Blog

ضمیر کا چشمہ ناپید ہے: گورگین بلوچ

ایک پارٹی کا بغل بچہ طفیلی رہنما کا نیشل پارٹی اور بی ایس او پجار کے خلاف ہرزہ سرائی شیشے کے گھر میں رہ کر دوسروں کو پتھر مارنے کے مترادف ہے۔اگر موصوف کے اندر سیاسی بلوغت اور نظریاتی دیانتداری کا ذرا سا مادہ ہوتا تو وہ ایک طفیلی تنظیم اور ایک سیاسی اتحادی کا فرق بخوبی سمجھ سکتا اور بی ایس اوپجار کو بغل بچہ کہنے سے پہلے سوبار سوچتا۔

بی ایس اوپجار میں اگر ہزار خامیاں ہوں لیکن یہ اسکا دامن اس داغ سے بہرحال پاک ہے کہ جہموری اصولوں کو روندھ کر کسی قبائلی سردار کے اوطاق میں تشکیل دیے گئے کابینہ کو اپنے اوپر مسلط کرے۔ہرکسی کو پتہ ہے کہ چھوٹے سردار کی ایماء پر کس طرح بی ایس او مینگل کے پیداگیروں نے منیرجالب جیسے میچور اور پختہ سیاسی سنگت کو کس طرح کھڈے لائن لگایا تھا۔منیر جالب کے خاندان کی قربانیاں روزروشن کی طرح عیاں ہیں لیکن قبائلی انامیں جکھڑے ہوئے ہلڑباز گروہ نے منیرجالب کو انکے ہم خیال دوستوں سمیت سیشن میں گھسنے نہیں دیا تھا۔ڈاکٹر عزیز جیسے دوراندیش اور قابل نظریاتی جہدکار کو محض اس لئے جبری استعفیٰ پر مجبور کیا گیا کیونکہ وہ بی ایس او مینگل کے ” بڑوں” کا منظورنظر نہیں تھا۔

بی ایس کی تاریخ میں چھ سال تک کسی کا چیئرمین شپ پر جونک کی طرح چمٹے رہنے کی کوئی مثال موجودنہیں لیکن نذیر بلوچ کو اتنے طویل عرصے تک بی ایس او مینگل کا مارشل لائی چیئرمین رکھا گیا کیونکہ وہ بی این پی مینگل کا اطاعت گزار ” یس مین” بنا رہا

جوسیاسی پارٹی نوجوانوں کی سیاسی و نظریاتی شعور کی راہیں مسدود کرے اور انہیں صرف سیاسی خوشامد، موقعہ پرستی اور لٹھ بازی پر مائل کرے اسکے فکری مریدوں کا دوسروں پر کھیچڑ اچھالنا سمجھ سے بالاترہے۔جس پارٹی کی اعلیٰ قیادت موقعہ پرستی، منافقت اور قبائلی انا کے تمام حدود پھلانگ چکی ہو اس پارٹی کے رہنماؤں ،کارکنوں اور فکری باڈی گارڈوں کودوسروں کے خلاف من گھڑت باتیں پھیلانے سے پہلے اپنے گریبان میں ضرور جھانکنا چاہئے۔اگر اپنے گریبان میں انکو اپنی کارستانیاں نظر نہ آئیں تو انکو ضمیر کا چشمہ لگانا ہوگا جو بدقسمتی سے کسی دکان پر تو ملتا نہیں۔چاغی کے سینے کا ایٹمی دھماکوں سے چھلنا ہونا اور تابکاری کی اثرات سے نسلوں کا مسموم ہونا ہو یا نواب اکبربگٹی سے دغابازی ہو یہ سب باشعور بلوچوں کے دل و دماغ پر نقش ہیں۔اسٹبلشمنٹ کیساتھ سودابازی کیلئے اپنی قیمت بڑھانے کے پینترے اب پوری قوم کی سمجھ میں آچکے ہیں۔

بی این پی مینگل یوں تو بلوچ قوم پرستی کا کرتادھرتا بنی پھرتی ہے لیکن آرمی چیف کی توسیع کی خوشی میں ملنے والی مٹھائی کیلئے اس پارٹی کی لیڈروں کا ہاضمہ کمال کا ہوتاہے۔۔۔سینٹ سیٹوں کی خریدوفروخت کے دوران یہ سارے اصولوں کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔ایک طرف جمہوری جدوجہد کی راگ الاپنا اور دوسری طرف ” مسلح تنظیم” کو ایک پریشر ٹُول کی طرح استعمال کرکے بلیک میلنگ کے کے داؤ کھیلنا ان لوگوں کا پرانا وطیرہ ہے۔جس پارٹی کی قیادت پر روز اول سے ایک ہی خاندان قابض ہوں اس پارٹی کو اپنے آپکو نظریاتی اور جمہوری پارٹی کہنا سیاسی دنیا کا سب سے بڑا لطیفہ ہے۔

نیشنل پارٹی نے جمہوری سیاسی جدوجہد کے ذریعے اپنی بساط کے مطابق بلوچستان کے حقیقی مسائل کو اجاگر کرنے کیلئے جو خدمات سرانجام دی ہیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔کوئی سیاسی نوسرباز گمراہ کن باتوں سے حقائق کو تبدیل نہیں کرسکتا۔نیشنل پارٹی کے کارکن دوراندیش سلجھی ہوئی سیاست کے روادار ہیں اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے اجتماعی قومی مفادات کیلئے جتنا کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے اس کیلئے نیشنل پارٹی تندہی اور خلوص سے میدان عمل میں ہے۔

Share