Blog

گمشدگان کی تلاش: صادق صبا

گمشدگان اور بلوچستان , دو ایسے الفاظ ہیں جو آج کل کم و بیش مترادف کے طور پر استعمال کئیے جاسکتے ہیں . اور ہر زاویے سے. اب دیکھیے کے پچھلے تین ہفتوں سے عوام سڑکوں پہ اپنی بنیادی ضروریات , اور روزگار کے زرائع کے بندش کے خلاف نکلے ہوئے ہیں.  لیکن ان کے نمائیندگان دور دور سے دیکھائی نہیں دیتے, پوسٹر چپوائے گئیے , صلواتیں کی گئی ,فون لگائے گئیں لیکن پتہ چلا ہے کہ صاحبان , گم شدہ ہے۔

ایک صاحب کو پچھلی بار صوبائی اسمبلی میں , جالب کے اشعار کی عصمت دری کرتے دیکھا گیا تھا, جس پہ جالب عالم ارواح میں اتنے شاکڈ ہوگئے کہ ابھی تک ڈرپس پر چل رہے ہیں . اپنا اور اپنے تقریر لکھنے والے کی عزت میں اضافے کے بعد سے صاحب چشم عوام سے غائب ہیں . باقی چشم فلک کا وہی فلک والا بہتر جانتے ہیں . رہی بات , بات بات پہ بگڑنے والے سردار کی تو وہ چھ نکات سے گرنے والے نکات چن رہے ہے . شاید موصوف کو کوئی مسئلہ ہو . لیکن اس کے آجو باجو کے من تو بھی چپ سادے ہوئے ہیں۔

دوسرے صاحب جس کی تلاش جاری ہے سنا ہے سنیٹر ہیں , تقریر بھی کرتے ہیں اور انھیں آخری دفع گوادر کرکٹ اسٹیڈیم میں میچ کھیلتے دیکھا گیا تھا.  اب جب کے عوام اسے ڈھونڈ رہے ہیں تو وہ لگتا ہے کسی اور “گولے” پہ اپنے ریموٹوا ڈھونڈ رہے ہے۔

تیسرے تو مشہور تھے سالار ساحل کے نام سے قابل اور لائق بھی تھے لیکن جب , ساحل ساحل اکیلے کھیل رہے تھے تو انھیں دیکھا جاسکتا تھا لیکن آج کل پتہ نہیں کون سی پان کھا رہے ہیں کہ آواز ہی نہیں نکلتی اور جب تک تھوک نہ دیں تو تلاش بھی جاری ہے۔

یہ خیر مقامی تھے , اب کچھ اور ہیں کہ کبھی کبھی جن کی بھاگیں ٹائیٹ ہوتی ہیں تو ان کے چیخوں میں بلوچستان بلوچستان بھی ہوتی ہے . ایک تو ہماری بہن ہوئی کہ جو والد کی حفاظت میں , ہر رنگ میں نظر آتی ہیں.  وہ اچھی خاصی بلوچی لباس میں وہ نظر آئی تھی . کل بہنوں نے اسے خوب تلاش کیا لیکن ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم۔

پھر ہمارے ساحل کے بیٹے کی طرح “اردو کی ماں بہن” ایک کرنے والا ایک اور نوجوان ہے جو بہن کی طرح باپ بچاؤ تحریک کا حصہ ہیں.  جب بھی اس کے باپ کو جیل راس نہیں آتی تو یہ پارٹی پرچم کا تیر زبان پہ رکھ کے خوب برساتے ہیں . لیکن فلال چپ ہیں۔

آخر میں عوام میں ایک وہم بھی سمایا ہوا ہے , ہم سمجھتے ہیں ہم بھی وزیراعظم رکھتے ہیں . تو جناب کو تربت میں ریگستان تو دیکھائی دیتی ہے.  کشمیر کے مظلوم دکھتے ہیں لیکن گوادر میں حقوق کی جہد میں بیٹھے لوگ نہیں دکھتے . خود کو دھرنا ماسٹر کہنے والے رنگ ماسٹر کی اشاروں پہ چپ ہے۔

اب عوام مایوس ہوتے جارہے ہیں اسی لئیے گمشدگان کے مزید تلاش سے بہتر ہے کہ ان کے پارٹیاں جن کو حق دو تحریک نامی سیلاب بہا کر لے گیا , کیلئے غائبانہ نماز جنازہ پڑھی جائے۔

Share