Blog

ٹھیکیداروں کی کرشما سازیاں: صادق صبا

اششش…..دیش سورہا ہے”  یہ ڈائیلاگ 22جولائی 2016کو ریلیز ہونے والی فلم “مداری” کا ہے . جس میں عرفان نرمل نام کے , ایک ایسے مظلوم کا کردار نبھا رہا ہے جس کااکلوتا بیٹا پُل گرنے کے ایک سانحے میں جان گنوا چکا ہے .اب عتاب ذدہ نرمل کہ جس کا بیٹا کسی گدھ کے منہ میں گیا , باز بن کر ہوم منسٹر کے بیٹھے کو اغوا کرتا. اور آخر میں روایتی طور یہ پیغام دیتا ہے کہ سیاستدانوں کو بھی عام عوام کی فکر کرنی چاہئیے کیونکہ   Common man,s life matters too.

عرفان خان اس فلم میں ایک جگہ کہتے ہیں کہ سیاستدان اصل میں بزنس مین ہیں اور ہم ان کے فالوورز نہیں بلکہ گاہک ہیں جنہیں یہ دہائیوں سے بے وقوف بنا رہے ہیں . اور آئندہ بھی بناتے رہیں گے . اس فلم میں ٹھیکدار کی کاستانیاں کا حقیقی روپ اگر آپ دیکھنا چاہئیں تو فقط ایک دہائی ماضی میں جھانکیں آپ کا اپنے ابتدا کے صرف بیسویں دن یکم ستمبر 2007 گرتا ہوا شیرشاہ پل یاد آئیے گا. جس کے نتےجے میں ستر انسان جان سے ہاتھ دھو بیھٹے اور کسی کے معدے میں جاگرے۔

مردم خود دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جنہیں خون خواری کی بیماری لگ جاتی ہے دوسرے وہ جنہیں کرپشن کی ہوا اچھوت بیماری لگتی ہے۔

قصہ کو مختصر کرتے ہوئے معاملے پر آتے ہیں۔

اپنی مصروف زندگی میں یہ ٹھیکدار کہاں سے یاد آگئے ؟

دراصل ہمارے معاشرے میں کرپشن اتنی زیادہ ہوچکی ہے کہ یہ ایک عمومی مسئلہ لگتی ہے لیکن آپ نزدیک سے دیکھیں تو آپ کی جڑیں کٹتی نظر آتی ہیں۔

پسنی پبلک لائیبری کو بنے غالباً 5 6مہینے ہوں گے لیکن دن بہ دن ٹھیکداری کے آثار نمایاں ہوتے جارہے ہیں۔

اوپر اوپر کے اس رنگت کے نیچے بہت سے راز چھپے ہوئے ہیں.  دراڑیں کو چیخ روز بہ روز بلند ہوتی جارہی ہے.  آپ پانی کی ٹنکی ہی سے اندازہ لگائیں کہ جسے آدھے پلاستر کیا اور آدھا چھوڑ دیا گیا. اور گمان غالب کے نیچے کی سطع فرش کئیے بنا بس سیمنٹ کا ہلکا سا تہہ دیا گیا ہے.  نہ سیڈھی اور نہ پائپ کی جگہ.  اور اوپر سے چھ سات دارڑیں. کرسیوں کا حال یہ ہے کہ ایک دن جوں ہی میں کرسی پہ بیٹھا کرسی ایسے ٹوٹ گئی جیسے کافور کا کھیلونا. کھڑکیوں کو بند کرنے کیلئے کم اس کم دو آدمی تو چاہئیے. سوئچ بورڈ پہ ایک عجب عجوبہ ہے ایک بٹن سے دو دو کام لئیے جارہے ہیں.  پنکھے اتنے دقیانوسی کہ سردی میں بھی آپ ان کے پر گن سکتے ہیں۔

روشن دان تو بضد ہیں کہ ہم اپنی جگہ پہ نہ بیٹھیں گے.  نہ پانی کا نل (ایک دو دن سے ایک خدا دوست نے نل لگایا ہے ). نہ لیٹرین کا دروازہ. مطلب ایک ٹھیکہ دار جتنی چمتکار کرسکتا تھا اس نے کیا.  اب سونے پہ سہاگہ یہ کہ گیٹ بھی ٹوٹ چکا ہے, اب مرض یہ سمت اختیار کرچکا ہے کہ کس سے آپ اس کی شفا کی توقع کریں , جس میر صاحب کے نام پہ ہے اس کے وارثوں سے یا گورنمنٹ سے ٹھیکداری چمتکاروں کے بعد یہ لاورث سینکڑوں لاوارثین کی فہرست میں کھڑا ہوچکا ہے۔

آپ پسنی بوائز کالج جا کے دیکھیں تو یہی سوالات آپ کے منتظر ہیں کہ دس سال کے اس قلیل مدت میں یہ حال کیوں ہے ؟ دراڑیں وہاں بھی پتھر کے زمانے غار بن چکی ہیں.  جب کہ ٹھکیداروں کے اپنے گھروں کا ایک اینٹ ادھر سے ادھر نہیں ہوتا.  اگر جگہ کی بات ہے تو پسنی جی ٹی بنانے والوں کے گھروں کا رنگ اتر گیا لیکن۔ جی ٹی میں مول اب بھی اپنی زردی سے چمک رہا ہے . حالانکہ کافروں کا کیا دھرا ہے اور ہمارے مسلمانوں کے کارنامے ہرسال بنتے بگھڑتے سڑکیں , پسنی لائیبریری اور کالجیں ہیں. پھر بھی شکایت ہے کہ.کیوں ہوں خوار زمانے میں مسلمان ہوکر؟ اب مسلمان خوار ہوں نہ ہوں ٹھیکیدار برحال ہمیں خوار کرکے خوب آباد ہیں۔

Share