Blog

اخلاقیت سے زوالیت تک: لطیف سخی

سب سے پہلے اگر ہم کہیں بھی ایک نقطہ نظریہ پر تبصرہ رکھیں تو ہمیں مخلوقات ،حیوانات اور بہت سے معاشرتی ہم آہنگی سے ہر روز ایک نیا باب سامنے آ جاتا ہے اور جس کی بنا پر ہم اس پر انالیسز مشاہداتی اقدام اور جس میں بہت سارے مقداریت اور جدید سائنسی پراسپیکٹس کے طور پر معلوماتی تجربات کرتے ہیں ۔جن تجربات کی بنیادیت کا اہم مقصد کوئی نہ کوئی سَلوشن دریافت ہوجائے ۔جس پر لوگ کچھ چیزیں سیکھیں ان پر اپنے خیالات کا کُھل کر اظہار رائے دیں ۔کیونکہ جب تک ایک پلیٹ فارم کی حُدود تک راہ کر نہ ایک کام مکمل کر سکتے ہیں نہ کوئی کام ایسے ہو جس پر آپ اپنی رائے عام پر دوسروں کو مستفید کرنے کی تاکید کرتے ہو ۔کیونکہ ان تمام چیزوں کیلئے سب سے پہلے اپنے اندر ایک موبلائزیشن کا راستہ اختیار کرلو شاید جس پر آپ کی سوشلی اخلاقیت ہوں گئے آپ کے چَلن ہوں گے جس پر آپ دوسروں کو اپنی طرف متوجہ کرسکتے ہو۔کیونکہ آج اس سائنسی دور میں ہم کہہ سکتے ہیں جدیدیت انقلاب لانے کا نام ہے جدیدیت سے لوگ بدل سکتے ہیں۔ جدیدیت سے کردار بدل سکتے ہیں البتہ یہ بات زہن نشین ہونا چائیے کہ جب اس معاشرے اور ملک کے مابین بہت سماجی چیزوں کا اشد نظر ثانی کرنا بے حد ضروری ہوتا ہے ۔جہاں بھی کہیں بھی بہت سارے موڈرنائز شئے آپ کے برعکس نہیں ہوں گے ،جن پر مذہبی یا کلچرلی یا کہیں پہ مسلط کئے ہوئے نظام براہ راست چیزوں کو قبول کرنے کی تعین نہیں کرسکتا جس کا ہر گز مطلب نہیں کہ آپ اس نظام کے خلاف اس وقت لڑائی کیلئے کوشاں رہو.

دوسری بات اگر ہم اخلاقیت کی بات کریں جس کے مختلف اشارہ ہوتے ہیں اور جس کے بنیادی طور پر اس میں بہت کیٹگریز کئے جاتے ہیں اور اخلاقیت کے براہ راست لنک سائیکالوجیکل کے جو ذہنی عمل ہیں ان پر آذادانہ کوارڈینیشن ہے اور جس کے زریعہ اسے یہ سارے عوامل مختلف طریقوں سے سرگرم رہتے ہیں انسانی فطرت میں ساری کرداریں بلکہ ہیومین نیچر میں نہیں ہیں بلکہ مختلف ساری چیزیں روزمرہ زندگی میں ذہن کے اندر نَصب کی جاتی ہے اور جن کی مقداریت اس گائیڈلائین کے حساب سے یاد کیا جاتا ہے اگر اچھائی ہو یا برائی لیکن وہی نظام بائیلوجیکل کلاک کی حساب سے سرکولیشن میں آتا ہے جس پر انسان بہت ساری معاشرتی گُناہیں پَسادیں مختلف خربہ جو ایک ساخت کو ایک نظام کو نقصان بنانے کے قابل بنا دیتی ہے۔

اخلاقیت کے دائرے میں رہنا وہ آپ کے دماغ سے توازن ہوسکتا ہے جس میں آپ کی شخصی سوچ ہوتا ہے جس میں آپ کے خیالات ہوتے ہیں آپ کی چاہتیں ہوسکتے ہیں آپ اخلاقی طورپر چیزوں کو سامنے رکھ کر اپنے مِشن کو آگے لے جاسکتے ہو اپنے اندر کے ہمدردیاں معاشرتی مسائل پر اپنا دلائل ایک یا دو ترڈ فریق کو کس طرح (کنونس) کرسکتے ہو وہ ساری چیزیں آپ کے اخلاقیت کے دائرے میں راہ کر بہ آسانی کسی اجنبی کو متاثر کرنے میں ایک بھی لمحہ کا درکار ہوتا ہے ۔جن پوائنٹ کو زیر بحث کرنے سے پہلے بہت ساری بنیادی ضروری جو منصبانہ انداز سے آپ کی خیر خواہ بن جاتے ہیں ۔جن چلن کی بدولت آپ کی وہ سامنے والی مشکلیں کردار پر نفی اثرات سچائی اور مثبت رہنمائی کیلئے سب سے پہلے خودی کے اندر ایک اچھی اور راہ شُناس فریق کے مانند آپ کی استقبال کی جاتی ہے۔جس میں کوئی سماجی آرگنائزیشن ،طلبہ پولیٹکس،ورلڈ کے سطحی کوئی این جی او ہو وہ اپنی طرف مبذول کرنے کا واحد راستہ آپ کی پرسنل اخلاقیت سے ظاہر ہوسکتا ہے، کہ آپ میں وہ کو نسا صلاحیت موجود ہیں جن پر آپ دوسروں کو اپنی لہجہ سے اپنی علمی پروگراموں سے میٹنگز سے کچھ نیو پروموشن لانے سے وہ بہتری آپ کی اخلاقیت سے ظاہر ہوتا ہے۔

بالائی سب باتوں کا اہم موضوع یہ نہیں جس میں ہر کوئی ان چیزوں سے بے واقف ہیں جن کی وجہ سے آج کل گراؤنڈ پولیٹکس میں جو دوریاں سامنے آ رہے ہیں جن کی بنا پر بہت ساری غفلتیں، کوتاہیاں ، لاپروائیاں، زوالیتیں،ساری چیزیں ہماری شخصی غیر زمہ داریاں اور اپنے اندر رَد انقلاب نہ ہونے کی ساری داستانیں ہماری اخلاقی شوبز نہ ہونے سے شروع ہوتے ہیں۔اگر ان جیسے لفظوں کو ہم تھیوریٹیکلی ایک فارمز پر آگے لے جانے کیلئے مثبت سوچ رکھیں یا کسی تنظیم کے ذریعے اداروں کے زریعے یا کوئی سیشن بحث مباحثوں سے جن چیزوں سے بلکہ یہ چیزیں منتقل نہیں بلکہ ہر وقت زہن نَشین ہو جائیں گئے اور یہ ایک پَرمِنٹلی اُبھر جائیں گے اور آئندہ ایک سیکوینس کے حساب سے جن پر عمل پیرا ہوگا ۔جس کے لیئے آپ کو اپنے اردگرد کے ماحول سے پہلے اپنے اندر ایک حقیقی انسان ماننے کیلئے ایک لائف چینجر کا سوچ پہلے خود میں شروع کرو خود میں اس کا اندازہ لگاؤ کہ میں کون ہوں ؟مجھے ان پر عمل کس طرح کرنا ہوگا ؟

اور اخلاقیت کے داروں سے نہ رہنے کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ آپ اپنے چیزوں سے اپنے مُحقف سے اپنے کردار سے اپنے سماجی کاموں سے اپنے اردگرد کے ماحول سے کسی کی ایک چھوٹی بات پر بلکہ خود کو قابو نہیں کر سکتے ہو البتہ ان ساری روزمرہ کے سرگرمیوں سے کہ جس پر آپ کر رہے ہو آپ اس کے حساب سے اپنے آپ کو کس طرح مطمئن کرکے کس طرح لفظوں کا چناؤ آپ کے والینٹری سیکشن سے اور اپنے دائرے میں رہ سکتے ہو ساری چیزیں آپ کے مائینڈ سیٹ آف پر لاگو ہوسکتا ہے اور اس کا براہ راست لنک آپ کی زہنی توازن پر ہوتاہے اور سائیکالوجیکل اثرات آپ کی لہجوں سے ابھر سکتے ہیں۔

اس کے بعد ان ساری اثرات ایک منظم کردار کے مالک ایک ذمہ داری نبھانے والے اشخاص بلکہ ایک بِزنس انڈسٹری کے مالک یا کوئی سماجی یا انقلابی طلبہ ونگز آرگنائزیشن بہت ساری چھوٹی ترقیاتی مشینریز نقصان کے آڑ میں آسکتے ہیں جس کے وجوہات ایک زندہ زوال حیثیت سے مانا جاتا ہے ۔کیونکہ جب آپ کے کئے ہوئے کارنامے آپ کی پہچان ہوجاتے ہیں بعض اوقات ہم بزور حکمرانیت کے دائرے میں رَہ کر ڈیکٹیت ہوتے ہیں لیکن ان عملوں سے آپ کے خلاف نیا سا روپ جلد جنم لیں گے اور بہت سی ورلڈ پاور سُجدہ ریز ہوتے ہیں اور اس کا بظاہر ہر ایک عمل زوالیت کو شو کرتا ہے اس لئے جن چیزوں کو سمجھنے کیلئے ہم اپنی ہی معاشرے کی زوالیت برداشت کے دائرے سے باہر ٹوٹ پھوٹ کا اثرات انہی چیزوں سے درس لیں گے بلکہ ایک عملی طور پر ایک ویژنری حیثیت سے اپنی ایک مِشن ایک پروگرام کو آگے لے جاتے ہیں ۔

مزید اس مضمون کو آخری مرحلے تک پہنچانے کیلئے میرا کچھ رائے یہ ہوسکتے ہیں کہ ہر ایک طبقے میں کتاب دوستی ،اچھی عاداتیں ، پُرامن سا ماحول، موڈرنائز چیزوں کے اثرات سے ایک نظریہ اپنے ماضی کی غلطیوں کو پس پُشت رکھ کر ایک نئی سوچ اور خوشحال زندگی میں اپنی کامیابی اصولوں کے توسط سے جی سکتے ہیں بغیر ان سے زوالیت کا سورج ہر وقت ہمارے سر پر کھڑا رہتا ہے۔

Share

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *