Blog

کجا ہستی جان پدر: اصیلا عبداللہ دھواری (راجی)

آج کی تحریر اردو میں کیونکہ اس زبان میں ہمیں جذبات زیادہ بہتر طور پہ سمجھ آتے ہیں۔ جذبات، احساسات کو سمجھنا بہت ضروری ہے کیونکہ یہ حس آپ کے زندہ ہونے کی علامت ہوتی ہے اور اگر بد قسمتی سے آپ میں ان علامات کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں تو آپ ہر حادثات و معاملات میں کہیں گے “اس میں کون سی نئی بات ہے “۔

میں اپنے شاگردوں سے ہمیشہ ایک بات کرتی ہوں کہ کورونا جہاں ہمارے معاشرے کے لئے ایک challenge ہے وہی اس میں ہمارے لیے بہت سے مواقع شامل ہے۔
لہٰذا اس مشکل کی گھڑی میں کچھ ساتھیوں کا انتخاب کیا جیسے اچھے دوست، اچھی کتابیں، اچھے فلم/ تحقیقی رپورٹ اور دستاویزی فلم ۔ پچھلے ایک سال سے میری سوچ کا دائرہ ایک ہی مسئلے کی طرف گھوم رہا ہے۔
کسی خطے میں جنگ

جنگ سے ہونے والی تباہ کاریاں

جنگ سے متاثر تارکین وطن

بین الاقوامی قوانین برائے تارکین وطن

جنگ کی صورتحال میں اپنے آبائی وطن کو چھوڑ کر جانا کوئی آسان بات نہیں لیکن اولاد اور اس کے بہتر مستقبل سے زیادہ اہمیت اور کیا ہوسکتی ہے۔
نومبر 2020 میں افغانستان کی یونیورسٹی میں دھماکے کے بعد جاں بحق ہونے والے طالبات کے سامان کو جمع کرتے ہوئے آفیسر کو ایک فون پہ کئی کالز اور ایس ایم ایس موصول ہوئے اور ایک جملہ میرے لیے انتہائی دلخراش تھا ” کجا هستی جان پدر”
پدر اپنے اسی جان کی بقا کے لئے اپنی سرزمین کو چھوڑ دیتا ہے۔ پدر اپنے اسی جان کے مستقبل کے لئے خود سے جڑے مستقبل کو بھول جاتا ہے۔ پدر اپنے اسی جان کی حفاظت کے لئے تارکین وطن بن جاتا ہے اور ایک پناہ گزین کی زندگی اختیار کرتا ہے۔ یہ عمل انتہائی مشکل، دشوار اور تکلیف دہ ہے جس کا اندازہ ہم کر ہی نہیں سکتے۔

افغانستان کے آئین 1964 کے مطابق تمام خواتین کو برابری کے حقوق اور عالمی حق رائے کے حقوق کے مطابق انہیں تمام معمولات زندگی میں حصہ لینے کا اختیار ہے لیکن ان تمام حقوق کا دائرہ محض شہری آبادی تک ہی رہا، دیہی آبادی اور قبائلی علاقے آئین کے بعد بھی ان تمام حقوق سے محروم رہے۔
حقوق ملنے نہ ملنے کی جنگ تو ہر دور اقتدار میں رہی لیکن ڈاکٹر نجیب اللہ کے دور اقتدار کے بعد طالبان کی حکومت نے خواتین کے حقوق اور اختیارات کو اسلامی معاشرے کا نام دے کر ان کے بنیادی حق رائے دہی سے انہیں محروم رکھا اور 2001 تک وہ سلسلہ چلتا رہا۔
15 اگست 2021 کی رات سے وہ خوف دوبارہ افغانستان کی فضاؤں میں گھوم رہی ہے۔

جان پدر پھر سے اپنے لئے ایک ایسے سائبان کی تلاش میں دوڑ رہی جہاں اسے سانس لینے، زندہ رہنے اور زندگی گزارنے کا اختیار ہو۔ جب اس کے حقوق کی تحفظ کی بات کی جائے تو اس میں اس جان پدر کو بھی رائے دینے کا حق دیا جائے، اسے تعلیم کا حق دیا جائے ،ایک بہتر مستقبل کا حق دیا جائے، آزادی انتخاب کا حق دیا جائے، ایک شہری کا حق دیا جائے اور اس کی ذات کو تسلیم کیا جائے۔

طالبان کے نمائندگان کے حالیہ بیان کے مطابق اسلامی امارات افغانستان میں خواتین کے حقوق کو تحفظ دیا جائے گا انہیں تمام بنیادی سہولیات اسلامی نظریاتی نظام کے مطابق فراہم کی جائے گی، لیکن ابھی بھی طالبان کی جانب سے کوئی ٹھوس نظام حکومت کا منصوبہ منظر عام پر نہیں آیا۔ عام معافی کا اعلان تو ہوگیا لیکن۔
اک تجربہ تھا بڑے کام آگیا
اب تمھارے بعد نہ رکھیں گے کسی سے آس

Share