Art & Literature

کانچ کاسیاہ غلیظ ٹکڑا: مقبول ناصر (رپورتاژ)

ناہمواربھیڑ۔۔۔۔۔۔سڑک پر۔۔۔۔اورلوگوں کے دماغوں میں،خیال اورواہموں کی صورت میں،زندگی کی علامت کے طورپرچلتارہتاہے۔۔۔بھیڑاَن دیکھے قانون کاپابندہوتاہے اُسے محض صوت سے نسبت ہے ٹھوس وجوداورحکم دینے والا مجسم فردجسے شناخت بھی حاصل ہو،بھیڑکوفوری نوعیت کاکوئی حکم نہیں دے سکتا۔۔۔بھیڑیااژدہام۔۔۔۔متواتردن کی روشنی اوررات کے دورانیے میں۔۔۔لیکن سڑک پریہ ناہمواربھیڑعشاکے اذان اورنمازکے بعداورپھیلتا جاتاہے مگرجوان ہوتی رات کی کُھلتی زلفوں کی خوشبوئیں اس کے تنفس پرحملہ آورہوجاتی ہیں اوریہ بھیڑ۔۔۔جس میں موٹرکاریں زیادہ دلآویزوجودرکھتی ہیں آہستہ آہستہ لاپتہ ہوتی جاتی ہیں جیسے خوبصورت بلوچ نوجوان خوابوں کے ریوڑوں کوہانکتے ہانکتے سرسبزچراگاہوں کے سرابوں میں اترکردن کے ستارے بن جاتے ہیں۔۔۔اورخوابوں کے ریوڑواپس بلوچستان یونیورسٹی کے سامنے الاؤجلائے خواب صورت بلوچ نوجوانوں کے زانوں پرسرٹیک کراپنے گدڑیاکاانتظارکرتی ہیں۔۔۔رات پھرحملہ آورہوتی ہے۔فصیح اورسہیل سراب میں اترگئے۔

(جب سیاست بے شناخت یامصنوعی شناخت تخلیق کی گئی گروہ کے وجودکامحافظ اوردست نگربن جائے یہ منظرنامہ پھیلتارہتاہے)
نیشنل عوامی پارٹی،بداعتمادی کے طویل اورخون ریزوقفوں کے بعدامیدکی ایک پتلی سی روشنی آنکھوں میں اتررہی تھی مگراسے دبیزمنافقت میں چھپادیاگیا۔یاشایدبجھادیاگیا۔
قوم پرستوں نے ایڑی چوٹی اورصدیوں کے سنبھالے عزت کی پوٹلی کوگروی رکھ کر،اقتداربانٹنے والے،مُرغ ہما،کے سامنے منتیں کرکے آواران کے گوہرنایاب کے سرپروزارت اعلیٰ کاتاج رکھوادیا۔۔۔۔۔لیکن خوابوں کے ریوڑہانکنے والے خوب صورت اورنوجوان گدڑیاغائب ہوتے رہے اورسراب انہیں نگلتارہا۔۔۔۔سراب ایساوجودجولاوجودہے جس طرح خوف ایساوجودہے جولاوجودہے جسے خاندان،گھراوراپنی ذات سے وابستہ جزبات اورخواہشیں اوران کی حفاظت اورروشن مستقبل دلانے کی جدوجہداسپیس عطاکرتی ہے۔یاایسادائرہ جسے ہاتھ کی چارانگلیوں سے بنایاجاتاہے اورجسے ہم اپنی کائنات کانام دے دیتے ہیں۔اوربھول جاتے ہیں کہ باہرگلی میں دائرہ پھیلتاجاتاہے جسے معاشرہ یاقوم کہاجاتاہے۔

تربت پریس کلب کے دائیں کان پرنیم کاپیڑاُس دوپہرکویادکرتاہے جب وہ محض چارفٹ کاتھا،خواتین اشک آلودانکھوں کے ساتھ پلے کارڈزتھامے جن پراردواورانگریزی زبانوں میں بڑے بڑے حروف میں مختصرتحریریں درج تھیں،نیچی آوازمیں نعرہ بازی کرتے ہوئے متواترآسمان کی جانب دیکھ رہی تھیں۔آسمان میں ہیلی کاپٹریں اُڑرہی تھیں۔جن تک نیچی آوازمیں اٹھتے نعرے نہیں پہنچ پاتے تھے۔جدیدٹیکنالوجی کے تخلیق تمپ کی جانب محوپروازتھے۔

سراب پھیلتاجاتاتھا۔اوردائرہ بنانے والے ہاتھ سکڑتے جاتے تھے۔ایک گھر،اپنی زمین،کاروبار،بچوں کے پڑھنے کے لئے مہنگی درسگاہیں ڈھونڈنے کے جتن۔دائرہ اورسکڑتارہتا۔اب توانگلیوں کی پوریں دھندلی دھندلی دکھائی دیتی تھیں۔
سیاست کے صفحے،سمندراورآسمان میں کافی مماثلت ہے۔غیرمتعلق شخص لکیراورنشان پانہیں دیکھ پاتا۔لیکن جس سیاست سے ہم کئی دہائیوں سے واقف ہیں وہ کانچ کاایک غلیظ سیاہ ٹکڑاہے۔خون سینچ کراس پرلکیریں ڈال دی جاتی ہیں اورایسے زایوں سے خانے بنائے جاتے ہیں جس سے دیکھنے والے زومعنی اشکال دیکھتے ہیں۔ایک خانے میں قوم پرستی لکھ دی جاتی ہے۔سیاہ غلیظ ٹکڑا،برف کی طرح سرداوراس خانے سے زندگی جینے اورغلاظت چاٹنے والے،انگوٹھے کی پُشت پرنشان زدہوکرروح کی رسیدوصول کرنے والاکارکن سیاہ غلیظ ٹکڑے پراپنے ووٹ کے ساتھ خون کاایک خشک ہوتاقطرہ بن جاتاہے۔

خون کے قطرے خشک ہوکرکانچ کوسیاہ کرچکے تھے لیکن وہ بھَیڑکارکن کوسبزدکھائی دیتے ہیں۔سیاست کاغذکاصفحہ نہیں کانچ کاٹکڑاہے جسے ایک مخصوص درجہ حرارت پرایک نئے ہیت میں ڈھالاجاسکتاہے۔
بھیڑپھرسے پھیلتاجاتاہے۔سڑک اس کے گمان میں اس کی گاڑی کے نیچے اِترارہاہے۔اوروہ یقین کرتاہے کہ خیالات اسے ایک مثبت اورمفید وجودبنارہے ہیں۔ اژدہام دھڑکتارہتاہے۔سراب آنکھیں میچے دہاڑتااورمنہ سے جھاگ اڑاتاہے۔دائرہ سکڑتاجاتاہے۔اب آنکھیں دیکھنے سے قاصرہوتی جاتی ہیں۔
تربت پریس کلب کانیم کاپیڑسورج ڈوبتے نیم تاریک گلی میں وکلاکے چیمبرزکوتکتاہے اورایک بوف کوراُس پرآکربیٹھ جاتاہے کیونکہ رات کانچ کے سیاہ غلیظ ٹکڑے کے مصنوعی قوانین سے ماورافطرت کے صدیوں پرانے آئین پرکاربندہے اوراسے حکم عدولی پرسزاکاخوف ہے۔

Share