Blog

ہم فیملیز: عمران بلوچ

جی میرا تعلق فیملیز سے ہے۔جب کسی کا ایسا تعروف ہویا کوئی خود اپنا یہ تعروف کرے تو ایسے میں پہلے تو آپ کو اور ہمیں فیملی یعنی خاندان کی تعریف ڈھونڈنا پڑتی ہے جیسا کہ مختلف ملکوں اور اقوام میں وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ اس کی تعریف کافی بدل گئ ہے بہرحال انگریزوں کے ہاں میاں بیوی اور ایک آدھ بچے ہی خاندان کی تعریف میں آتے ہیں ان کے ہاں مشترکہ خاندان کا کافی حد تک تصور ختم ہے بس ایک آدھ کمروں کی فلیٹ میں رہنے والے ہی خاندان کہلاتے ہیں، یعی کچھ اب ہمارے ہاں شہروں میں ہورہا ہے بہرحال دیہاتوں میں معاملہ کچھ الگ ہے۔

ہمارے ہاں بلوچوں اور پشتونوں کے ساتھ معاملہ کچھ الگ ہے اول تو ہمارے ہاں مشترکہ رہنے کا تصور ہے دوم والدین بہن بھاہیوں کے علاوہ چچازاد خالہزاد نزذیکی کزنز سب خاندان ہی میں آتے ہیں۔ بلکہ بلوچ تو سانگبندی رشتہ داری کو بڑے احترام سے دیکھتا اور بڑا گہرا تعلق مانتا ہے، اسی لئے ہر بلوچ کے ہاں خاندان کی تعریف اوپر بیان کئے گئے تعریف سے ملتا جلتا ہوگا۔ ایک وکیل کی حیثیت سے ہماری ساری وابستگی سائلین سے ہی پڑتا ہے ہر ایک کی اپنی کہانی ہوتی ہے پھر سماجی سیاسی اور انسانی حقوق کے لئے جدوجہد سے کچھ حد تک واسطہ بھی ہے ایسے میں بعض معاملات ایسے بھی سامنے آۓ ہیں کہ سن کر انسان کا خون جم کر خشک ہوجاتا ہے اور پھر نہ زبان ساتھ دیتی ہے نہ آنکھیں اور نہ ہی کان کیونکہ سامنے والا اگر اپنی تعریف میں یہ بتادے کہ میرا تعلق فیملی سے ہے یا یہ کہ ہم فیملیز سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں یہ سن کر انسان نہ صرف پریشان ہوتاہے بلکہ مختلف کیفیتوں کا شکار ہوجاتا ہے کہ کہنے والا کہنا کیا چاہتا ہے؟ پہلی بار کہنے والے کی یہ بات سن کر کہ میرا تعلق فیملی یا فیملیز سے ہے یہ سن کر انسان کی ہنسی نکل جاتی ہے جسے چھپا کر مسکرانے پر گزارا کرنا پڑتا ہے کیونکہ سننے والا یہ سوچ کر ہنسنے لگتا ہے کہ جی میرا تعلق بھی ایک فیملی سے ہے میرا بھی ایک خاندان ہے تو پھر یہ کیسی بات کہ میرا تعلق فیملی سے ہے یا ہم فیملیز سے ہیں۔

انسان اندازہ لگانے لگتا ہے کہ أیا ان کے پاس تعلیم شعور یا ضرور کچھ نہ کچھ ایسا ہے جس پر یقینناً ان کو فخر ہے جو یہ لوگ ایسا بولتے ہیں، مشاہدے سے یہ ثابت بھی ہوجاتا ہے کہ جی ہاں یہ تعلیم تافتہ سلجھے ہوۓ اور اچھے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں اس کے علاوہ سیاسی اور سماجی طور پر یہ اس معاشرے کے باہمت لوگ ہوتےہیں اچھا ان کے ہاں درد اور تکلیف بھی ہے جو بہت گہری ہے یہ انتہائی باہمت لوگ ہوتے ہیں یہ باتیں بھی انصاف دلیل اور عقل و علم اور منطق کی کرتے ہیں اور یہ تعداد میں بہت زیادہ ہیں ان سب کا سربراہ بس ایک بزرگ آدمی ہے جو ان کے ایک عدد گھر کا مالک ہے یہ سب اس بزرگ کو ماما اور گھر کو کیمپ کہہ کر پکارتے ہیں اس بزرگ یعنی ماما نے یہ گھر نما کیمپ چار ہزار چھ سو ساتھ دن پہلے بنایا ہے۔

مگر اب وہ اپنے اس گھر کو مٹاکر ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ وہ روزانہ کی بنیاد پر ایک ذمہ داری نبھا رہا ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ لہذا وہ بس لڑ رہا ہے فیملیز کو ساتھ ملا رہا ہے سب کندھے سے کندھا ملا کر نبھا رہے ہیں۔ ان کا گھر ہے کہاں اور ان کا یہ ماما ہے کون؟ اس گھر میں سامان کیا ہے؟ یہ فیملز چاہتی کیا ہیں اور یہ کون ہیں؟ کیا یہ فیملی کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی سے ناراض ہے خائف ہے؟ جی ہاں یہ عدلیہ نامی شہ سے ناامید ہیں آہین اور قانون سے گلہ مند ہیں ان کے بقول نہ انھیں کوئی انسان سمجھتا ہے نہ انھیں ان کے حقوق دیے جاتے ہیں لہذا انسانی حقوق نامی شہ کس چیز کا نام ہے اور کس مرض کی دوا ہے؟ یہ وکیلوں اور بلوچ وکیلوں سے ان کی نالائقی سے ان کی منافقت لالچ اور خود غرضی مطلب پرستی سے نالاں ہیں، ان کی حوس اور حرس پرستانا نظریں ان کو چبتی ہیں۔

ہاں یہ ہمیشہ گھومتے پھرتے ہیں یہ آپ کو ہر پریس کلب ہر چوک ہر سڑک پر ملینگے۔ ان کا آبائی گھر تو کوئٹہ پریس کلب نامی بے ھس عمارت کے سامنے ہے جہاں نزدیک ہی ایک اور پتھر نما سنگدل شہ یا پہاڑ عدالت کے نام سے موجود ہے جسے عدالت عالیہ کہتے ہیں اور عالیہ بھی اس سے زیادہ اختیار دار ہے اس کے نزدیک ہی یہ ایک ٹینٹ نما گدان میں رہتے ہیں ان کے ہاں مہمان جوک در جوک آتے رہتے ہیں ان کے گھر میں نہ راشن نہ الماری نہ کپڑے نہ کھانے پینےکی چیز ہے ان کے ہاں لفظ بھوک ہڑتال مظاہرہ دھرنہ ریلی احتجاج بہت مشہور ہیں۔ اس کی کل ملکیت نہ سونا ہے نہ چاندی بس تصویریں ہی تصویروں ہیں انھوں وئے تصویروں کا پورا اسٹوڈیو سجایا ہے اس میں وہی گھر کا سربراہ جسے سب ماما پکارتے ہیں صبح نو بجے سے شام پانج بجے تک بیٹھا رہتا ہے ویسے ہمارے ہاں کسی کو ماما کہنے کا مطلب یار باش ہے، مگر اس ماما کی مانگ سن کر اچھے اچھوں کی ہوش اڑ جاتے ہیں۔ یہ ہر آنے جانے والے کو خوش آمدید کرتا ہے یہ جب زیادہ درد اور تکلیف میں ہو تو بمعہ فیملی کے کراچی پریس کلب اسلام آباد پریس کلب فدا شہید چوک تربت اور گورنر چوک کوئٹہ میں جاہیداد بناکر عارضی قیام کرتانظر آتا ہے یہ فیملی تھکتا نہیں ہے بھکتے نہیں ہیں عجیب دیوانے لوگ ہیں بس ہر وقت ہر لمحہ بازیاب کرو بازیاب کرو عدلیہ کے سامنے پیش کرو پکارتے رہتے ہیں۔ جی ہاں یہ ہیں بلوچ مسنگ پرسنز کی فیملی۔ جب کھبی اور کسی بھی ذریعے سے آپ کا ان سے ملاقات یا واسطہ ہو تو یہ اپنی تعروف فیملیز کہہ کر کرتے ہیں یعنی متاثرین یا متاثرہ فیملی، کسی کا باپ کسی کا بھائی کسی کی اولاد کسی کا شوہر غائب ہیں۔ ان کیمپوں نے گزشتہ بیس سالوں میں ایک نئی نسل پیدا کی ہے جو ان کیمپوں پریس کلبوں سڑکوں اور چوراہوں پر پھلے پڑے اور بڑے ہوئے ہیں۔ یہ واقعی فیملیز ہیں۔ بس کوئی سمجھنے اور احساس کرنے والا ہو۔

Share