Blog

گھر سے لائبریری تک ادھورے خواب : اقرا نیک محمد

2016 میں جب میں  کالج کی طالبہ تھی، تو میں نے تربت شہر میں پہلی بار پبلک لائبریری کا سنا تو مجھے لائبریری دیکھنے کا بہت اشتیاق ہوئی۔ اور لائبریری دیکھنے کی خواہش اور وہاں بیٹھ کر جستجو کی شوق  کی حسرت دل میں رہی ۔بدقسمتی سے یا اور بہت سی وجوہات کی بنا پہ مجھے اپنی یہ خواہش اپنے آپ تک محدود رکھنی پڑی لیکن یہ خواہش  ختم نہیں ہوئی۔

2107 میں جب لاء ڈپارٹمنٹ کی افتتاحی تقریب پبلک لائبریری میں رکھی گئی تو مجھے افتتاح سے زیادہ لائبریری دیکھنے کی خواہش  اور خوشی تھی۔

کیونکہ سنا تھا، “Nothing is much pleasanter than exploring a library ”

لائبریری میں گھومنے اور لطف اندوز ہونے کے خیالات اس لیے بھی آ رہے تھے کہ میں نے کتب خانے صرف فلموں کے پردوں میں دیکھے تھے۔ بڑے بڑے، کتابوں سے بھری پڑے۔ کالج اور اسکول میں تو ایک کمرے کی لائبریری ہوتی تھی، شاید ہی 200 کتابیں اس کی کل کائنات ہوتی ہوں گی۔

خیر خدا خدا کر کے ہم پہنچ گئے۔ جوں ہی inauguration ختم ہوا میں اپنی سہیلی کے ساتھ لائبریری کی طرف نکل پڑی۔

گلزار صاحب کی مشہور اور میری پسندیدہ نظم کی سطریں یاد آتی رہیں;

“کتابیں جھانکتی ہیں بند الماری کی شیشوں سے

بڑی حسرت سے تکتی ہیں

مہینوں اب ملاقاتیں نہیں یوتیں”

یہاں بھی کچھ ایسا ہی معاملہ تھا۔ کتابیں مقفل الماریوں سے بڑی حسرت سے تک رہی تھیں لیکن ان سے ملاقات نہ ہو سکی۔ کیوں کہ وہاں جا کر پتہ چلا کہ ان قیدیوں کی رہائی اور ملاقات کے لیے پہلے جیل کے داروغہ سے ملاقات کرنی پڑتی ہے۔

واپسی پہ کتابیں چلاتی رہیں، کہتی رہیں، “موہے اپنا بنا لے مورے بالما” اور “دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے”۔

کجا فلمی کتب خانے اور کہاں ہمارا اکلوتا لاڈلا کتب خانہ؛ سہولیات سے عاری۔

پھر دوبارہ جانا ہوا اور میرے جاتے ہی تربت کی گرمی اور اس کے ساتھ مخصوص لوڈ شیڈنگ۔ اس شدید گرمی میں شاید AC بھی ہارٹ فیل ہو جائیں اور یہاں چند گنے چنے پنکھے بھی دم توڈ چکے تھے۔ جتنی دیر میں وہاں بیٹھی رہی، خود کو آستینوں سے پنکھا دیتی رہی۔ کیوں کہ اس قاتلانہ گرمی میں میں پڑھنے سے تو قاصر رہی۔

ترقی یافتہ ممالک اپنی یونیورسٹیز کے ٹمپریچر کو موڈریٹ رکھتے ہیں تاکہ اسٹوڈنٹس پڑھائی پر توجہ دے سکیں اور یہاں ہماری اکلوتی لائبریری جھلس رہی تھی، پڑھنے والوں سمیت مجھ سے اور جھلسا نہ گیا سو میں واپس لوٹ آئی۔

یونیورسٹی کے پہلے دنوں میں پڑھائی کا بڑا جنون سر چڑھتا ہے، مجھے بھی چڑھا۔ لیکن، لیکن بھئی پڑھا کیسے جائے!!

بلوچستان کے دوسرے بڑے شہر یعنی تربت میں تو برسوں گزر گئے، انٹرنیٹ نہیں اور مجھ غریب کے لیے قانون کی مہنگی مہنگی کتابیں خریدنا ناممکنات میں سے تھا۔

تو کیا ہوا!!

خیال آیا، “لائبریری تم ہی تو ہو!”

پھر سے لائبریری کے درشن ہوئے جوتوں کی ٹِک ٹکِ ٹِک کے ساتھ۔

لائبریری کا چپہ چپہ چھان مارا، کتابیں ملی نہیں، پر آواز کتابوں سے آئی، “ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم!”

یہی نہیں پوچھنے پہ پتہ چلا کہ یہاں کورس کی کتابیں قضا ہی دستیاب ہوتی ہیں۔ اور تو اور پڑھاکو پچے اپنی کتابیں گھر سے اٹھا کے یہاں پڑھنے آتے ہیں۔ خیال آیا شاید نان دہی خریدنے کے ڈر سے یہاں آ کر بیٹھتے ہوں گے۔

2017 سے لے کر آج تک میں وہ فلمی لائبریری دیکھنے کی حسرت دل میں دبائے ہوئی ہوں، جہاں ڈھیر ساری کتابیں ہوں گی، جہاں گرمی کی وجہ سے پڑھائی نہیں روکنی پڑے گی، جہاں مہنگی کورس کی کتابوں کی وجہ سے اسٹوڈنس پیچھے نہ رہیں گے….

پر شاید یہ میرے لیے خوابِ ہی خرگوش ہو۔

Share