Blog

 تخیل کابے ثمراستعمال: مقبول ناصر

رائے عامہ کوبنانے اوراسے ایک قابل شناخت ہدف فراہم کرنے کے لئے سماجیات، معاشرتی علوم اورسیاسیات کے عالموں کے بنائے گئے قوانین/فارمولے ہمیشہ قابل عمل نہیں ہوتے۔خصوصاایسے معاشروں میں جہاں سیاسی نظام مسخ شدہ ہیئت میں رائج ہویاجسے غیرسیاسی قوتیں ادارہ جاتی اثرورسوخ کی بنیادپرقائم کریں۔
انتشارکو،اداروں کی طرف سے متفقہ حکمت عملی کے تحت، بلوچستان میں رائج کردیاگیاہے۔

جبکہ 2002کے بعد،سیاسی منظرنامہ کو،ادارہ جاتی مخصوص مفادات کے تحفظ اورپھیلاؤکے لئے تشکیل دیاگیاہے۔جسے 2008میں مصلحتامسلط نہیں ہونے دیاگیالیکن 2013کے انتخابات کے چندمہینوں کے بعدن لیگ اوراداروں میں اس منظرنامے کے خدوخال پراختلاف نے اداروں کونیم جمہوری نظام کومعطل کرنے اور دھرنارجحان کے تحت ،منظرنامہ کونئے سیاسی خدوخال میں ڈھالنے کی جانب راغب کیا۔

اس منظرنامہ کوتشکیل دینے والے اذہان دراصل عالمی سیاسی منظرنامے کے مطابق اپنامنصوبہ بناناچاہتے تھے،لیکن اوورکانفیڈینس اورمفروضوں کے اسپ تازی نے انہیں میدان کے وسط میں گرادیاہے۔تخیل کے ادبی روایت کی تقلیدنےان اذہان کوجو خودکوعالمی منظرنامے کاایک طاقتوربُزکَش تصورکرتےتھے حقیقت کاحریف بنادیاہے۔جبکہ خلامیں بنائے گئے معاشی بنیادوں کے کھوکھلے پن نے انہیں کھیل سے باہرکردیاہے۔

لیکن چونکہ منظرنامہ تشکیل پاچکاہے(گوکہ غیراستوارہے) اوراس کے خدوخال طے کئے جاچکے ہیں لہٰذاکھیل توجاری رکھناپڑے گا۔لیکن تاریخ کے تناظرمیں دیکھاجائے تواصل منظرنامہ وہی ہے جہاں عوام جیتے مرتے ہیں۔ادارہ جاتی بنیادپرتشکیل دیاگیامنظرنامہ محض حاشیہ پرجھانکتارہتاہے۔

رائے عامہ بنانے اوراس کے ہدف کوشناخت فراہم کرنے میں “میرے عزیزہم وطنو!”کے بجائے سماجی رابطوں کے ذرائع ہتھیاچکے ہیں۔

اسے سیاسیات کے فارمولے کے طورپرپیش کرنے کے بجائے محض ایک مثال بنانامقصودہے۔امکانی یامفروضے کے طوپرمکران کے گھرگھرمیں گْوادردھرنے پرتبادلہ خیال کیاجارہاہے۔مولاناہدایت کے بجائے اگراسے کوئ قوم پرست شروع کرتاتوشایداسے غائب کردیاجاتالیکن خیال اغلب ہے کہ یہ سلسلہ نہ رُکتااس قوم پرست کی جگہ کوئ اورسماجی کارکن آگے بڑھ کرسابقہ گمشدہ شخص کے خلاکوبھرتااوردھرناجاری رہتالیکن اب چونکہ مولاناہدایت اس دھرنے کی قیادت کررہے ہیں اورعوام اس میں شامل ہورہے ہیں اور لاکھوں لوگ اس پرتبصرے،تنقیداورحمایت کررہے ہیں۔

معاشرے میں موجودنام نہاددانشوراورسیاسی اکابراس انتظارمیں انگشت بدنداں یا لب سل چکے ہیں کہ کوئ “عظیم اورسائنسی اصولوں پرکاربندلیڈر” مولاناہدایت کو سندقبولیت فراہم کرے تو وہ کچھ کہیں یا کریں گے۔خاموشی( جس کے بطن میں خودسے وابستہ سینکڑوں لوگوں کوبدظن کرنے کے بیج موجودہیں)یا”دیکھواورانتظارکرو” کی بجائے عملی طورپراختلاف اور اتفاق کیجیئے۔

لیکن اس کینڈے سے تعلق رکھنے والے اذہان منظرنامہ بنانے والوں اور قوم پرستوں وسماجی دانشوروں میں لاتعدادہیں جنہیں تخیل کے ادبی روایت کی تقلیدنےاپنے ہی تصورمیں بادشاہ ساز بنایاہے لیکن حقیقت ان کاحریف رہے گا۔

منظرنامہ کے خدوخال تبدیل کیجیئے اور ادارے ان ازکاررفتہ ذہنوں کی تخلیق کاری کے ثمرات سے مسفیدہونے کی بجائے انہیں توقف کریں اور عالمی منظرنامہ میں بُزکَش بننے کے بجائے استفادہ کنندہ بن جائیں اوراعتمادبحال کرئیں۔

اورسال خوردہ قوم پرست مدبراپنے اذہان کوجدیدسماجی رابطوں کے ذرائع(سوشل میڈیا)کومحض عفریت اور تخریبی قوت سمجھنے کی بجائے اسے نوع انساں کے ارتقامیں جدیدایجاد(اورسنگ میل) تصورکریں اورخودکوحاشیہ جبکہ معاشرہ/ قوم کو منظرنامے کاتخلیق کار تسلیم کریں۔

Share