Blog

مولانا ھدایت الرحمن بلوچ اور کٹھ پتلی حکومت: یلان بلوچ

عرصہ قبل کی بات ہے کہ گوادر کے علاقے جیونی کے پیاس کی صدائیں لیکر ریادت سے پانی کی مانگ کرتے ہیں تو انہیں گولیوں کانشانہ بناکر یاسمین، ازگل، اور غلام نبی سمیت دیگر کو شہید کرتے ہیں اور کچھ لوگ زخمی ہوجاتے ہیں۔
مگر جیونی گوادر کی پیاس نہ بجھ سکی۔

ریاست پاکستان کے حکمرانوں نے بلوچستان کے ساحل و وسائل کو اپنا سمجھکر دونوں ہاتھوں سے اسکی صفائی کررہےہیں مگر انہوں نے یہاں آباد انسانوں کی حالت زار پر کبھی ترس نہیں کھایا۔

ایک بزرگ شخصیت کیساتھ محو گفتگو تھا انہوں نے کہاکہ انکے ایک قتیبی عزیز کا پوسٹنگ بطور ڈاکٹر ریکوڈک میں ہوا تھا، جہاں آسٹریلیائی کمپنی ریکوڈک سے معدنیات نکالتے تھے، انہوں نے اپنے قریبی ڈاکٹر عزیز سے روایت کرتے ہوئے کہاکہ بقول ڈاکٹر کے'” ایک دن ہم آسٹریلیائی کمپنی کے ڈائریکٹر کیساتھ بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ باتوں باتوں میں بلوچستان کی غربت پسماندگی اور وسائل پر بات چڑھ گئی تو اس آسٹریلیائی آفیسر نے کہاکہ اگر ریکوڈک سے نکلنے والے معدنیات کی پچیس فیصد حصہ بلوچستان پر صرف کردی جائے تو یہ اتنے وسائل ہیں کہ انکے سامنے U, A, E, is nothing۔”

طویل ساحلی پٹی پر مشتمل بلوچستان، اور ڈی پی سی پورٹ کے مالک گوادر کے باسیوں کی زندگی میں تبدیلی نہیں آئی،گوادر جس کی اہمیت کی گونج عالمی سطح پر ہے مگر شہر گوادر کے باسیوں کی زندگی جو بھوک وافلاس کی گرد گھومتی ہے کوئی دیکھنے کی زحمت نہیں کرتا۔

بلوچستان پر عرصہ دراز سے قابض حکمران و طاقت ور ادارے بلوچستان کو کتنی اہمیت دیتے ہیں،بلوچستان کے باسیوں کی حیثیت انکی نظر میں جوپاؤں سے بھی کمتر ہے۔

بلوچستان کی سیاسی جماعتیں اس انتظار میں ہیں کہ کب کس کو اسکا حصہ ملےگا، سیاسی پارٹیوں کی حیثیت عوام کی نظروں میں دن بدن گرتی جارہی ہے، کیونکہ انکے صفوں میں یہ چیز نہیں دیکھا جاتا کہ کون کیاہے بلکہ یہ دیکھا جاتاہے کہ کس سے کتنے مفادات حاصل کرنا ممکن ہے۔

باڈر پر فینسنگ کا کام ہوا پشتون بلٹ سے لیکر بلوچ بلٹ تک تمام سیاسی جماعتوں نے کوئی مؤثر آواز نہیں اٹھائی اور ناہی کوئی مؤثر احتجاج کیا جسکی وجہ سے آج جیونی سے لیکر تفتان تک فینسنگ کا کام تکمیل تک پہنچ گیاہے۔

ساحل بلوچ کیلئے نو گو ایریا، سرحدی علاقے نوگو ایریا، مال مویشیوں پالنے کیلئے ٹوکن سسٹم، ان حالات سے بدتر کوئی قوم کو اس وقت زندگی نہیں گزار رہاہے ماسوائے بلوچ قوم کے۔

بلوچستان پر مسلط کٹھ پتلی حکومت اور انکے وزیر ومشیروں کی وقعت کا اندازہ بھی سب کو ہے کہ کون کیاہے؟ ان سے تو کسی کو خیر کی توقع نہیں۔

ایسے حالات میں مولانا ھدایت الرحمن بلوچ کا گوادر پورٹ پر دھرنا ایک تاریخی وانتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اسمیں ہزاروں افراد کی شمولیت عظیم کامیابی ہے بشرطیکہ کٹھ پتلی حکومت کی طفلی تسلیوں پر کان نہ دھرائے جائیں اور جہد مسلسل کو یونہی جاری رہھاجائے چاہئے ایک سال ہی کیوں نہ لگے۔

Share