Blog

بلوچ خواتین کا کردار اور عالمی دن: لطیف سخی

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں 8 مارچ کو بطور عالمی خواتین کا دن کے طور پر منایا جاتا ہے. جس میں عورت اس کی معاشرے میں سماجی خدمات تعلیم اور بہت ساری اہم زمہ داریاں شامل ہیں۔ حالانکہ عورت بھی اللہ تعالی کے اشرف المخلوقات کے اہم پہلوں میں شمار ہوتا ہے۔ ایک عورت ایک سماج میں ایک مثبت سوچ رکھ لے تو جس کی بنا پر معاشرے میں نئی سوچ ابھرتا رہتا ہے اگر اس معاشرے کے اندر عورت اپنی زمہ داریاں کو اچھی طرح سمجھ لے۔ آٹھ مارچ کو عالمی سطح پر بہت عزت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے جس میں عورت کی حق خوداریت تعلیم ،سماجی حکمرانیت ،غلامانہ تسلسل عورتوں کی عصمت دری ،بینکگ سیکٹر سیاسی آگھی ماحولیاتی سر گرمیاں شامل ہیں۔
سب سے پہلے عالمی خواتین کا دن 19 مارچ 1911 کو منایا گیا۔ پھر سن 1971میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک بل پاس کیا کہ خواتین کا بین الاقوامی دن ہر سال آٹھ مارچ کو باقاعدہ طور پر منایا جائے گا۔ جس کا اہم مقصد عورت پر جسمانی تشدد نفسیاتی ٹارچر غضب شدہ حقوق کے حوالے سے آگھی دی جاتی ہے۔

اگر اسلام کے پراسپیکٹ کے حوالے سے دیکھا جائے جس میں ہمیں بہت ساری مورخیں ملتی ہیں جس میں خاص کر عرب کی تاریخ میں ایک گھر میں ایک بچی کو جنَم دینا بلکہ اس معاشرے میں نہایت افسردہ اور بہت جابرانہ مثالیں ملتی ہے۔اسلام نے 1400 سال پہلے عورتوں پر ظلم کے حوالے آواز اُٹھائی ہے اور حقوق کے تحفظ کے حوالے اس نے عورت کو کتنی ترقی دی ہیں ۔

اگر عالمی خواتین کے دن کو مد نظر رکھ کر ہم بلوچ سماج کی بات کریں تو ہم ابھی بھی اس جدیدیت کے دور میں وہی فرسودہ نظام کو پالو کر رہے ہیں حالانکہ اس طرح یہ ایک معاشرتی ٹارچر سیل کی مانند یاد کی جاتی ہے۔ اگر ہم عورت کے پس پشت وجودیت کو دیکھ لیں تو بغیر عورت کے ہمارا جنم بھی ممکن نہیں ہوسکتا ہے حالانکہ عورت بھی اس معاشرے کی بنیادی اکائیوں میں شمار ہوتا ہے۔ اور بلوچ سماج میں عورت کو بہت سے مسئلوں کا سامنا کرنا پڑھتا ہے۔ اگر بلوچ سماج میں آج بھی کسی ایک عورت کو تعلیم کے میدان میں دیکھ لیں تو اس معاشرے کے اندر اس کی بہت برائیاں کی جاتی ہیں اور اس کے خاندان والوں میں بہت ساری غلیظ الفاظ پہنچا دیا جاتا ہے حالانکہ یہی موڈرانائز سماج کے دعویدار وہی فرسودہ نظام کو ایک اہمیت کے حامل پروان چڑھا دیتے ہیں حالانکہ اگر بلوچ معاشرے میں عورت کی تاریخ کے اندر جائیں جس میں بے انتہا بہادری عزت و آبرو کے مابین دیکھ لیا جاتا ہے۔ جس میں بانڑی ،سمی ،حلیمیٰ سَدو ،ہانی بہت سی مثالیں ملتی ہے جنہوں نے سماجی آمریت یا پاور پُل ریاستوں کے ساتھ جنگ کرنے میں اپنے مَرد حضرات کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوکر دشمن کا دیدہ دلیری کے ساتھ مقابلہ کیا جس کی مثالیں داد شاہ کی بہن اور بہت ساری تاریخ کے مورخیوں کی تحریر میں ملتے ہیں۔

جس طرح گل خان نصیر کی کتاب بلوچستان کی تاریخ میں ہمیں بہت ساری جنگی داستانیں ملتی ہیں جس طرح بی بی زینب کا تناعہ میر محمود خان قلات میں بھیگی بلی بن کر بیٹھا رہا اور جب میر مصطفیٰ خان اور میر رحیم خان دونوں بھائی کچھی کی بھینٹ چڑھ چکے تب میر محمود خان کچھی تشریف لائے اور تمام علاقہ کچھی کو جو پہلے میر مصطفٰی کو دے دیا گیا تھا اپنے قبضے میں کرکے واپس چلے گئے تو بی بی زینب کو یہ بات ناگوار گزری اور اس نے میر محمود خان کے خلاف بغاوت کا علم بلند کر کے تمام علاقہ کچھی سے اس کے نائبوں کو نکال باہر کیا۔
دوسری گل بی بی کی بلوچیت جس میں شاہسوار کی بیوی گل بی بی ایک حسین اور دلیر عورت تھی جب اسے خواہش کا قلعہ پر جنرل ڈائریکٹر کے پھر پہنچ کر قبضہ کرنے اور سردار جیند اور شاہ سوار کی بزدلی اور دوُن ہتمی کا حال معلوم ہوا تو سخت برا فروختہ ہوئی اور شاہسوار کو سخت لعنت کی اور بزدل بیووقوف کہا اور ان کو جتلایا کہ جنرل ڈائر نے صرف مٹھی بھر فوجیوں کے ساتھ خواہش پہنچ کر اپنی چالاکی سے انہیں دھوکہ دے کر بیووقوف بنایا ہے۔ اس کی بہت ساری داستانیں تھی بلوچ سماج کیلئے اور بہت مورخیں جس طرح زندہ ہیں۔

اگر بلوچ کی تاریخ میں خواتین کا ذکر کریں جس میں عورت ہر پہلوں میں اپنے مردوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں چاہے جنگ کے میدان ہو یا معاشرے میں ترقی یا سیاسی وابستگی کے حوالے سے لیکن بلوچ معاشرے میں ابھی بھی کچھ فرسودہ نظام مصلت ہیں جس میں روز کے بنیاد پر غیرت کے نام پر قتل خواتین پر عامریت ایک سنگین شکل میں ابھی تک کچھ علاقوں میں زندہ ہیں۔

دوسری طرف عظیم بلوچ قومی رہنما صورت خان مری اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتے ہیں کہ بلوچ معاشرے میں عورت کا مقام مرد کے برابر ہے لیکن ایک کمزور حیثیت کی مانند ہے بلوچ نے کبھی عورت کی حکمرانی کے بارے میں بھی مخاصحانہ رویہ نہیں اپنا یا قلات بیلہ اور دیگر قبائیلی علاقوں میں ماضی کی تاریخ میں ایسی متعدد مورخیں ملتی ہیں جہاں عورتوں نے حکمرانی کی اپنے دربار لگائے انتظامیہ چلائی اور جنگ کے میدان میں فوجوں کی قیادت کی جسٹس رحمان کے بیٹے اسد رحمان جہنوں نے سن 1970 کے دوران لندن گروپ کے دیگر ارکان کے ساتھ بلوچ مزاحمتی تحریک کے دوران حصہ لیا اپنے ایک بیان میں ایک بلوچ عورت کا ذکر کیا جو اپنے کیمپ میں تنہا تھی اس عورت نے جبراً ایک فوجی پلاٹون کو آتے دیکھا اسلحے اٹھا کر مقابلے پر ڈٹ گئی اور کئی گھنٹوں تک اس پلاٹون کو روکے رکھا گے وہ عورت اس دوران شدید زخمی ہوئی اور بعد میں فوت ہوگئی۔

جس طرح حال میں ایک جائزہ اگر لیا جائے تو بلوچ معاشرے میں عورت اور اس کے جائز حقوق معاشرے میں برابری کے حوالے سے شھید وطن بانک کریمہ جیسی نڈر بیٹی تاریخ کے اہم پہلوں میں شامل ہے جس طرح انہون نے ایک ایسی علاقے میں جہنم لیا وہاں کے رسم رواج بلوچ خواتین کے مابین ایک ایسا باہمی تعلقات بخشی ہے جہاں فیملز موبلائیزیشن کے علاوہ بانک کریمہ کا شمار مردوں کی رہنمائی میں ایک اچھی حیثیت رکھتی ہیِں۔ اگر پارلیمانی سیاست پر ایک نظر رکھیں تو وہاں مینا مجید بشرا رند زبیدہ جلال اور بہت سی لیڈران ہمارے سامنے ہیں اور ان کا شمار معاشرے کی ترقی کا ایک گامزن اور نیک شگن ثابت ہورہا ہے جس طرح عالمی خواتین کے دن میں ہمارے بلوچ اس ملک میں ایک غیور عوام کی حیثیت سے یاد کئے جاتے ہیں اور مستقبل میں بھی یہ داستانیں جاری رہیں گے۔

Share

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *