Blog

یادوں کے دریچے میں صحبتِ یاران برخاستگی: ناکو عصا

بڑی دل لگی کی لت لگ چکی تھی کہ یاران سر گزشتہ روحانی خوراک کی فراوانی زرمبشتِ مراکبت ہوگی.ہر زبان پر چرچا ہوگا تیری مطالعاتی تاریخ دانشوری کی.ہماری حالیہ وجودی کیفیت ماضی کے جھرونکے کی لامتنائی سلسلہ جنبانی تشنہ لبوں کی پیاس بجائیگی۔

ہم بےصبری انتظار میں چشم بر این سوشل میڈیا مرکوز تھے.اس بے صبری کی بنیاد بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائیزیشن پجار کا اعلامیہ تھا.کہ دور حاضر کا ریسرچر اور دور گزشتہ کے عظیم سیاسی مفکر واجہ ڈاکٹر کہور خان کراچی یونیورسٹی میں بی ایس او پجار کے زیر اہتمام روبرو یاران لکچر بعنوان (افغانستان کے تغیر پزیر حالات اور بلوچستان پر اثرات)
سترویں اور اٹھارویں صدی کے دوران خطے میں صفوی سلطنت مغل سلطنت، عثمانیہ سلطنت، اور درانی سلطنت کے ادوارمیں بلوچستان اپنی قومی شناخت اور ریاستی استحقام کیلئے جدوجہد کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔

میں جڑ چکا تھا ڈاکٹر کی ادراک لاثانی، فہم فراوانی، کمیت اور کیفیت کی سانچے میں ڈھلے مکان اور زمان شناسی کی برق رفتار فیصلہ جرئت کی۔

انہی خیالات کی دامن گیری نے بےتاب کی زنجیروں نے جھکڑے رکھا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کی اس لکچر پر قسمت آزمائی کروں لیکن وقت ساتھ نہیں دے رہاتھا کہ اس موضوں متعلق کچھ تحریر کروں.
میں اسی دلدل میں پھنسا زور آوری کرتا نظرآرہا تھا.
کہ کسی دوست نے آکر میری امیدوں کی چراغ یہ کہتے ہوئے گل کردی کہ(ڈاکٹر کہور خان اب ہم میں نہیں رہا)….میں نے مذاق کی کسوٹی میں رکھا.کیونکہ ڈاکٹر متعلق اکثر ایسی باتیں ہوتی رہتی تھیں۔

ایک زمانہ تھا……غداروں کے تین نشان میں تیسری درجے پر تھا جبکہ ایک زمانہ اور تھا جوان تو کیا۔

بچے. بوڑھے.اور خواتین جان فدا تھے.جس راستے سے گزرتے پھولوں کے پتے نچاور کرتے.یہ بیانیہ سنی سنائی نہیں بلکہ ایک شاگرد کی حیثیت سے سینے میں چھپے راز موضوعیت کے اعتبار افشان کرنا فرض منسبی سمجھتا……مجھے یقین ہے کہ ڈاکٹر کہور خان کی سیاست متعلق بہت سارے کالم لکھے جائیں گے.پر میں ان کے متعلق حقائق پر مبنی چند واقعات تحریر قلم نظر عالم کرنے کی استدعا کرتا ہوں۔
1986 کا زمانہ تھا.بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنازئزیشن متححدہ کراچی میں عروج پر تھی.سیواکنج ہاسٹل.میٹھا رام ہاسٹل جناح کورٹس ہاسٹل.نیشنل ہاسٹل.این ای ڈی یونیورسٹی ہاسٹلز.جامعئہ کراچی ہاسٹلز.جامعئہ ملیہ ملیر ہاسٹلز بی ایس او کے تربیتی مرکز ہوتے تھے۔

لیاری،گولیمار، لالو کھیت، واد،موانچ، مہاجر کیمپ، گلشن اقبال،ملیر شرافی گوٹھ اور مراد میمن گوٹھ کے طلبا مزکورہ ہاسٹلز میں سیاسی تربیت حاصل کرتے تھے۔

ہاسٹلز میں مقیم غیر مقامی طالب العلم تھے.بی ایس او کی سیاست مقامی اور غیر مقامی طلباء شیر شکر ہو چکےتھے۔

کون مکرانی، کون سراوانی،کون جھالاونی فاصلے مٹ چکے تھے۔خوشی اورغموں کے دن ساتھ بیتاتے تھے…..مقامی لوگ ہاسٹلز والوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا کرتے تھے۔

مقامی طلباء اور غیر مقامی طلباء کے جڑنے میں بلوچ فنکاروں محمد شفیع بلوچ، عبدالستار بلوچ، ولی محمد بلوچ، امام بخش مستانہ بلوچ، اور استاد کامل نور، محمد نورل بلوچ نے بلوچ شاعروں کی ملی نغمات اور انقلابی گیتوں کو اپنی مدھر بھری آواز سے ایک ایسا سماں باندھا اور بی ایس او کے مقامی اور غیر مقامی طلباء کے ساتھ بلوچ باشندگان کراچی کو ایک ہی لڈی میں پہرونے کا بہترین اہتمام کیا۔

ایک وقت ایسا بھی گزرا بلوچ گلوکار شادہوں میں بی ایس او والوں کی عدم شرکت کے گانا گاہا نہیں کرتے تھے۔

گلوکار اسٹیج پر بی ایس او کا قومی ترانہ، (ما چکیں بلوچانی) تلاوت فرماتے تھے۔

اور دیوان میں موجود سب ہی لوگ احتراما قیام پزیر ہوتے تھے..اس کرد کی فقیدالمثال مثبت اسرات چار سوں نظر آنے لگے۔ سیوا کنج ہاسٹل بی ایس او کراچی زون کا مرک قرار پا چکا تھا.سندھ. بلوچستان اور خلیج کے بی ایس او متعلقین سیوا کنج ہاسٹل بسیرا کرتے تھے۔

کراچی میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائیزیشن کی اس طرح وسعت پزیری بیشک بیشک ڈاکٹر کہورخان کی انتھک محنت، صلاحیت اور عالم باعمل کردار کی دم سے تھی۔

ڈاکٹر صاحب لیاری میں ابراھیم میرو کے ہاں بسیرا کرتے تھے.ابراھیم میرو گمنام ہیرو کے مانند تھی.اپنا گھر کاروبار اور قیمتی وقت بی ایس او پر قربان کر چکا تھا۔

واجہ شیر جان مومن ہمارےساتھ ہاسٹل مہں رہتے تھے.لیاری میں واجہ شیرجان کی حیثیت تبرکانہ تھی۔ واجہ شیر جان کے ساتھ ڈاکٹر کہور خان سے ملنے ابراہیم میرو کے گھر جانا ہوتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب سے قربت کی انتہا اس وقت نصیب ہوٰا جب میں ہاسٹل سے چچا کے گھر لیاری بسیرا کیا ابرھیم میرو اور میرے چچےکے گھر کا فاصلہ پانچ منٹس سے زائد نہ تھا۔

چونکہ میں کالج سے فارغ ہو چکا تھا. کوئی اور سرگرمی نہ تھا سوائے سیاست کرنے کے.یوں ہی شب ؤ روز ابرھیم میرو کے گھر ڈاکٹر کہور َخان کے ہاں سیاسی تربیت حاصل کرتا گیا۔

بعد ازان پورے محلہ داروں سے اعتماد اور اعتقادکی لا ینفک ماحول بنتا گیا انہی حالات واقعات نے قربت کی گہرائی میں اس وقت مزید اضاف فرمایا جب شیر جان مومن نے ابراھیم میرو کو حکم دیا کہ اس سال کوہ مراد کی زیارت اکٹھے منائیں گے۔ چناچہ ابراھیم.میرو نے دو ٹینٹوں پر مشتمل قیام کا اہتمام کیا. جس میں واجہ شیر جان مومن، ڈاکٹر کہور خان، ابرھیم میرو اور من عصاء رہنے لگے۔

یہ تاریخی حقیقت ہے راسخ العقیدت کی۔

Share