Report

بلوچستان میں صحافت اور صحافتی تربیتی ورکشاپ کی اشد ضرورت: اسماعیل عمر بلوچ

حال ہی میں سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹیڈیز کے زیر اہتمام بلوچستان کے نوجوان صحافیوں کے لیے دو روزہ تربیتی ورکشاپ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقد کی گئی جس میں مختلف صحافتی موضوعات پر پاکستان اور انٹرنیشنل میڈیا ہاوسسز کے سنئیر تجربہ کار صحافیوں نے دو روزہ تربیتی ورکشاپ میں بلوچستان کے نوجوان صحافیوں کو ٹریننگ دی

سی آر ایس ایس کے زیر اہتمام دو روزہ ورکشاپ میں بلوچستان کے کُل سات مرد و خواتین نوجوان صحافی شامل تھے جن میں بیشتر کا تعلق مکران کے ضلع کیچ ، گوادر ، پسنی ، اور پنجگور سے تھا اور اُن سات صحافیوں میں سے ایک خوش قسمت میں بھی تھا جو مجھے اس طرح کا موقع فراہم ہوا۔

یقیناً بلوچستان میں رہنے اور بسنے والے اس بات سے واقفیت رکھتے ہیں کہ نیشنل اور انٹرنیشل میڈیا میں بلوچستان اور وہاں کے مسائل غائب ہی نظر آتے ہیں اس لیے وہاں لوگوں کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے تو میڈیا کو ہی موردالزام ٹھہرایا جاتا ہے۔

مگر بد قسمتی سے بلوچستان میں صحافیوں کے دیگر اہم مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ اُنکی صحافتی شعبے میں تربیت کا فقدان نظر آتا ہے کہ کس طرح صحافی ایک ذمہ دار صحافت کا فریضہ ادا کرسکے کیونکہ بلوچستان میں بیشتر صحافیوں کی تربیت ہی نہیں ہوتی ۔

ہائبرڈ وار فیئر کے اس جنگ میں سوشل میڈیا کے زریعے “Fake news” پروپیگنڈہ اور مس انفارمیشن نے میڈیا ہاوسسز سمیت صحافی ، پولیٹکل پارٹیز اور پورے سماج کو لپٹ کر جکڑ کر رکھا دیا ہے ان چیزوں کو سمجھنے اور پرکنے کے لیے ضروری ہے کہ بلوچستان کے صحافیوں کی تربیت کی جائے تاکہ “ Fact” صحیح معنوں میں بْیان ہوسکیں۔

ان تمام باتوں کا مجھے ادراک سی آر ایس ایس کے زیر اہتمام دو روزہ تربیتی ورکشاپ میں ہوا کہ عوامی مفاد میں بامقصد اور ذمہ دار صحافت کیسے ممکن ہوسکتا ہے ۔
اقتصادی اور معاشی جنگ میں انٹرنیشنل میڈیا کس طرح “narrative “ بلڈ کرسکتا ہے اور factual صحافت کیا ہے ۔

سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹیڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناب امتیاز گُل صاحب کی زاتی خواہش پر پسماندہ بلوچستان کے نوجوان صحافیوں کے لیے اس طرح کے ورکشاپ منعقد کروانا ہماری لیے کسی نعمت سے کم نہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے وہ تمام صحافتی تنظمیں خاص طور پر بلوچستان میں صحافت کی ترقی کے لیے اس طرح کے تربیتی ورکشاپ سیمینار منعقد کروائیں تاکہ بلوچستان میں پروفیشنل طریقے سے صحافت کا آغاز ہوسکے۔

Share