Blog

پاک ایران بارڈر، تجارت کی بندش اور بلوچستان: وسیم خاور بلوچ

کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لئے خاص طور پر جمہوری ممالک میں ، حکومتیں اپنے شہریوں کو بلا امتیاز معاشی مواقع تک آسان رسائی فراہم کرنے کی پابند ہوتی ہیں۔ تاہم ، لوگوں کو ایسے معاشی حقوق سے محروم کرنے کے نتیجے میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو فروغ ملی گا ۔

پاک ایران سرحدی تجارت سے بلوچستان میں لاکھوں افراد کے گھروں میں چولہا جل رہا ہے ، لہذا اس کی بندش سے صوبے کے مقامی افراد انتہائی خراب معاشی حالات میں پڑ جائیں گے۔

ذیادہ روک ٹوک کی وجہ سے لوگ اپنی مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے غیر قانونی ذرائع اختیار کرسکتے ہیں۔ جیسا کہ غربت ، بے روزگاری ، دہشت گردی اور اسٹریٹ جرائم بلوچستان میں پہلے ہی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے ، جس کی بنیادی وجہ صوبے میں معاشی پستی اور انسانی حقوق کی مسلسل زیادتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سرحدی تجارت کی بندش سے کئی محاذوں پر صوبے کی بڑھتی ہوئی مشکلات میں اضافہ ہوگا. اس سے نہ صرف غربت کی سطح بلند ہوتی ہے ، بلکہ اس سے غیر قانونی پن میں بھی اضافہ ہوتا ہے ، اور لوگوں کو غلط استعمال کر کے، مالی فائدہ اور دہشت گردی کی مالی اعانت کی دیگر سرگرمیوں کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

بندش کوئی حل نہیں ، اس کے بند ہونے سے صرف افراتفری اور منفی سوچ پھیل جائے گی۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے حکومت کو اس معاملے میں پائیدار منصوبہ بندی کرے، تاکہ ایک طویل مدتی سرحدی تجارتی پالیسی مرتب کی جائے جس سے لوگوں کے حق ، وقار ، مساوات اور احترام کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی ضمانت دی جاسکے۔ یہ تجارت ایک خوشحال بلوچستان کی ترقی کا ایک اہم پہلو ہے اسکا چلنا مُلکی، صوبائی اور علاقائی معاشی مفاد کا حصّہ ہے۔

Share

5 COMMENTS

  1. Greetings, I think your site may be having browser compatibility problems.
    Whenever I look at your web site in Safari, it looks fine but when opening in IE, it’s got some overlapping issues.
    I just wanted to give you a quick heads up!
    Apart from that, excellent website!

  2. I believe everything published made a ton of sense.
    However, consider this, suppose you added a little information? I mean, I don’t wish to tell you how to run your website, but
    what if you added a post title that grabbed folk’s attention? I mean پاک ایران بارڈر، تجارت
    کی بندش اور بلوچستان: وسیم خاور بلوچ | Sada E Balochistan is a little plain. You should
    glance at Yahoo’s home page and see how they write
    news titles to get viewers to open the links. You might add a related video or a pic or two to get readers interested about what you’ve
    written. Just my opinion, it would bring your website a little livelier.

  3. Hi i am kavin, its my first time to commenting anyplace,
    when i read this piece of writing i thought i could
    also make comment due to this brilliant article.

  4. Thanks for the marvelous posting! I genuinely enjoyed
    reading it, you will be a great author.I will be sure to bookmark your blog and will often come
    back from now on. I want to encourage one
    to continue your great writing, have a nice weekend!

  5. Thanks for the auspicious writeup. It in reality was
    once a enjoyment account it. Glance complicated to far added agreeable from you!
    However, how could we be in contact?

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *