Blog

یہ دھرتی ڈاکٹر کہور خان اور عطاء شاد کی ہمیشہ مقروض رہے گی: روف قیصرانی

اسی بے قدری دی بٹھی وچ
چن چن کیں ہیرے ساڑنیں آں
(ہم بے قدری کی جلتی بٹھی میں چن چن کر ہیرے جلا دیتے ہیں)

ڈاکٹر کہور خان انا پرست خداوں کے دیس میں ایک درویش تھا۔سائنسی فکر سے لبریز وہ اپنے نظریے میں کلئیر تھا, اس نے کبھی کسی زمینی خدا کو تسلیم نہیں کیا۔ جس کے بدلے زمینی خداوں نے بھی اس کو غداری کے فتوے دیے۔ لیکن دھیمے مزاج کا دیوتا مزاج سیاسی کارکن اپنی علمی شمع ہاتھوں میں تھامے اندھوں کے شہر میں روشنی بانٹتا رہا۔

علم اس کا اوڑھنا بچھونا اور ہتھیار تھا اور جہالت اپنے کم ظرف رعب کے ساتھ تمام عمر اس کے راستے میں سیسہ پلائی دیوار بنی رہی۔ نا کم ظرف بونے اپنی جہالت سے باز آئے اور نا ڈاکٹر کہور خان اپنے مدلل سائنسی نظریے کی ترویج سے پیچھے ہٹے۔ ایک حساس دل رکھنے والا کامریڈ آخر کار اس اندھیر نگری سے اکتا گیا۔ عطاء شاد اور ڈاکٹر کہور خان کی یہ دھرتی ہمیشہ مقروض رہے گے۔ ان دو ہیروں کو کم ظرف انا پرست نام نہاد قوم پرستوں نے اپنی اناوں کی بھینٹ چڑھایا۔ ڈاکٹر کہور خان سر ہم آپ کے نظریے کے سامنے سر تسلیم خم کر چکے ہیں اور جب تک زندگی ہیں آپ کا راستہ ہمارا ہم سفر رہے گا۔

چاچا اللہ بشک سمیت ان کے ساتھیوں اور خاندان سے ہم تعزیت نہیں کریں گے کیوں کہ ڈاکٹر کہور اپنی کلئیر آئیڈیولوجی کے ساتھ ہمیشہ ہمارا رہنما رہے گا بلکہ ہم ان پہ رشک کرتے ہیں کہ اس درویش منش سیاسی کارکن اور علمی مینار کے اس قدر قریب رہے۔ مور پاور ٹو آل فرینڈز اینڈ فیملی۔

سر آنسووں کے پانی میں لپٹے اس لفظی سلام کو قبول کیجیے۔
لو یو سر۔

Share