Blog

بلوچ معاشرے میں مرد کا غلبہ: سجاد دشتی

روایتی طور پربلوچستان ایک  پٹریارکل  معاشرہ ہے۔ پٹریارکل کا مطلب ایسا معاشرہ جہاں مرد کا غلبہ ہو، جہاں مرد خاندان یا قبیلے کا سربراہ ہو۔ بلوچستان میں باقاعدگی سے عورتوں کو امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ ان پر حملہ اور غیرت کے نام پر قتل اور سیاسی ، ثقافتی ، معاشی یا معاشرتی شعبوں میں ان کے پاس بہت کم جگہ ہے۔ ہم نے اس طرح کا معاشرہ تشکیل دیا ہے جس میں آدھا انسانی آبادی باقی آدھے کا سختی سے استحصال کرتا ہے۔ بنی نوع انسان نے ہمیشہ ہی خواتین کو استحصال ، ناانصافی اور ذلت کا نشانہ بنایا۔ زچگی کی شرح اموات، خواتین کی بے روزگاری اور ناخواندگیکے معاملے میں بلوچستان پاکستان میں درجہ بندی میں سرفہرست ہے۔

بلوچستان کے دیہی علاقوں میں خواتین کے لئے حالات اور بھی سنگین ہیں اور دیہی علاقوں میں  خواتین کی تعلیم کی شرع صرف 2 فیصد ہے۔ بلوچستان گورنمنٹ خواتین کے ترقی لئے کوئی خاطر خواہ اور اطمینان بخش کام نہیں کر رہا اور وفاقی حکومت کی طرف سے این جی اوز کو بھی پابندی کا سامنا ہے۔ نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کا پریکٹس بلوچ معاشرے میں شروع ہوئی تھی آج بھی بلوچستان سمیت سندھ اور پنجاب کے بلوچ قبیلے پریکٹس کر رہے ہیں، بلاشبہ یہ بلوچ معاشرے کے چہرے پر ایک طمانچہ ہے۔ خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والے غیر سرکاری تنظیم، عورت  فاؤنڈیشن (اے ایف) سروے کے مطابق بلوچستان میں خواتین کے خلاف تشدد کے سینکڑوں کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ زیادہ تر واقعات  سبی اور نصیر آباد ڈویژن میں پیش آئے اور سب سے کم واقعات مکران ڈویژن میں پیش آئے۔ یہ نوٹ کیا جائے کہ بلوچستان کے زیادہ تر تشدد کے واقعات رپورٹ نہیں ہوتے۔  بلوچستان میں خواتین کو بہت زیادہ ہراساں کیا جاتاہے۔

بلوچستان میں پچاس فیصد سے زائد ہراسگی یا ریپ کیسز رکارڈ میں نہیں لائے جاتے یا چھپائے جاتے کیونکہ بلوچ معاشرہ قدامت پسند ہے اگر کوئی ریپ وکٹم عورت کیس رکارڈ کرائے تو اس کے لئے جینا بہت مشکل ہوگی اور نہ ہی اس سے کوئی شادی کرے گا۔ یہاں عورتوں کو ایسا غور غور دیکھا جاتا ہے جیسا آج کوئی نئی مخلوق زمین پر اتری ہو۔آج دنیا میں عورت گھر سے باہر نکل کر اپنے پسند کے شعبے معلمہ، ڈاکٹر، انجینئر اور آسمانوں میں جہاز اُڑانے سے لے کر چھوٹے کاروبار تک تقریباً تمام شعبہ ہائے جات میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہے اور اپنی ملک کی ترقی میں حصہ ڈال رہی ہے۔ مگر ہمارا معاشرہ عورت کی پڑھائی پے رکاوٹ بن رہا ہے اور ہمارے ملک میں خواتین کا کردار اب بھی تسلیم نہیں کیا جاتا اور ان سے گھروں میں بھی نچلے درجے کا کام لیا جاتا ہے، جبکہ لڑکوں اور لڑکیوں کی علم حاصل کرنے کی شرح میں اب بھی فرق برقرار ہے۔ اس میں ایک مسئلہ کم عمری کی شادی بھی ہے۔

لڑکیوں کی نسبت لڑکوں کو زیادہ فوقیت دی جاتی ہے۔ اگر کوئی لڑکا پڑھنا چاہیے تو اس کا سارہ خرچہ خوشی سے برداشت کی جاتی ہے مگر لڑکی کو اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بجائے اسے گھر میں رہنے کی تاکید کی جاتی ہے۔ یہ نہیں کہ  صرف مولوی حضرات قدامت پسند ہیں اور لڑکیوں کے حقوق کے خلاف ہیں، بلکہ آج کا پڑھا لکھا نوجوان بھی قدامت پسندی کا شکار ہے۔

غیر سرکاری تنظیم عورت فاؤنڈیشن کے ایک سروے کے مطابق خواتین سب سے زیادہ پبلک ٹرانسپورٹ اور بس اسٹاپ پر ہراسگی کا شکار ہوتی ہیں۔ ہماری سماجی روایات اور ہمارے رویوں کے پیش نظر بیشتر خواتین اس قسم کے واقعات کی شکایت گھر یا متعلقہ اداروں میں نہیں کرتیں۔ ان کے خیال میں الٹا خاندان کی جانب سے ان پر ہی دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ انہیں کام یا اسکول کالج جانے سے روک دیا جائے گا۔  ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان میں خواتین معاشی عمل میں بھرپور حصہ لیں تو ملک کی GDP میں 30 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ کیونکہ پاکستان میں کئی خواتین تعلیم تو حاصل کرلیتی ہیں لیکن لیبر فورس میں نظر نہیں آتیں، اس کی سب سے بڑی وجہ غیر محفوظ ماحول اور فیملی کی جانب اجازت نہ ملنا، خراب ذرائع آمد و رفت، شادی شدہ عورت کا کام کرنا اس بلوچ قدامت پسند معاشرے میں انتہائی مشکل ہے کیونکہ گھریلو کام، بچوں کی پرورش اور ہمارہ سماجی ڈھانچہ کچھ اس طرح کا ہے کہ جہاں مرد حضرات گھریلو کام میں زیادہ کردار ادا نہیں کرتے. بلوچستان کے خواتین کو قابل عمل اور بااختیار بنانے کےلیے گورنمنٹ اپنا ذمہ داری ادا کرے جیسا کہ خواتین کو سماجی اور معاشی طور پر سازگار ماحول مہیہ کیا جائےجس میں بہتر ذرائع آمد و رفت۔

ایمرجنسی کی بنیاد پر بلوچستان کے دوردراز دیہی علاقوں میں تعلیم اور صحت کی سہولت مہیا کی جائے۔

تشدد کی روکتام کےلیے  ایمرجنسی فون کال کی سہولت دی بائے اور ساتھ میں ایک موبائل پولیس  فورس کو بھی تشکیل دی جائے۔

بس ڈرائیوروں کو خواتین کے ادب و احترام اور حساسیت کے حوالے سے خصوصی تربیتی کورس کروائے جائیں

خواتین کے حقوق پر کام کرنے والے تمام نیشنل اور انٹرنیشنل این جی اوز کو کام کرنے دیاجائے اور مزید بین الاقوامی این جی اوز کو بھی خواتین کی بہتری  کے لیے کام کرنے کی  آفر دیا جائے۔

بلوچستان کے ہر ڈسٹرکٹ میں عورت کی مدد کے لیے دارالامان اور وائلینس ریفاررمز سینٹر قائم کیا جائے۔

مزید معلومات اور شکایات کے لئے ایک موبائل ایپ بھی بنایا جائے۔

تعلیی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ معاشرے میں خواتیں کے حقوق پر شعور اجاگر کرے۔

Share