Blog

تہذیب، اقدار اور ثقافت 2مارچ ثقافتی دن: ڈاکٹر علی دوست بلوچ

تہذیب’ ثقافت اوراقدار ایک دن میں رواج نہیں پاتے بلکہ یہ صدیوں کا سفر طے کرکے کسی بھی قوم کی زندگی میں اپنی اہمیت اور موجودگی کا احساس دلاتی ہیں۔ ہرقوم کی اپنی تہذیب و ثقافت ہوتی ہے وہ اپنی زبان و ثقافت کبھی بھی جامد اور ساخت نہیں رہتے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اُن میں کمی’ بیشی ہوتی رہتی ہے اور یہ ایک قدرتی عمل ہے لیکن یہ ضرور دیکھا گیا ہے کہ قوموں نے جب اپنے اقدار اور روایات سے رو گردانی کی تب وہ قومیں اپنی شناخت سے محروم ہوگئیں جب ہم بلوچ اقدار اور روایات کی بات کرتے ہیں تو وہاں غیرت مندی’ مہمان نوازی’ انسانیت دوستی’ میارجلی’ ظلم اور ناانصافی کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا مظلوموں کا ساتھی اور ہمدرد ہمسایوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا جیسی روایات اور اقدار دیکھنے کو ملتی ہیں لیکن آج کے دور اور زمانے میں کہیں کہیں یہ اقدار اور روایات پہلے کی طرح مضبوط اور توانا نہیں لیکن مجموعی طورپر اب بھی بلوچ اقدار اور روایات سے جزا ہوا نظر آتا ہے اور فخر بھی کرتا ہے۔

دنیا میں کئی قومیں ایسی ہیں جو مذہبی تہواروں کے ساتھ ساتھ قومی’ ثقافتی تہوار مناتے ہوئے نظر آتی ہیں ہمارے ہاں کچھ عرصہ پہلے سندھی قوم نے سندھی اجرک’ ٹوپی کے حوالے سے اپنا ثقافتی دن منانے کا اہتمام کیا اور اُسے ہر سال منانے لگا۔۔۔۔ اُن کے بعد بلوچوں نے 2مارچ کو اپنا ثقافتی دن مقرر کیا اور اُسے اب ہرسال منایا بھی جاتا ہے لیکن بہت کم لوگوں کو اس دن کے پس منظر سے آگاہی ہے۔۔۔جو منا رہے ہوتے ہیں وہ بھی بے خبر ہیں بس ایک موقع ہے لباس “دستار” پگڑی اور سوٹ پہن کر کسی تقریب دیوان یا کیمرے کے سامنے اپنی موجودگی پر فخر کرتے ہوئے یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ بس یہی کام رہ گیا تھا دوسری طرف ثقافت کے نام پر ناچ’ گانوں کی بھر مار سے یہ لگتا ہے کہ زندگی کی ساری خوشیاں ان کے دامن میں ڈال دی گئی ہیں پریشانی اور دکھ سے ان کا کبھی واسطہ ہی نہیں رہا ہے کہیں کوئی انتظار کی گھڑیاں نہیں گن رہا کہیں کوئی منتظر ماں ہاتھ اٹھائے دعا مانگ رہی ہوتی ہے اور کہیں کسی کی آنکھوں میں آنسو مسکرا نہیں رہے ہوتے کہیں کوئی بچہ اپنے بابا کی انگلی پکڑنے کی حسرت میں مرجھا نہیں رہا ہوتا کہیں کوئی دوشیزہ خواب سجائے قطرہ قطرہ بوڑھی نہیں ہورہی ہوتی ہے۔۔۔۔ایسے میں کچھ لوگوں کا کہنا ہے جہاں بجتی ہے شہنائی ہے وہاں ماتم بھی ہوتے ہیں اور یہ حقیقت بھی ہے کہتے ہیں کہ قوموں کی زندگی میں ہر قسم کے حالات آتے ہیں اُن سے مقابلہ کرتے ہوئے رسم ورواج اور خوشی و غم کے مواقع کو ایک مضبوط قوم کے طور پر نبھانا چاہیے لیکن ایک حلقہ یہ کہتا ہے کہ اقدار’ روایات اور ثقافت قوموں کی زندگی کا حصہ ہیں۔

یہ عمل اور کردار ہی سے اجاگر ہوتے ہیں یہ بے ہنگم ناچ اور گانوں کے متحاج نہیں ہوتے۔۔۔۔ پھر بھی اگر ثقافت کو اجاگر کرنا مقصود ہو تو پہلے یہ دیکھا جائے کہ یہ دن 2مارچ کو کیوں منایا جاتا ہے۔۔۔۔جی ہاں کچھ سال پہلے خضدار انجنئرنگ یونیورسٹی کے طالب علموں نے 2مارچ کو ایک بلوچ ثقافت پروگرام کا انعقاد کیا۔

فنون لطیفہ سے متعلق سازوسامان اور دیگر ثقافتی چیزیں وہاں ڈسپلے کئی گئیں وہاں طلب علم نے اس پروگرام میں بڑی دلچسپی لی۔۔۔۔اور وہ اپنی خوشیوں میں مکن تھے کہ اچانک باہر سے اُن پر حملہ ہوا اور سرخ خون کے چھینٹو سے اُن کے ثقافتی سازوسامان نے بھی سرخ رنگ کی پوشاک پہن لی۔۔۔۔۔خوشیاں ماتم میں تبدیل ہوگئیں تہذیب’ ثقافت اور محبت کے دشمنوں کے اس وار کے بعد غالباً اس دن اور اپنے دوستوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے حوالے سے 2مارچ کو ثقافتی دن منایا گیا لیکن بعد میں یہ دن کسی نہ کسی حوالے سے ہائی جیک ہوا۔۔۔۔۔۔۔نجی بلوچی چینل کے بعد سرکاری ٹی وی’ این جی اوز اور دیگر تنظیموں نے بھی اس کارخیر” میں حصہ لینا شروع کردیا یہ دیکھے بغیر کہ کیا اچھا اور کیا برا کس کو فائدہ ہورہاہے اور کس کو نقصان۔۔۔۔جن کو بلوچی دستار’ واسکٹ اور بڑی شلوار سے چڑ تھی وہ بھی اسی رنگ میں رنگتے ہوئے نظر آتے ہیں۔۔۔۔۔ہے نا تبدیلی۔۔۔بہرحال اس کے برعکس اگر ثقافت کو پروقار انداز میں اجاگر کیا جائے تو کوئی قباحت نہیں اسی ضمن میں اب تو پشتون کلچر ڈے کے بعد ہزارگی کلچر ڈے بھی منایا جانے لگا ہے بعید نہیں کہ بلوچ قبائل میں سے بھی چند ایک اپنے لئے ایک ایک دن مقرر کریں گے کیونکہ ہمارے ہاں بازی لے جانے کی خواہش اور انا کا مسئلہ بدر جہا اتم موجود ہیں یہی وجہ ہے کہ قبائل کے نام ہمارے ہاں پر کئی ایک قومی اتحاد بھی موجود ہیں۔۔۔۔جو چھوٹے چھوٹے مسئلوں اور ضرورتوں کے تحت قائم کئے جاتے ہیں اور فائدہ کچھ اور لوگوں کے حصے میں آتا ہے کیونکہ وہ ایک چھتری تلے بھٹینے کے فوائدہ اور برکات سے اب تک ناواقف ہیں اور دوسروں کے ہمنوا بن کر اپنی شناخت کھو بیٹھنے کے عمل میں ساتھ دے رہے ہوتے ہیں اور خمیاز بگھتنے کا یہ سلسلہ نہ جانے کب تک چلتا رہےگا۔ محبتوں کی امین سرزمین اپنے بیٹوں سے محبت’ یکجہتی اور جہد مسلسل کا تقاضہ کرتی ہے جہاں امن کی فاختائیں نئی صحبوں اور موسموں کا پتہ دیا کریں گی۔۔۔۔۔میر یوسف عزیز مگسی نے خوب کہاہے کہ میں اگر چاہوں تو زرے کو بیاباں کردوں قطرہ آپ میں پیدا سر طوفان کردوں جی میں آتا ہے کہ پھر طور کو آباد کردوں میں آتش دل سے پہاڑوں میں چراغاں کردوں میں وہ مالی ہوں’ اگر کھول دوں دل کی سہوتیں خشک صحراؤں میں پیدا گل وریحاں کردوں۔

Share

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *