Blog

لیاری پرغیر مقامیوں کی یلغار اور سماجی مسائل: ساجد بلیدیؔ

نواز شریف دور میں فوجی و سیاسی قیادت کی نیشنل ایکشن پلان اور ایک بھرپور آپریشن کے بعد کراچی شہر سمیت لیاری کے باسیوں نے بدامنی کے بعد جہاں سکھ کا سانس لیا ۔۔وہیں آئے روز گولیوں کی گھن گرج اور پر تشدد واقعات کے بعد ایک پر امن ماحول کی طرف سفر کرنا شروع کیا۔۔ تاہم امن و امان کی بحالی کے بعد جس طرح لیاری میں کثیر منزلہ عمارتوں کی تعمیرات کا آغاز ہوا وہیں پر لیاری کے لوگوں کے مسائل میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا۔

ویسے جس معاشرے میں تعمیر و ترقی کا آغاز ہو تو اس کے ثمرات جلد یا بدیر مقامی لوگوں تک پہنچنا شروع ہوجاتے ہیں لیکن لیاری کی صورتحال اسکے برعکس دکھائی دیتا ہے، اسکی سب سے بڑی وجہ یہاں بسنے والوں کے معاشی حالات ہیں جو نہ ٹھیک سے اپنے بچوں کو کسی اچھی اسکول میں داخل کروا سکتے ہیں نہ ہی گھر کے اخراجات جس میں کھانا پینا، علاج و معالجہ، یوٹیلٹی بلز و دیگر اخراجات ادا کرسکتےہیں، بچت تو دور کی بات ہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ یہاں کی کاروبار زندگی میں آہستہ آہستہ غیر مقامیوں کا غلبہ روز بروز بڑھتا چلا جارہاہے چھوٹے کاروبار، ہوٹل، ریڑھی والوں پر غیر مقامیوں کی یلغار ہیں یہاں چائے کے ہوٹل، نان بائی، دودھ فروش ہیر ڈریسر غیر معمولی طور پر قابض ہے اور اپنے لیے یہ غیر مقامی افرادی قوت بھی پشاور، جنوبی پنجاب اور کوئٹہ سے منگواتے ہیں، اگرچہ کچھ مقامی افراد نے چھوٹے موٹے فوڈ سینڑز بنائے وہاں بھی ذیادہ تر کام کرنے والے افراد غیر مقامیوں کی ہے۔

لیاری جو 15 یونین کونسل پر مشتمل علاقہ ہے اس کی آبادی تقریباً کم و بیش 17 لاکھ بتائی جاتی ہیں یہاں کے بے شمار مسائل ہے لیکن اب سب سے بڑا مسئلہ جو یہاں سر اٹھا رہا وہ ہے یہاں پر کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیرات ہے جس کے باعث لیاری تیزی سے کنکریٹ کا جنگل بنتا جارہا ہے اور یہاں کے مسائل میں بے پناہ اضافہ ہوتا جارہا ہے، بلدیاتی مسائل سے لیکر غیر مقامیوں کی آباد کاری کی ایک یلغار جو لیاری کے قدیمی باشندوں بلوچ اور کچھی برادری کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ یہاں کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کی جو ان نئی بلند و بالہ بلڈنگ میں فلیٹ خریدنے کی سکت نہیں رکھتے انکی جگہ غیر مقامی افراد منہ مانگی قیمت پر دکان و فلیٹ اور زمینی مکان خرید رہے ہیں جو مستقبل قریب میں یہاں کی جغرافیائی تبدیلی کا سبب بنے گا۔

اگر یہ سلسلہ اسی طرح تیزی سے چلتا رہا تو اگلے بیس برس بعد یہاں کے علاقوں کے نام سنگولین،نوکی لین، کلاکوٹ، گل محمد لین کے بجائے ہزارہ کمپاونڈ، چمن کالونی، کوہاٹی لائن اور دیگر نام سے اپنی شناخت تبدیل کر دینگے۔
اب یہ لیاری کے مقامی باشندوں اور یہاں کے سیاسی و سماجی جماعتوں پر منحصر ہیں کہ اس مسئلہ کو کس قدر سنجیدہ لیتے ہیں۔

بشکریہ سہہ ماہی افکار

Share