Blog

فیک نیوز پہ سی آر ایس ایس کا تربیت ورکشاپ: گہرام اسلم

حال ہی میں ایک تھنک ٹینک ریسرچ انسٹیٹیوٹ “ سنٹر فار ریسرچ اینڈ سیکورٹی اسٹڈیز ( سی آر ایس ایس ) کے زیر اہتمام تربت اور گوادر کے پریس کلبز اور جامعہ تربت اور جامعہ گوادر میں دو روزہ “ Fake news and critical training “ کے موضوع پر تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا ، اس تربیتی ورکشاپ کے ریسورس پرسن سینئر صحافی سابق چیف رپورٹر طاہر راتھور جبکہ سی آر ایس ایس بلوچستان چپٹر کے کوآرڈینیٹر گہرام بلوچ تھے ، اس دو روزہ تربیتی ورکشاپ میں اس بات پہ زور دیا گیا کہ آج کے سوشل میڈیا کے دور میں منفی پروپیگنڈہ پھیلانے میں فیک نیوز تیزی سے پھیلتی جارہی ہیں، اسکی تدارک کے لیے لکھے پڑھے نوجوان کسی بھی خبر کو کنفرم ہونے تک کم از کم اس پہ کچھ لمحے کے لیے سوچ لیں تب جا کر اس ٹرینڈ کا حصہ بنیں ، آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ فیک نیوز اس لیے زیادہ وائرل ہورہی ہیں کہ ہم بنا سوچے سمجھے اسکا حصہ بنتے آرہے ہیں۔

اس سیشنز میں ہم نے ایک اور چیز کو بھی محسوس کیا کہ بلوچستان کے طلبا طالبات میں بہت ساری پوشیدہ صلاحیتیں ہیں انہیں نکھارنے کی ضرورت ہے۔ نکھارنے کے لیے اسطرح کی سرگرمیوں میں انہیں موقع فراہم کرنا ہوگا ، اگر بلوچستان کے اس نسل کو اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا موقع دیا جائے اور انکی رہنما کی جائے تو یہی نسل آگے چل کر بلوچستان کی بہتر اور سائنٹفک انداز میں نمائندگی کرسکتا ہے۔ طلبا کا یہی شکوہ ہمیشہ رہا ہے کہ ہمیں مرکز نے ہمیشہ نظرانداز کیا ہے اور آج بلوچستان ایک اسٹرٹیجک اہمیت رکھتا ہے اور عالمی طاقتوں کی نظریں بلوچستان کی ساحل تک رسائی پر ہیں ، سی پیک کے تحت اربوں ڈالر کا سرمایہ مختلف شعبہ میں تو لگائے گئے مگر بلوچستان کی انفرااسٹیکچر اور ٹیکنیکل ایجوکیشن میں ابھی بھی کوئی خاص پیش رفت نظر نہیں آرہی ہے۔

نوجوانوں کا شکوہ ہے کہ پاکستان اور چین کی اس سرمایہ کاری میں آج تک ایک میکنزم کے تحت طلبا و طالبات کے لیے اسکالرشپس کے مواقعے پیدا نہیں کئے گئے تو ہم کیسے اس ترقی کا حصہ بن سکتے ہیں جبکہ ہم عام طلبا اس سے مستفید ہورہے ہیں اور نہ ہی عام لوگوں کے لیے کچھ ہورہا ہے۔ اگر سی پیک دونوں ممالک کے مابین ایک اکانومک معاہدہ ہے تو اس معاہدے کو عام کیوں نہیں کیا جارہا ہے اور ہمیں کیوں نہیں بتایا جاتا ہے کہ اس میں ہمیں کیا ملے گا ، سی پیک سے متعلق حکومت اور بلوچستان کے عوام کے درمیان ایک بہت بڑی دوری نظر آرہی ہے۔

اس طرح کے سیشن سے کم از کم یہ فائدہ ہوگا کہ یوتھ کے تحفظات کو سُنا جاتا ہے اور مزید انکی تربیت بھی ہوسکتی ہے ۔ اس وقت بے شمار ایسے ادارے ہیں جو یوتھ پہ کام کرنے کی بلند و بانگ دعوے تو کرتے ہیں مگر یوتھ کی تربیت کے لیے عملی طور پر کچھ نظر نہیں آرہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر سی آر ایس ایس نے اکیڈمک بنیاد پر یوتھ کی capacity building کرنےکی شروعات کر رکھی ہے تو وہ باقائدہ طور پر ایک شارٹ کورس ترتیب دیں تاکہ وہ کسی بھی موضوع پر پی سی آر ایس ایس کے Alumni بن کر آگے چل کر معاشرے میں تنقیدی سوچ کو پروموٹ کریں۔

Share