Blog

حرام سیاست , حلال سیاست: صادق صبا

میکاولی سے گرامچی تک جس جس نے فلسفہ سیاست پہ مغز ماری کی اور دنیا و جہان کا دقیق فلسفہ ضبط تحریر میں لانے کی بے وقوفی کی تو گویا وقت بربادی کی، چونکہ یہ تمام کا تمام فقط فلسفہ حکمرانی فقط ہے . اگر آپ میرے دعوے سے مانع ہیں تو یقیناً آپ نے فتویات جام کمالیہ نہیں پڑھا اور سنا ہوگا، جو بدقسمی کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔
فتوعات کمالیہ میں سیاست کے حرام و حلال کا اسلامی طریقہ کار وضع کیا گیا ہے . مثلاً
ایک سال قبل جب ڈنّک میں ایک ماں کو رات کے اندھیرے میں بے دردی سے قتل کیا گیا , اس کی بیٹی کو بھی گولیاں ماری گئیں پیآم ازل سے ماں شہید ہوگئی اور بیٹی درد سہتے سہتے زندہ تو ہیں لیکن ماں کے سائے سے محروم , جب عوام اور عوامی نمائندگان نے حکومت وقت کو خواب خرگوش سے جگانے کی کوشش کی تو یہ فتوعات کمالیہ کے مطابق حرام سیاست تھی . تمام حکومتی مشینری زرہ و بکتر بند ہاتھوں میں اشاروں کی تلوار اور زبان پہ دھمکی آمیز للکار لئے ٹوئٹر کے مشکل ترین میدان میں نمودار ہوئے اور چلا چلا کر کہنے لگے یہ سیاست نہیں , اس کو سیاسی مسئلہ نہ بنایا جائے. اپوزیشن اور عوام سیاست کررہی ہے. اور یہ سیاست نہیں سازش بہ خلاف ریاست ہے ۔

اب نادان عوام و اپوزیشن نے لنکن کے جمہوریت کا ڈھکوسلا رٹ لیا تھا اور اپوزیشن میکاولی و روسو حق اختلاف کا قائل . یہ حرام سیاست تھی مگر کون بتائے کہ سب فتوعات کمالیہ سے بے بہرہ اسلئے تربت میں ایک اور واقعہ رونما ہوتا ہے , حیات بلوچ کو دن دہاڑے شہید کیا جاتا ہے . اور پورے پاکستان میں ایک شور مچ جاتا ہے لیکن تمام صوبے اسے انسانی جذبات کا احترام سمجھتے ہوئے قبول کرتے ہیں ماسوائے سرزمین بلوچستان کہ جہاں فتوعات کمالیہ کی روح سے یہ سراسر حرام ہے . نتیجا عوام اور اپوزیشن کو جھاڑ پلائی جاتی ہے . عوام کو کہا جاتا ہے کہ آپ نادان ہیں یہ اپوزیشن آپ کو حرام کا مرتکب بنارہی ہے. لیکن حرام سیاست جاری رہتی ہیں۔

جنت کے ساتویں دروازے مطلب گوادر میں دوزخیوں (عوام ) کے داخلے کو محدود کرنے کیلئے باڑ لگایا جاتا ہے تو عوام اور ایم پی اے شور مچاتے ہیں کہ ایک شہر کو محصور کرنے کا یہ انوکھا واقعہ چے معنی دارد ؟ اسے رکوائیں تو مفتیان اہل حکمران یہ فرماتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ یہ سیاسی مسئلہ نہیں گوادر کے عوام کی حفاظت ہے لہذا اس پر سیاست نہ کریں .

بانک کریمہ کے لاش کی حوالگی کے معاملے میں بھی جب پس و پیش ہوئی تو عوام نے اسے بھی ناجائز قرار دے دیا جس پہ حکمران جماعت آگ بگولہ ہوگئی اور اسے غیر سیاسی مسئلہ گردان کر عوام کو کہا گیا یہ سیاست نہیں . دوسرے لفظوں میں یہ حرام سیاست ہے  جب کہ عوام کو حلال سیاست کرنی ہے۔

حلال سیاست یہ ہے کہ چھپ سادھ لو , یا روٹی دو کپڑا دو ورنہ کرسی چھوڑ دو کا نعرہ لگاتے جاؤ اور بہتر سالوں کی طرح عیش مناؤ۔

Share

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *