے کے بجائے غیر ملکوں میں جاکر رہنا پسند کیا ۔

اس لیے تعلیم یافتہ اور پروفیشنل افراد کی مسلسل ہجرت ، اس طبقہ کے کردار کو کمزور کررہی ہے ۔
چوتھی وجہ یہ کہ تبدیلی کے دوسرے ایجنٹ یعنی طالب علم ،ٹریڈ یونینز کے رہنما اور دانشور،یا تو یہ خاموش ہیں، یا مفاہمت کیے ہوئے ہیں؟ پاکستان کی یونیورسٹیوں میں جس قسم کا تعلیمی نصاب ہے ،اس میں کوئی نئی فکر اور فلسفہ نہیں کہ جو ذہنوں کو تبدیل کرے اور طالب علم ان فکری بنیادوں پر معاشرے کو تبدیل کرنے کے لیے تحریک چلائیں۔ ایوب خان کے زمانے سے تعلیمی اداروں میں جو سیاست پر پابندیاں لگیں اور تعلیمی نظام کو ریاست کے تسلط میں لاکر بے جان بنایا گیا،اس نے تخلیقی ذہن اور توانائی سے بھرپور نوجوانوں کی تربیت بند کردی ہے۔ لہذا ایوب خان کے بعد سے ہم کسی بھی دور میں طالب علموں کو مزاحمتی تحریکوں میں نہیں دیکھتے ہیں۔

جب معاشرے میں مزاحمت ختم ہو جائے، یا کمزور ہوجائے تو اس کے نتیجے میں معاشرے میں نہ تو جاندار تخلیقی ادب پیدا ہوتا ہے، نہ آرٹ و موسیقی، اور فلم سازی میں انقلابی نظریات آتے ہیں۔ سمجھوتہ اور مفاہمت ذہن کو بے جان اور مردار بنادیتی ہے۔ جس کا اثر ہم پاکستان کے ادب، آرٹ،موسیقی ، اور فلموں میں دیکھ رہے ہیں۔
جب سیاسی جماعتیں بھی مفاہمت کا راستہ اختیار کرلیں ، تو پھر عوام تنہا اور اکیلے رہ جاتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں ان میں بے حسی ، بے چارگی، اور لاچارگی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ وہ خود کو خاموشی سے حالات کے حوالے کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پھر کسی بھی آمر اور ڈکٹیٹر کو حکومت کرنے میں دشواری پیش نہیں آتی ہے۔ جب لوگوں کی مایوسی حد سے آگے بڑھ جائے۔ ان کے راستے بند ہو جائیں۔ ان کے رہنما اور دانشور اہل اقتدار کی خوشامد میں مصروف ہوجائیں،تو پھر وہ مزاحمت کے بجائے، خودکشی کو تمام مسائل کا حل سمجھ کر، اس راستے کو اختیار کرلیتے ہیں۔

Share

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *