Blog

درد کا رشتہ: زرینہ بلوچ (راجی)

درد کا رشتہ بھی کتنا عجیب ہے، ہم بلوچوں کا ایک دوسرے کے ساتھ درد کا رشتہ ہے جس نے ہم سب کو جُڑے رکھا ہے کیونکہ بلوچستان میں ایسا کوئی گھر نہیں جس کی خوشیاں ان سے چھین نہ لی گئی ہوں۔ کسی نہ کسی کا پیارا لاپتہ ہے۔ ہر ایک خاندان سے لوگ گمشُدہ ہیں۔کسی تاریک کمرے میں قیدی بن کر زندگی گُزار رہا ہے کسی کو بھی پتہ نہیں، کس حال میں زندہ ہے یا دنیا سے رخصت ہو گیا ہے یہ بھی پتا نہیں۔

بلوچستان میں کردار مختلف ہیں، لیکن کہانیاں اور درد ایک جیسے  ہیں۔ اس لئے ہم سب ایک دوسرے کے درد کو سمجھتے ہوئے ایک دوسرے کیلئے روتے اور چلاتے ہیں کہ ہمارے پیاروں کو بازیاب کرو کیونکہ انکے لاپتہ ہونے کے بعد  گھر کی ساری خوشیاں لاپتہ ہوجاتی ہیں۔ اگر لاپتا اپنے خاندان کا واحد خود کفیل ہو تو اس خاندان کو اور بھی معاشی مسائل درپیش ہوجاتے ہیں  پتہ ہی نہیں چلتا کب عید ہوتی یا کوئی اور تہوار آیا ہوگا،کیونکہ  انکی عید تب ہوگی جب انکے پیارے بازیاب ہو کر گھر واپس آئیں گے۔ انکے ساتھ ہی گھر اور بلوچستان کی خوشیاں لوٹ کر آہئینگی۔

اللہ پاک بہتر جانتا ہے کیسے  دن، رات، مہینے،سال اپنوں کے انتظار میں  گزرتے ہیں یہ دن کسی قیامت سے کم نہیں ہوتے۔ ہر دن اذیت اور کرب کے ساتھ گزرتا ہے یہ آسان نہیں ہوتا اپنوں کی یادیں رُلاتی ہیں اور اندر جو درد دل میں دبایا ہوتا ہے وہ رات کے تاریکی میں کلیجے کو چیرتا اور دل خون کے آنسو روتا ہے۔ کھبی اس درد کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہمارے ریاستی ادارے تو کسی کو ایسی اذیت نہیں دیتے۔ چھوٹے سے میراث کو تو گلیوں میں کھیل کھود اور پتنگ اُڑانا ہوتا ہے اور اسکول کے لئے قدم بڑھانا چاہیے تھا ۔اس ننھے سے بچے کا بچپن مِسنگ کیمپوں اور احتجاج میں گزر رہا ہے۔سمیّ اور مہلب کو گُڑیوں کے ساتھ جس عمر میں کھیلنا تھا وہ اپنے ابّو کے تصویر لے کر انکی تلاش میں زندگی گزار دی ۔جس بچپن میں اُنہیں ابّو سے رات کو پریوں کی کہانیاں سُننی تھیں ان کی راتیں اب اس اُمیدوں میں گزر جاتی ہیں کہ کب انکے ابّو لوٹ کر آئینگے انکی زندگی سے اندھیرا ختم ہو جائیگا۔ کسی کو شوق نہیں دن رات سڑکوں میں گزارنے کا۔ اپنوں کی جُدائی کا درد ہے انسان کو سکون سے رہنے نہیں دیتا۔ انسان مجبور اور بے بس ہو جاتا جب کوئی انکی فریاد نہیں سُنتا۔ ہماری مائیں اور بہنیں بھائی بچے کھبی لانگ مارچ کرتے  ہیں تو کھبی کوئٹہ   پریس کلب کے سامنے بیٹھ کر پُر امن احتجاج  کرتے ہیں۔ کھبی کراچی  پریس کلب کے سامنے بیٹھتے ہیں۔ اور اب مجبور ہو کر وہ اسلام آباد میں اپنے پیاروں کیلئے بھوک ہڑتال کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

 تلخ حقیقت یہ کہ ریاست پاکستان کو سب پتہ کہ مسنگ فرسنز کہاں ہیں اور اس بات کا بھی عِلم ہے کہ اُن سب کے گھر والے کیمپوں میں بیٹھ کر پُر امن احتجاج کر رہے لیکن  سب کچھ دیکھ کر اندیکھا کر رہیں۔ اگر کسی بھی انسان کے سینے میں دل نام کی کوئی شئے موجود ہے تو جا کر ایک منٹ کیلئے راشد حُسین کی ماں اور شبیر کی بہن  یا بیوی سے اور ڈاکٹر دین محمد کی بیٹیوں اور قمبرانی کی بہن سے ملے اور دیکھے کس کرب اور ازیت سے دوچار ہے ۔کسی انسان کا ضمیر زندہ ہے تو وہ یہ سب آندیکھا نہیں کرسکتا۔ راشد حُسین کی ماں کے آنسوں کسی کو دیکھائی کیوں نہیں دیتے؟ وہ اپنی بوڑھی ماں کا سہارا تھا۔

کسی بھی ملک کا قانون اس بات کی قطعاً اجازت نہیں دیتا کہ اپنے ہی شہری کو جبری طور پر اغواء کرکے اسے غائب کردیا جائے۔اگر مسنگ پرسنز نے کوئی جُرم کیا تو اُنہیں منظر عام میں لایا جاۓ انہیں عدالتوں میں پیش کیا جاۓ ۔خدارا اُنہیں ایسے گمشُدہ نہ کریں یہ جُدائی انکے گھر والوں کیلئے جان لیوا ہے جو اندر سے ان سب کو کھاۓ جاہ رہی ہے۔اس دنیا میں کوئی ایسا با ضمیر انسان نہیں جو انکے درد کو سمجھے انکے پیاروں کو واپس لائے، انکی خوشیاں واپس کردے۔یہ جو لاپتہ ہیں، کسی کے گھر کے چراغ ہیں، کسی کی اُمید ییں، کسی کی زندگی گزارنے کا سہارا کسی کے بوڑھاپے کے لاٹھی ہیں۔خدا کیلئے انکے پیاروں کو بازیاب کرو ان دادرسی کرو انکو انکا حق دلاؤ، اے مدینے کے ریاست کو زندہ کرنے والوں ۔

Share

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *