Blog

مولانا کے پیچے کون؟: صادق صبا

اشفاق احمد زاویہ کے جلد  دوئم میں لکھتے ہیں کہ ایک دن ہمارے ہمسائے میں ایک خوبصورت عورت آکر رہنے لگی, جو ماڈرن تھی, باریک کپڑے پہنتی تھی, اور وقتاً فوقتاً نئی نئی گاڑیوں میں مرد حضرات اس سے ملنے آتے, ایک گاڑی تو اس کے گھر ہر دوسرے روز آتی . اور جب آتی تو وہ عورت بچوں کو باہر بیجھتی تھی۔

یہ سلسہ کہیں مہینوں چلتا رہا, محلے میں سب حیران تھے کہ کون مصیبت آکر یہاں آباد ہوئی ہے.  ہر ایک کی زبان پر چہ مگوئیاں تھی۔

وقت گزرا ایک دن عورت سبزی لینے نکلی کہ بازار میں بے ہوش ہوگئی اور فوت ہوگئی.  اس کی کفن دفن بھی ان لوگوں نے کی جو وہاں آتے تھے۔

فوت ہونے کے بعد معاملہ کھلا کہ یہ عورت جزام کے مرض میں مبتلا تھی اور یہ مرد حضرات جو آتے تھے یہ سب معالج تھے , وہ جو ہر دوسرے دن آتا تھا وہ خاندانی معالج تھا۔

اس حکایت کا مقصد بیان یہاں صرف یہ ہے کہ ہر , ہر بات پہ شکوک کا اظہار ہمارے معاشرے میں عام ہے کیونکہ ہم خود ہر وقت شارٹ کٹ کے زریعے رستے تلاش کرتے ہیں. اگر کسی کو جلد راستہ ملے تو ہم شک اور بدگمانی میں مبتلا ہوجاتے ہیں.  اس کی حالیہ نظیر یہ ہے کہ بے شعور تو بے شعور باشعور بھی مولانا کے تحریک کی کامیابی میں وہ ڈوریں تلاش کررہی ہیں جن کے سہارے وہ ہمیشہ کامیابیاں حاصل کرتے ہیں۔

وہ یہ باور کرنے سے قاصر ہیں کہ مولانا نہ تو امیر کبیر ہیں , نہ خاندانی سیاست دان اور نہ کوئی سید  لیکن کام وہ,  وہ کرچکے ہیں کہ اب تک کی تایخ اس سے ناآشنا ہے.  اور تاریخ کا یہ غیرروایتی پن ان کے داماغ میں سوالات پیدا کررہا ہے۔

کوئی مولانا کے پیچے خلائی مخلوق کا ہاتھ تلاشنے کے درپے تو کوئی مافیہ کا . لیکن وہ قدرت کے اس قانون سے کورہ ہیں کہ خالی جگہ جب بھی خالی ہوتی ہے تو اس میں ہوا کا کم دباؤ طوفان بن جاتا ہے.  تو مولانا نے وہ خالی جگہ پُر کی ہے جس کو بےضمیر سیاستدانوں , چمچہ گیری کلچر , اور فرقہ پرستی والی سیاست نے چھوڑا ہے۔

ایک اور بات ہے کہ سیاست “موجود ” کا حال کا کھیل ہے جب آپ مجودہ مسائل اور مجودہ ایشوز پر سیاست کریں گے اور نتائج کیلئے سرتوڑ محنت کریں گے تو عوام آپ کے پیچے کھڑا ہوگا. اور مولانا نے یہ ثابت کیا ہے۔

اب بھی کسی کو شک ہے کہ مولانا کہ پیچے کون ہے, تو میں آپ کو بتاتا چلوں کے مولانا کے پیچے ناحدا وشدل ہے جس کے بچے بھوک سے تڑپ رہے ہیں کہ ٹرالر مافیا نے ان کا روزگار چینا ہے , مولانا کے پیچے استاد شاھو ہے جو ایران باڈر ٹوکن پہ ہونے کے بعد گھر پہ بیٹا ,بیٹیوں کے سامنے بھی سرجھکائے آنکھیں نہ ملا پارہا ہے , مولانا کے پیچے ماسی آمنہ ہے جس نے نشہ کے ہاتھوں چار بیٹھے گنوائی ہیں اور پانچویں کیلئے گھر سے نکل کر بھیک مانگتی ہے کہ کمانے سے تو وہ رہا . اور یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کی آہیں مولانا کے بازؤں میں دم ڈالتی ہے۔

باقی, بے روزگار سیاستدان گھر بیٹھےشک کی ڈوریاں تلاش کرنے کے بجائے آئیں مولانا کا ساتھ دیں۔

Share